Wed, September 16, 2026

رائے عامہ ۔۔ اور میاں نواز شریف

رائے عامہ ۔۔ اور میاں نواز شریف

پاکستان کے سیاسی افق پر تا دیر پوری تمازت، چمک دمک اور آب و تاب کیساتھ درخشندہ رہنے والے میاں نواز شریف کے سیاسی و ذاتی ہمسفروں و ہم رکابوں کی فہرست ظاہر ہے بہت طویل ہو گی مگر حالیہ دنوں میں مجھے ایک ایسی شخصیت کی خود نوشت پڑھنے کا موقع ملا جن کی زندگی کا بڑا حصہ بلکہ بہت اہم حصہ میاں نواز شریف کے ساتھ گزرا۔ جی ہاں یہ ہیں دو ادوار میں میاں نواز شریف کے ساتھ بطور پریس سیکرٹری ٹو وزیراعظم کام کرنے والے رائے ریاض حسین جنہوں نے بیورو کریسی کے اعلیٰ مناصب سے ہوتے ہوئے سیاست اور سماجی خدمات کی پُر خار وادیوں سے گزرنے کے اپنے تجربات و مشاہدات کو ’’رائے عامہ‘‘ نام سے قلمبند کیا ہے۔ سیاست اور صحافت کے طالبعلم کے طور پر میں کسی بھی زندہ شخص کی خود نوشت کو مستند ترین حوالہ اس لیے بھی سمجھتا ہوں کہ یہ فرسٹ ہینڈ انفارمیشن کے ساتھ ساتھ بوقت ضرورت سند کی حیثیت بھی رکھتی ہوتی ہے۔ رائے صاحب کے علاوہ قلم فائونڈیشن کے مشہورِ زمانہ علامہ عبدالستار عاصم بھی تحسین و تہنیت کے مستحق ہیں کہ شدت، حدّت اور حبس کے موسم میں انہوں نے ایک ایسی معلومات افزا اور تر و تازہ کتاب بھجوائی کہ دل و نگاہ طمانیت سے لبریز ہوئے۔ دراصل کسی دوسرے کے بارے میں رائے دینا دنیا کا آسان ترین کام ہے اور اسی لیے ہم میں سے کچھ لوگ یہ کام بڑے طمطراق سے کر رہے ہوتے ہیں اگرچہ انکی معلومات صفر ہی کیوں نہ ہو بس مرچ مسالا تیکھا ہے تو بات بن جائے گی بلکہ بنتی چلی جائے گی۔ حالانکہ صرف اس رائے کا احترام کیا جانا چاہیے اور اس پر اعتماد کیا جانا چاہیے جس کے پیچھے ثقہ معلومات کا خزانہ اور مشاہدہ کارفرما ہو۔ وزیراعظم ہائوس اور انکے سٹاف کے سٹرکچر کے بارے معمولی سی معلومات رکھنے والا ایک عام باشعور شخص بھی بخوبی جانتا ہے کہ پریس سیکرٹری کسی بھی وزیراعظم کی آنکھ اور اس کے کان کی مانند اس کے محسوسات کیساتھ جڑا ہوتا ہے۔ اس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ وزارت عظمیٰ کے اس عظیم منصب کے تحفظ اور وقار میں اضافے کی بابت ہر وقت چوکنا رہے اور رائے عامہ کو ہموار رکھنے کی خاطر مصروف عمل رہے۔ ایسے میں ایسا بہت کچھ ہوتا ہے جو بندے کے ذاتی علم میں آتا ہے اور شخصیت کو جانچنے کا موقع ملتا ہے۔ رائے صاحب نے اپنی خود نوشت میں ایک سے زائد مرتبہ اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ میاں نواز شریف ذاتی اور شخصی خوبیوں کی دولت سے مالا مال ہیں جن میں عاجزی، ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبات نمایاں ہیں۔ دوسروں کیلئے گنجائش پیدا کرنا، عزت دینا، جذبہ ایثار اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرنا تصنع سے نہیں ہو سکتا یہ وصف یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا، اس کا دکھاوا نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے پیارے نبیؐ  کے ایک فرمان مبارک کا مفہوم ہے کہ اگر کسی کی اصلیت جاننا چاہو تو اس کے ساتھ سفر کرو تم اس کی حقیقت کو پا لو گے۔ ظاہر ہے پریس سیکرٹری کو بے شمار مرتبہ وزیراعظم کے ساتھ سفر کرنے کا موقع ملتا ہے۔ سب کا احوال بیان کرنا مقصود نہیں صرف ایک مقدس سفر اور بڑی بارگاہ میں حاضری کی داستان رائے صاحب یوں لکھتے ہیں ’’روضہ رسولؐ پر یہ وسیع الظرفی اور وسیع القلبی صرف میاں صاحب کی شخصیت کا ہی حصہ ہے کہ وہ روضہ پاکؐ کے دروازے میں داخل ہونے کی بجائے ہٹ کر کھڑے ہو گئے اور سٹاف کو پہلے داخل ہونے کی اجازت دے دی۔ گو اس وقت حالت بہت غیر تھی مگر یہ مہربانی مجھے مرتے دم تک یاد رہے گی کہ روضہ رسولؐ میں ہم (پانچ یا سات افسران) پہلے داخل ہوئے اور میاں صاحب بعد میں، انکی شخصیت کا یہ پہلو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ بعد میں واقفان ِ کار نے بتایا کہ اگر میاں صاحب پہلے داخل ہو جاتے تو احتمال تھا کہ دروازہ بند کر دیا جاتا اور باقی لوگ اس سعادت سے محروم رہ جاتے‘‘ یہ تو تھا سفر، اب حضر کے متعلق لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ جاتی امرا میاں صاحب کے گھر کسی ضروری میٹنگ کیلئے جانا ہوا تو معلوم ہوا میاں صاحب اس وقت گول کوٹھی میں موجود ہیں، یہ غالباً میاں شریف کی رہائش کیلئے خاص تھی۔ جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ دروازے کے باہر کچھ جوتے پڑے ہیں جس سے اندازہ ہو گیا کہ اندر جوتوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ ہم بھی جوتے اتار کر اندر گئے، ڈرائنگ روم میں میاں صاحب سے ملاقات ہوئی، کھانا آیا تو ہمیں خود اپنے ہاتھ سے کھانا ڈال کر دینے لگے۔ خیر رات گئے جب ہم واپس جانے کیلئے باہر نکلے تو کیا دیکھا کہ ہمارے جوتے صاف کر کے ترتیب سے اس رخ پہ رکھے ہوئے تھے جس رخ پہ پہنتے ہیں۔ مہمان داری کا یہ انداز دیکھ کر میاں صاحب کی عظمت کی داستانوں میں ایک اور سنہری باب کا اضافہ ہو گیا۔ میرا نہیں خیال کہ ایسی مہمان داری کسی اور سیاستدان یا وزیراعظم کے گھر پر ہوتی ہو گی جو ہم نے 1998 کی آدھی رات جاتی امرا کی گول کوٹھی کے دروازے پر دیکھی۔ 12 اکتوبر 1999 کے بعد کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے رائے صاحب نے جہاں وزیراعظم ہائوس کے اندرونی حالات کی حقیقت پر مبنی درست تصویر کشی کی ہے وہیں کئی ایک موہوم کرداروں کی بھی نقاب کشائی کی ہے۔ ایک جگہ دلچسپ پیرائے میں میاں صاحب کے من پسند کھانوں جیسے سری پائے، ہریسہ وغیرہ کے بارے میں ایک غلط تاثر کی نفی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسیری کے دوران متعدد جیل ملازمین اور میاںصاحب کے ناقدین حیران ہوتے کہ میاں صاحب شوربے والی مرغی، سفید کشمیری چاول اور سالم مسور کی دال رغبت سے کھاتے ہیں باقی سب کہانیاں ہیں جو مفروضے کے طور پر مشہور کی گئی ہیں۔ میاں صاحب کی جلا وطنی کے دنوں میں لندن میں ہونے والی ایک یادگار ملاقات کا احوال بھی اسی وفور شوق سے کرتے ہیں۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ رائے صاحب نے چار وزرائے اعظم کے ساتھ بطور پریس سیکرٹری کام کیا ہے مگر جس وارفتگی سے وہ میاں نوازشریف کا ذکر کرتے ہیں وہ متاثر کن ہے۔ حالانکہ اسی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ بعد از ریٹائر منٹ سعید مہدی کے کہنے پر طویل عرصہ میاں صاحب کے ساتھ بطور کنسلٹنٹ کام کیا لیکن جب عملی سیاست میں دلچسپی اور اپنے علاقے کی کسمپرسی کے پیش نظر اپنے آبائی حلقہ جھنگ سے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو رائے ریاض حسین میاں نواز شریف کیساتھ تمام تر قریبی تعلقات و خدمات کے باوجود مسلم لیگ ن کا ٹکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

ٹیگز: