سری نگر :جموں و کشمیر انتظامیہ نے ایک بڑے انتظامی فیصلے کے تحت ضلع شوپیاں کے علاقے امام صاحب میں واقع جنوبی کشمیر کی معروف درسگاہ، دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر سیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ کارروائی 'غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ' (UAPA) کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔
ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشل گرگ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ پولیس کی جانب سے جمع کرائے گئے ایک تفصیلی ڈوزیئر کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے ادارے پر درج ذیل الزامات عائد کیے ہیں۔الزام ہے کہ مدرسہ ممنوعہ تنظیم 'جماعت اسلامی' اور 'فلاحِ عام ٹرسٹ' کے ساتھ براہِ راست منسلک ہے۔ ادارے پر زمین کے غیر قانونی حصول اور رجسٹریشن کے بغیر کام کرنے کا الزام ہے۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ عمارت کو مبینہ طور پر ایسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا جو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔حکم نامے کے تحت ضلع مجسٹریٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر جامعہ کی زمین اور عمارات کا چارج سنبھال لیں۔ ادارے میں زیر تعلیم سینکڑوں طلبہ کے تعلیمی نقصان کو بچانے کے لیے انتظامیہ نے انہیں قریبی سرکاری سکولوں میں داخلہ دینے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
اس فیصلے پر وادی میں ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سمیت کئی سیاسی رہنماؤں نے اسے 'تعلیمی ناانصافی' قرار دیتے ہوئے کڑی تنقید کی ہے۔ مقامی حلقوں میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کہ تعلیمی اداروں کی اس طرح بندش سے پسماندہ طبقے کے بچوں کا مستقبل متاثر ہو سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم وادی میں انتہا پسندی کے خلاف جاری 'زیرو ٹالرنس' پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت مشتبہ مالیاتی اور تعلیمی نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔