Wed, September 16, 2026

ٹرمپ کا 'مشن مشرقِ وسطیٰ': ایران کے ساتھ جنگ 6 ہفتوں میں سمیٹنے کا حکم، چینی صدر سے ملاقات پر نظریں

ٹرمپ کا 'مشن مشرقِ وسطیٰ': ایران کے ساتھ جنگ 6 ہفتوں میں سمیٹنے کا حکم، چینی صدر سے ملاقات پر نظریں

نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی مہم جوئی کو محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ امریکی اخبار 'وال سٹریٹ جرنل' کی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری تنازع کو مئی تک ختم کرنے کے لیے بے تاب ہیں تاکہ وہ اپنی دیگر بڑی سیاسی ترجیحات کو وقت دے سکیں۔
رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ایران کے ساتھ کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے 4 سے 6 ہفتوں کا ہدف مقرر کیا ہے۔ صدر ٹرمپ مئی میں چینی صدر کے ساتھ ہونے والی 'ہائی پروفائل' سمٹ سے پہلے اس جنگی صورتحال کو سمیٹنا چاہتے ہیں تاکہ بیجنگ کے ساتھ مذاکرات کے وقت ان کی پوری توجہ عالمی تجارتی امور پر ہو۔
امریکی پالیسی میں ایک طرف نرمی تو دوسری طرف سختی نظر آ رہی ہے۔    خطے میں ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مزید امریکی دستے روانہ کر دیے گئے ہیں۔    عسکری قوت کے ساتھ ساتھ پسِ پردہ سفارتی مشینری کو بھی متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ جنگ کا کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکے۔
اخبار نے خبردار کیا ہے کہ تاحال کسی ٹھوس معاہدے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھنے والی آبنائے ہرمز کی بندش برقرار ہے، جو واشنگٹن کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

ٹیگز: