14 اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو قائد اعظم پہلے گورنر جنرل جبکہ لیاقت علی خان پہلے وزیراعظم بنے۔ آزادی کا پہلا سال مہاجرین کی بحالی اور انتظامی ڈھانچہ کی تشکیل جیسے مسائل کی نذر ہو گیا۔ قدرت نے بانیٔ پاکستان کو زیادہ مہلت نہ دی اور وہ 11 ستمبر 1948 ء یعنی قیام پاکستان سے محض 13 ماہ بعد ہی اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ قائد اعظم کی رحلت کے بعدخواجہ نظام الدین نے گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالا۔نوخیز وطن ابھی اپنی تشکیل اور استحکام کی کوششوں میں لگا تھا کہ16 اکتوبر 1951 ء کو لیاقت علی خان کو ایک جلسہ عام کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ لیاقت علی خان کے بعد خواجہ ناظم الدین وزیراعظم جبکہ ملک غلام محمد گورنر جنرل بن گئے۔ ملک غلام محمد نے 1953ء میں خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر کے منتخب حکومتوں کو برطرف کرنے کی ایسی غلط روایت قائم کی کہ اس کے بعد متعدد حکومتیں اس کا شکار ہوئیں۔خواجہ ناظم الدین کے بعد امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر محمد علی بوگرا وزیراعظم بن گئے۔رفتہ رفتہ ملکی اقتدار ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں چلا گیا جن کا تحریک پاکستان سے براہ راست کوئی زیادہ تعلق نہ تھا یہی وجہ تھی کہ وطن عزیز اپنے قیام کے مقاصد سے بھی دور ہوتا گیا ۔
پاکستان کی 78 سالہ سیاسی تاریخ کا اگر مختصر جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ لیاقت علی خان کی وفات سے لیکر آج تک ملک زیادہ تر سیاسی عدم استحکام کا شکار ہی رہا ۔ محمد علی بوگرا کے استعفیٰ کے بعد چوہدری محمد علی نے وزارت عظمیٰ سنبھالی۔ غلام محمد نے اکتوبر 1955ء کو خرابی ٔ صحت کی بنا پر اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیا تو سکندر مرزا نئے گورنر جنرل بن گئے۔ 1956 کے آئین میں گورنر جنرل کا عہدہ ختم کر کے اس کی جگہ صدر کا عہدہ لایا گیا تو 23 مارچ 1956 ء کو سکندر مرزا ملک کے پہلے صدر بنے۔ 1956ء سے 1958ء تک ملک سیاسی انتشار کا شکار رہا، چوہدری محمد علی کے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ کے بعد حسین شہید سہروردی، آئی آئی چندریگر اور فیروز خان نون مختصر عرصہ کیلئے وزرائے اعظم رہے ۔ حکومتیں ملکی حالات کنٹرول کرنے میں ناکام رہیں تو جنرل ایوب خان نے اکتوبر 1958ء میں پہلا
مارشل لا نافذ کر کے اقتدار خود سنبھال لیا۔ مارشل لا کے نفاذ اور آئین کی منسوخی کے نتیجے میں وزیراعظم کا عہدہ ختم اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی۔ جنرل ایوب خان کے اقتدار کا خاتمہ 1969 ء میں ہوا جب انہوں نے بگڑتے ملکی حالات اور احتجاجی مظاہروں کے بعد اقتدار جنرل یحییٰ خان کے سپرد کر دیا۔ جنرل یحییٰ خان نے ملک میں عام انتخابات کا اعلان کیا۔ 1970ء کے انتخابات میں مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ اور مغربی پاکستان سے پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی۔ اقتدار کی رسہ کشی کا آغاز ہوا اور بالآخر اپنوں کی نااہلی اور دشمنوں کی سازشوں سے پاکستان دولخت ہو گیا۔ موجودہ پاکستان کا اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کے حصہ میں آگیا اور انہوں نے عنانِ اقتدار سنبھالنے کے بعد نیا آئین بنانے کی کوششوں کا آغاز کیا۔ تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے بننے والا آئین 14 اگست 1973 ء کو نافذہوا ۔ملکی سیاست نے نئی کروٹ لینا شروع کی تو ذوالفقار علی بھٹو کے رفقاء نے انہیں قبل ازوقت انتخابات کا مشورہ دیا۔ عام انتخابات کا اعلان ہوا تو اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان قومی اتحاد کے پلیٹ فارم سے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔ اس کے بعد ملک میں ہنگاموں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور حالات خراب ہوتے گئے۔
5 جولائی 1977 ء کو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیااور ملک ایک بار پھر آمریت کی گود میں چلا گیا۔اس دور میں پیپلز پارٹی اور اس کے کارکنوں کو بدترین مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کوایک قتل کیس میں پھانسی دی گئی۔ 1985ء میں منعقدہ غیر جماعتی انتخابات کے بعد محمد خان جونیجو وزیراعظم بن گئے۔ 1987 ء میں جنرل ضیاء الحق طیارہ حادثہ میں اللہ کے حضور پیش ہو گئے تو غلام اسحاق خان ملک کے صدر بنے۔ 1988ء سے 1999 ء تک ملکی اقتدار بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے ارد گرد گھومتا رہا اور دونوں دو دو بار وزیراعظم بنے۔ 12 اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور یہاںچوتھی بار مارشل لا نافذ ہو گیا۔ یہ مسلم لیگ (ن) اور اس کے کارکنوں کیلئے بڑا سخت اور ابتلا کا دور تھا‘ میاں نواز شریف کو دسمبر 2000ء میں فیملی سمیت جلا وطن کر دیا گیا۔ 2002ء کے انتخابات میںمسلم لیگ (ق) نے کامیابی حاصل کی۔ پہلے میر ظفر اللہ خان جمالی اور بعد ازاں شوکت عزیز وزیراعظم بنے۔ 27دسمبر 2007ء کو انتخابی مہم کے دوران بے نظیر بھٹو کو قتل کر دیا گیا۔ 2008ء کے انتخابات ہوئے تو نتائج پیپلز پارٹی کے حق میں آئے اور یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بن گئے ۔2008ء میں ہی جنرل پرویز مشرف کے دورِ صدارت کا خاتمہ ہوا اور آصف علی زرداری صدرِ پاکستان منتخب ہو گئے۔ 2011ء میں تحریک انصاف نے مینار پاکستان پر بہت بڑا جلسہ کیا جس نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی۔ اپنے قیام کے 15برس بعد اس جماعت کو اتنی پذیرائی ملنے پر سیاسی تجزیہ کار حیران رہ گئے۔ 2013ء کو منعقدہ انتخابات میں مسلم لیگ( ن) نے کامیابی حاصل کی تو نواز شریف تیسری بار وزیراعظم منتخب ہو ئے۔ عمران خان نے انتخابی نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور تحریک انصاف نے دھاندلی کیخلاف ملک گیر احتجاج کا آغاز کر دیا۔ سیاسی ہنگاموں کے دوران پانامہ لیکس آگیا جس میں شریف فیملی کے بچوں کے نام بھی تھے ۔سپریم کورٹ نے 2017 ء میں میاں نواز شریف کو تا حیات نااہل قرار دیا، بعد ازاں انہیں پارٹی صدارت سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔ شاہد خاقان عباسی نئے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ 2018 ء کے انتخابات میں تحریک انصاف نے کامیابی حاصل کی اور عمران خان پہلی بار وزیراعظم بن گئے۔ عمران خان نے اپنی انتخابی مہم کے دوران عوام کو جو سبز باغ دکھائے اور نظام میں تبدیلی کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا نہ ہو سکا۔ 2022ء میں عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو شہباز شریف وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ 2024ء میں ہونیوالے انتخابات کے بعد شہباز شریف دوسری بار وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں اور موجودہ سیاسی سیٹ اپ چل ریا ہے۔ ہمارے ہاں نظام میں تبدیلی کے خواب تو بہت دکھائے جاتے ہیں لیکن یہ ابھی تک محض سراب ہی ثابت ہوئے ہیں۔ اللہ کرے نظام میں ایسی تبدیلی آئے جو حقیقت میں عوامی مسائل کے حل میں ممدومعاون ثابت ہو۔