Wed, September 16, 2026

اسلام آباد میں نیا بلدیاتی نظام، صدر نے مقامی حکومت آرڈیننس جاری کر دیا

اسلام آباد میں نیا بلدیاتی نظام، صدر نے مقامی حکومت آرڈیننس جاری کر دیا


اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی نظام کے قیام کے لیے اسلام آباد مقامی حکومت آرڈیننس جاری کر دیا ہے، جس کے تحت موجودہ نظام میں بڑی انتظامی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

آرڈیننس کے مطابق میٹرو پولیٹین کارپوریشن ختم کر دی گئی ہے اور اس کی جگہ ٹاؤن کارپوریشنز قائم ہوں گی۔ اسلام آباد کو قومی اسمبلی کے حلقوں کے مطابق تین ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کیا گیا ہے، جبکہ ہر ٹاؤن کارپوریشن میں یونین کونسلز کی تعداد حکومت نوٹیفائی کرے گی۔

آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ جب تک مقامی حکومتیں فعال نہیں ہوتیں، حکومت کی جانب سے ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا جائے گا۔ حکومت عوامی اعتراضات اور سفارشات کی بنیاد پر ٹاؤن کارپوریشن اور یونین کونسل کی حدود میں ترمیم کر سکے گی، تاہم الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد تبدیلی کی اجازت نہیں ہوگی۔

آرڈیننس کے تحت ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک میئر اور دو ڈپٹی میئر ہوں گے، جبکہ یونین کونسل کے چیئرمین بطور جنرل ممبر ٹاؤن کارپوریشن کا حصہ ہوں گے۔ خواتین، کسان یا ورکر، تاجر، نوجوان اور غیر مسلم نمائندوں کے لیے مخصوص نشستیں بھی رکھی گئی ہیں۔

یونین کونسل کے جنرل ممبران کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوگا اور کامیاب امیدوار 30 دن کے اندر کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔ میئر اور ڈپٹی میئر سمیت دیگر عہدوں کا انتخاب شو آف ہینڈ کے ذریعے کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ صدرِ مملکت نے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے سے ایک دن قبل چار آرڈیننس جاری کیے تھے۔

ٹیگز: