Wed, September 16, 2026

بلدیاتی نظام کی تبدیلی۔۔ایک خواب

بلدیاتی نظام کی تبدیلی۔۔ایک خواب


ایک بار مرکز اور تین بار خیبرپختونخوا میں حکومت اور اقتدار ہاتھ میں آنے کے باوجود انصاف عام، احتساب سرعام اور اقتدار میں عوام کا خواب پورا نہ ہو سکا۔ یہ وہ نعرہ تھاجسے پی ٹی آئی نے اپنامنشوربنایااوراسی نعرے پرخیبرپختونخواکے عوام نے ایک اوردونہیں بلکہ تین بارصوبے کی حکمرانی تحریک انصاف کی جھولی میں ڈالی لیکن انصاف کی نظرسے اگردیکھااورپرکھاجائے توپی ٹی آئی نے مجموعی طورپران تین واریوں میں یہاں کے عوام کو مایوسی اور پسماندگی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ماناکہ پی ٹی آئی کے پہلے دورمیں بلدیاتی نظام کے ذریعے چھوٹے موٹے کام ضرور ہوئے لیکن اس کے بعد پھر خاموشی ہی رہی۔ پی ٹی آئی کی اسی وقتی تبدیلی سے عوام تو بیزار تھے ہی پر اب کپتان کے اپنے کھلاڑی بھی اس نام نہاد تبدیلی سے مایوس دکھائی دینے لگے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی نظام کے اختتام پر تحریک انصاف کے اپنے ہی بلدیاتی ممبران، ناظمین اور چیئرمینوں کے چہروں پر مایوسی اور پریشانی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ لبوں پرشکوے اور شکایتوں کے انبارلئے ہرممبراورچیئرمین تبدیلی سے ایسامایوس نظرآیاکہ جیسااس کاتعلق کسی اورپارٹی سے ہو۔دراصل خیبر پختونخواوہ واحدصوبہ ہے جہاں تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے کے بعد بلدیاتی نظام کو اپنی بڑی کامیابیوں میں شمار کیا اور اسے جمہوریت کی مضبوطی اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا عملی نمونہ قرار دیالیکن ان کے تیسرے دوراقتدارمیں بلدیاتی مدت کے اختتام پرپی ٹی آئی کے اپنے ہی ممبران کے لٹکتے چہروں کودیکھ کرایک سوال باربار سامنے آرہاہے کہ تحریک انصاف کے دوراقتدارمیں کیا واقعی مقامی حکومتوں کو وہ اختیارات، وسائل اور خودمختاری دی گئی جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔۔؟الوداع کہنے والے ممبران یہ سوال سن کرآبدیدہ ہوجاتے ہیں۔جمہوریت کی اصل روح اقتدارمیں عوام کی شمولیت اور ان کے مسائل کا مقامی سطح پر حل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بلدیاتی اداروں کو ریاستی نظام کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف نے بھی شروع سے لیکرآخرتک یہ موقف اختیار کیا کہ مرکزیت زدہ نظام عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹ ہے اور اقتدار کو گا¶ں، محلوں اور یونین کونسلوں تک منتقل کئے بغیر حقیقی تبدیلی ممکن نہیں اوریہ حقیقت بھی ہے لیکن خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کا تجربہ اس دعوے سے مختلف بلکہ بہت مختلف نظر آتا ہے۔بلدیاتی انتخابات کے بعد ہزاروں منتخب ممبران، چیئرمینوں، کونسلروں اور دیگر نمائندوں نے اپنے علاقوں میں عوامی خدمت کے خواب کے ساتھ ذمہ داریاں سنبھالیں۔ لوگوں نے ان سے امیدیں وابستہ کیں کہ وہ بنیادی سہولیات کی فراہمی، سڑکوں کی تعمیر، نکاسی آب، صاف پانی، گلیوں کی پختگی اور دیگر مقامی مسائل کے حل میں کردار ادا کریں گے مگرحالیہ بلدیاتی دوراورمدت میں عملی طور پر بیشتر نمائندے وسائل کی کمی اورمسائل کاایسا شکار رہے کہ اقتدارکے پورے عرصے میں وہ اپنے ووٹروں اورسپورٹروں کو دوربین میں بھی نظرنہیں آئے۔ترقیاتی فنڈز کی عدم دستیابی بلدیاتی نظام کی سب سے بڑی کمزوری بن کر سامنے آئی۔ متعدد علاقوں میں منتخب نمائندے اپنی مدت پوری کرنے کے باوجود کوئی نمایاں ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں کر سکے۔ اس کی بنیادی وجہ ان کی نااہلی نہیں بلکہ وسائل اور اختیارات کی کمی تھی۔ عوام کے نزدیک نمائندہ ہی جوابدہ ہوتا ہے۔ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ فنڈز کہاں سے آتے ہیں یا اختیارات کس کے پاس ہیں۔؟ بلکہ وہ اپنے منتخب نمائندے سے نتائج چاہتے ہیں۔ چنانچہ جب بلدیاتی نظام کے ذریعے ترقیاتی کام نہیں ہوئے تو عوامی تنقید کا رخ بھی انہی نمائندوں کی طرف ہوا۔ بہت سے ممبران اپنے حلقوں میں شرمندگی، مایوسی اور سیاسی دبا¶ کا شکار رہے۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنے کے دعو¶ں کے باوجود صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کا اثر و رسوخ برقرار رہا۔ متعدد معاملات میں مقامی حکومتوں کو مکمل انتظامی آزادی حاصل نہ تھی جس کے باعث عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر اور پیچیدگیاں پیدا ہوتی رہیں۔ اختیارات کی حقیقی منتقلی صرف انتخابات کرانے سے نہیں ہوتی بلکہ مالی اور انتظامی خودمختاری سے ممکن ہوتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر ایک منتخب بلدیاتی نمائندہ اپنے علاقے میں ایک نالی، ایک سڑک یا ایک واٹر سپلائی سکیم تک مکمل نہ کروا سکے تو عوام کے نزدیک اس کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔۔؟ پھر ایسی صورت حال میں بلدیاتی ادارے عوامی خدمت کے مراکز کے بجائے محض سیاسی نمائندگی کی علامت بن کر رہ جاتے ہیں۔خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نظام کا تجربہ کئی اہم اسباق چھوڑ گیا ہے۔سب سے اہم سبق یہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کو صرف آئینی ضرورت یا سیاسی نعرے کے طور پر نہیں بلکہ حکمرانی کے ایک م¶ثر نظام کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ مقامی حکومتوں کو مستقل مالی وسائل، ترقیاتی فنڈز، منصوبہ بندی کے اختیارات اور انتظامی خودمختاری فراہم کئے بغیر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔ ہمارا تومشورہ یہ ہے کہ نئی بلدیاتی مدت کے آغاز سے قبل ماضی کی کمزوریوں کا دیانتداری سے جائزہ لیا جائے۔ اگر عوام کے منتخب نمائندوں کو وسائل اور اختیارات فراہم کئے جائیں تو وہ نہ صرف مقامی مسائل کے حل میں م¶ثر کردار ادا کر سکتے ہیں بلکہ جمہوری نظام پر عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط بنا سکتے ہیں۔بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسری ہوتے ہیں۔ اگر اس نرسری کو پانی، وسائل اور توجہ نہ دی جائے تو جمہوریت کا درخت کبھی تناور نہیں ہو سکتا۔ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کی گزری ہوئی مدت اسی حقیقت کی ایک واضح مثال ہے کہ اختیارات کے بغیر نمائندگی اور وسائل کے بغیر ذمہ داری دونوں مل کر جمہوریت کو کمزور کرتے ہیں۔ 

ٹیگز: