آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قطری تیل بردار جہاز پر ایران کے حملے کے وقت اور اس کے پس منظر نے ایران کی تزویراتی سوچ پر کئی اہم سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب ایران پہلے ہی ایک انتہائی جذباتی اور حساس دور سے گزر رہا تھا۔ ملک بھر میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تعزیتی تقریبات اور جنازہ کے اجتماعات جاری تھے، جہاں لاکھوں ایرانی شہری عقیدت، غم اور سیاسی وابستگی کے اظہار کیلئے سڑکوں پر موجود تھے۔ ایسے ماحول میں دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھانے کا فیصلہ انتہائی خطرناک قدم تھا جسکے اثرات ایران کے فوری مقاصد سے کہیں زیادہ دور تک جا سکتے ہیں۔
رہبر اعلیٰ کے جنازے کے اجتماعات محض مذہبی یا ثقافتی اجتماعات نہیں تھے بلکہ یہ ایران کی قومی شناخت، انقلابی نظریات اور بیرونی دباو کے خلاف مزاحمت کے سیاسی اظہار کا بھی طاقتور مظہر تھے۔ قریباً دو کروڑ افراد کی شرکت نے ایک ایسے وقت میں قومی اتحاد اور ریاستی نظریات سے وابستگی کا پیغام دیا جب ایران کو اندرونی اور بیرونی سطح پر متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ عوامی یکجہتی کے اس مظاہرے کے فوراً بعد فوجی کشیدگی کی طرف بڑھنا ایران کیلئے پیچیدہ تزویراتی صورتحال پیدا کر گیا ہے۔
لگتا ہے کہ ایرانی قیادت ان بڑے اجتماعات، عوامی جذبات اور امریکہ و اسرائیل مخالف نعروں کو اس بات کی علامت سمجھی کہ عوامی حمایت میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے اور ملک زیادہ جارحانہ خارجہ پالیسی اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔ ”امریکہ مردہ باد“ اور ”اسرائیل مردہ باد“ جیسے نعرے 1979ءکے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایرانی سیاسی مظاہروں کا مستقل حصہ رہے ہیں۔ ایران میں یہ نعرے بیرونی مداخلت، سیاسی دباو اور طویل عرصے سے جاری جغرافیائی سیاسی کشمکش کے خلاف مزاحمت کی علامت ہیں۔
سیاسی جذبات اور فوجی حکمت عملی ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ کسی بڑے عوامی اجتماع یا قومی جذباتی کیفیت کو لامحدود تزویراتی آزادی کا مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ ریاستوں کو یہ فرق سمجھنا پڑتا ہے کہ قومی اتحاد کے جذباتی لمحات اور عالمی طاقتوں کے درمیان حقیقی توازنِ قوت میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ بعض اوقات جذباتی ماحول میں کیے گئے فیصلے ایسے غیر متوقع نتائج پیدا کر دیتے ہیں جو طویل المدتی مفادات کو نقصان پہنچا دیتے ہیں۔
اسی تناظر میں قطری تیل بردار جہاز پر حملہ یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ آیا ایران نے یہ اقدام اعتماد کی بنیاد پر کیا یا اپنی تزویراتی طاقت کا اندازہ ضرورت سے زیادہ لگا لیا۔ لگتا ہے ایران یہ سمجھا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو متاثر کرنے کی صلاحیت اسے عالمی دباو¿ کے باوجود مذاکراتی پوزیشن مضبوط کرنے اور اپنے مخالفین کو پیغام دینے میں مدد دے گی۔ اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی فوری طور پر عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سلامتی کے حساب کتاب کو متاثر کرتی ہے۔
اس واقعے کا وقت بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ ایران ایک طرف تعزیتی اجتماعات کے ذریعے قومی اتحاد اور طاقت کا تاثر قائم کرنا چاہتا تھا جبکہ دوسری جانب بحری کشیدگی کے واقعے نے عالمی توجہ کو ان اجتماعات کے سیاسی اور تاریخی پہلوو¿ں سے ہٹا کر ایران پر علاقائی عدم استحکام پھیلانے کے الزامات کی طرف موڑ دیا ہے۔ ایران نے ایسی تزویراتی غلطی کی جس سے اسکے مخالفین کو مزید سفارتی، اقتصادی یا فوجی دباو¿ بڑھانے کا جواز مل سکتا ہے۔
بحران میں اکثر ممالک اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن ضرورت سے زیادہ اعتماد بعض اوقات بڑی غلطیوں کا سبب بن جاتا ہے۔ امریکہ اسے جارحیت تصور کرتے ہوئے زیادہ سخت ردعمل دے سکتا ہے۔ کشیدگی بڑھنے کا اصل خطرہ اسی فاصلے میں موجود ہوتا ہے جو کسی اقدام کے اصل مقصد اور مخالفین کے تاثر کے درمیان پیدا ہوتا ہے۔
معاشی طور پر آبنائے ہرمز کے گرد طویل عدم استحکام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، دنیا بھر میں مہنگائی کے دباو¿ اور توانائی درآمد کرنے والی کمزور معیشتوں کیلئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ سیاسی طور پر یہ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تزویراتی طور پر یہ ایران کے مخالفین کو زیادہ سخت پالیسی اختیار کرنے پر اکسا سکتا ہے۔
ایران کیلئے سب سے بڑا چیلنج انقلابی نظریات اور قومی مفاد کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ ایران ہمیشہ خود کو بیرونی دباو¿ کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کرتا رہا ہے لیکن اس شناخت کو برقرار رکھنے کیلئے محتاط اور دانشمندانہ تزویراتی فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک طاقتور مملکت کو نہ صرف یہ معلوم ہونا چاہیے کہ طاقت کا مظاہرہ کب کرنا ہے بلکہ یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ بعض اوقات تحمل اور صبر طویل المدتی مفادات کیلئے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
جنازے نے یہ ظاہر کیا کہ ایرانی قیادت اب بھی اپنے بنیادی حامیوں میں بڑے پیمانے پر عوامی حمایت کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن عوامی جذبات ہمیشہ بہترین تزویراتی منصوبہ بندی کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ غم، غصے یا قومی فخر کے لمحات میں کیے گئے فوجی فیصلے بعض اوقات طاقت کے بجائے کمزوری کا باعث بن جاتے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہاز پر حملہ مستقبل میں اس لمحے کے طور پر یاد کیا جائے جب ایران کی طاقت دکھانے کی خواہش عالمی سیاست کی حقیقتوں سے ٹکرا گئی۔ یہ اقدام ایک سوچا سمجھا انتباہ تھا، مزاحمت کا مظاہرہ تھا یا ایک غلط اندازہ، اسکے نتائج ممکنہ طور پر ایران کی توقعات سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں۔ ایران کا یہ قدم داخلی سیاسی علامتوں اور عالمی تزویراتی تقاضوں کے درمیان خطرناک تصادم کو ظاہر کرتا ہے۔ رہبر اعلیٰ ایران کے انقلابی ورثے اور قومی استقامت کی علامت تھے لیکن اسی حساس وقت میں ایک بحری جہاز کو نشانہ بنانے کے فیصلے نے اس پیغام کو پیچیدہ بنا دیا۔ طاقت کے اظہار کی یہ کوشش ایران کیلئے نئی کشیدگی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی غیر یقینی سیاست میں اصل طاقت صرف حملہ کرنے کی صلاحیت کا نام نہیں بلکہ اس دانش مندی کا نام بھی ہے کہ کب طاقت کا استعمال نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ آنے والے دن یہ فیصلہ کریں گے کہ ایران کا یہ اقدام کامیاب تزویراتی چال تھا یا ایسی سنگین غلطی جس نے خطے کو ایک اور خطرناک بحران کے دروازے پر لا کھڑا کیا ہے۔