پیرس: ایک تازہ تحقیق کے مطابق، ہم روزانہ تقریبا 68,000 مائیکروپلاسٹک ذرات اپنے جسم میں سانس کے ذریعے داخل کرتے ہیں، جن کا قطر 1 سے 10 مائیکرو میٹر کے درمیان ہوتا ہے۔
فرانس کی ٹولوز یونیورسٹی کی ٹیم نے مختلف اپارٹمنٹس اور گاڑیوں کی ہوا کے نمونوں کا تجزیہ کیا تاکہ مائیکروپلاسٹک ذرات کی تعداد کا اندازہ لگایا جا سکے۔ تحقیق سے پتا چلا کہ گھروں میں تقریباً 528 مائیکروپلاسٹک ذرات فی مکعب میٹر (particles/m³) موجود ہیں، جبکہ گاڑیوں میں یہ تعداد زیادہ یعنی 2238 particles/m³ تھی۔
ماہرین نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ یہ تعداد پہلے کیے گئے تخمینوں سے تقریباً 100 گنا زیادہ ہے۔ ان ذرات کی بڑی تعداد کی موجودگی ہماری صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق، ہر شخص یومیہ تقریباً 3,200 بڑے مائیکروپلاسٹک ذرات بھی سانس کے ذریعے اپنے جسم میں لے رہا ہے، جن کا قطر 10 سے 300 مائیکرو میٹر تک ہوتا ہے۔
یہ چھوٹے مائیکروپلاسٹک ذرات انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ آسانی سے ہمارے پھیپھڑوں، خون اور دماغ جیسے حساس حصوں میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ان ذرات کا جسم میں جمع ہونا سوزش، ہارمونز میں بگاڑ اور سنگین حالات میں اعضاء کے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مائیکروپلاسٹک کے صحت پر اثرات کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس کے ممکنہ طویل المدتی اثرات کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے۔