Wed, September 16, 2026

کیا ایران نے تاریخی غلطی کر دی؟ 

کیا ایران نے تاریخی غلطی کر دی؟ 


تاریخ ہمیں بار بار یہ بنیادی سبق دیتی ہے کہ صرف جذبہ، نعرہ اور جوش کسی قوم کو جنگ میں کامیاب نہیں بناتے۔ جنگیں قوت، منصوبہ بندی، مضبوط معیشت، سفارت کاری، جدید ٹیکنالوجی اور قومی اتحاد کے امتزاج سے جیتی جاتی ہیں۔ اگر کوئی ریاست اپنے مخالف کی عسکری، معاشی اور سفارتی طاقت کا حقیقت پسندانہ اندازہ لگائے بغیر محاذ کھول دے تو اس کے نتائج صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری قوم، معیشت اور آنے والی نسلیں بھی اس کی قیمت ادا کرتی ہیں۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی نے بھی ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا ایسے وقت میں براہِ راست تصادم کا راستہ اختیار کرنا درست تھا جب مخالف فریق عسکری، اقتصادی اور عالمی اتحادیوں کے اعتبار سے کہیں زیادہ طاقتور دکھائی دیتا تھا؟ عقل، تاریخ اور ریاستی حکمتِ عملی یہی بتاتی ہے کہ اگر دشمن آپ سے کئی گنا زیادہ طاقت رکھتا ہو تو سب سے پہلے اپنی قوت میں اضافہ کیا جائے، اپنے وسائل مضبوط کیے جائیں، معیشت کو مستحکم کیا جائے، دفاعی صلاحیت بڑھائی جائے، عالمی حمایت حاصل کی جائے اور پھر کسی بڑے تصادم کا فیصلہ کیا جائے۔ بصورتِ دیگر ایسا قدم بعض اوقات بہادری سے زیادہ خود کو ایک ایسے امتحان میں ڈالنے کے مترادف بن جاتا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تلافی ہوتے ہیں۔
اسلامی تاریخ میں بھی حکمتِ عملی کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ واقع کربلا کے بعد جب اہلِ بیت کے چاہنے والوں کے دل ظلم کے خلاف انتقام کے جذبے سے بھرے ہوئے تھے تو مختار ثقفی نے فوری طور پر میدانِ جنگ کا رُخ نہیں کیا۔ انہوں نے پہلے اپنے ساتھیوں کو منظم کیا، سیاسی حمایت حاصل کی، اپنی قوت کو بڑھایا اور جب انہیں یقین ہو گیا کہ اب وہ مو¿ثر مزاحمت کر سکتے ہیں، تب انہوں نے قاتلانِ امام حسین کے خلاف کارروائی کی۔ اس واقعے سے بہت سے مو¿رخین اور اہلِ علم یہی سبق اخذ کرتے ہیں کہ صرف جذبہ کافی نہیں ہوتا، بلکہ کامیابی کے لیے تیاری، تنظیم، صبر اور طاقت بھی ضروری ہوتی ہے۔ یہی اصول جدید ریاستوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جنگ شروع کرنا نسبتاً آسان، لیکن اسے اپنی شرائط پر ختم کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ایک غلط فیصلہ برسوں کی معاشی ترقی، قومی استحکام اور عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لیے دنیا کی کامیاب ریاستیں جذبات کے بجائے طویل المدتی منصوبہ بندی کو ترجیح دیتی ہیں۔ یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ حالیہ بحران کے دوران پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر متحرک کردار ادا کیا اور امن کی کوششوں کی حمایت کی۔ ایسے وقت میں اگر ایران کو محسوس ہوتا تھا کہ امریکہ یا اسرائیل اس کے خلاف مزید سخت اقدامات کی طرف بڑھ رہے ہیں تو وہ پاکستان جیسے دوست ملک کو مزید فعال سفارتی کردار ادا کرنے کا موقع دے سکتا تھا۔ پاکستان امریکہ سمیت مختلف ممالک کے ساتھ اپنے روابط استعمال کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر سکتا تھا۔ اگر تمام سفارتی راستے ناکام ہو جاتے، مذاکرات کے تمام دروازے بند ہو جاتے اور کوئی امید باقی نہ رہتی، تب عسکری جواب کو آخری راستے کے طور پر اختیار کیا جا سکتا تھا۔ لیکن جب براہِ راست حملے شروع ہو جائیں تو ثالثی کی گنجائش بھی محدود ہو جاتی ہے اور وہ ممالک بھی مو¿ثر کردار ادا نہیں کر پاتے جو تنازع ختم کرانے کی خواہش رکھتے ہوں۔
آج کی دنیا میں جنگ صرف توپ، ٹینک اور میزائل سے نہیں لڑی جاتی بلکہ سفارت کاری، معیشت، میڈیا، عالمی رائے عامہ اور بین الاقوامی اتحاد بھی جنگ کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ کئی مرتبہ وہ ریاست زیادہ کامیاب ثابت ہوتی ہے جو میدانِ جنگ سے پہلے سفارتی محاذ پر کامیابی حاصل کر لے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی عالمی طاقتیں بھی براہِ راست جنگ سے پہلے پابندیوں، مذاکرات، سفارتی دباو¿ اور اتحادیوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ آج بعض مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر اس جنگ کے نتیجے میں ایران شدید کمزور ہو جاتا ہے تو کیا اس سے اسرائیل کی علاقائی پوزیشن مزید مضبوط نہیں ہو گی؟ کیا اس سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن مزید تبدیل نہیں ہو گا؟ اور کیا اس صورتِ حال سے وہ قوتیں فائدہ نہیں اٹھائیں گی جو خطے میں اپنے طویل المدتی منصوبوں کو آگے بڑھانا چاہتی ہیں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن پر جذبات کے بجائے حقیقت پسندانہ انداز میں غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر خودمختار ریاست اپنے دفاع اور سلامتی کے بارے میں فیصلے خود کرتی ہے، اور مختلف تجزیہ کار انہی فیصلوں کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ بعض کے نزدیک جارحیت کا فوری جواب دینا ضروری ہوتا ہے، جبکہ دوسرے یہ رائے رکھتے ہیں کہ اگر وسائل محدود ہوں تو براہِ راست بڑی جنگ سے حتی الامکان گریز کرنا زیادہ دانش مندی ہوتی ہے۔ یہی اختلافِ رائے بین الاقوامی سیاست کا حصہ ہے۔ حقیقی کامیابی صرف میدانِ جنگ میں گولیاں چلانے سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات جنگ کو مو¿خر کرنا، وقت حاصل کرنا، اپنی طاقت میں اضافہ کرنا، معیشت کو مضبوط کرنا اور بہتر سفارتی حکمتِ عملی اختیار کرنا بھی ایک بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے جذبات کے بجائے حکمت کو ترجیح دی، وہ زیادہ دیرپا کامیاب رہیں، جبکہ جلد بازی میں کیے گئے فیصلوں کی قیمت کئی نسلوں نے ادا کی۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے۔ کیا پہلے اپنی طاقت میں اضافہ کرنا، اپنے اتحادیوں کو مزید مضبوط کرنا اور سفارتی راستوں کو مکمل طور پر آزمانا زیادہ مناسب نہ ہوتا؟ کیا مسلسل جنگی کیفیت کسی ریاست کو اس حد تک کمزور نہیں کر سکتی کہ اس کے مخالفین کو اس سے زیادہ فائدہ پہنچ جائے؟ اور کیا یہی صورتِ حال مستقبل میں پورے خطے کے توازن کو تبدیل نہیں کر سکتی؟ یہ سوالات یقینا بحث طلب ہیں اور ان کے حتمی جواب وقت دے گا۔ تاہم تاریخ کا ایک اصول ہمیشہ زندہ رہے گا کہ بہادری اس وقت سب سے زیادہ مو¿ثر ثابت ہوتی ہے جب اس کے ساتھ حکمت، تیاری، اتحاد اور طاقت بھی موجود ہو۔ اگر حکمت پیچھے رہ جائے تو صرف جوش بعض اوقات پوری قوم کو ایسے نتائج سے دوچار کر دیتا ہے جن کا ازالہ برسوں میں بھی ممکن نہیں ہوتا۔ شاید اسی لیے تاریخ ہمیں بار بار یہی سبق دیتی ہے کہ پہلے اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ دشمن کا مقابلہ کر سکیں، پھر میدان کا انتخاب کریں۔ یہی حکمت ہے، یہی دوراندیشی ہے اور شاید یہی کسی بھی قوم کی حقیقی طاقت بھی۔

ٹیگز: