جمود موت کا دوسرا نام ہے یہ جملہ آپ نے کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں ضرور پڑھا سنا ہو گا۔ شاید کچھ نے محسوس بھی کیا ہو، لیکن جیسے تو اسے ایک لکھاری محسوس کر سکتا ہے نا۔۔۔ اس کے بعد قیامت ہے۔۔۔ خیر تو ایک عرصہ دراز سے جیسے قلم خشک پڑا ہو، جیسے سیاہی دوات میں ہی سوکھ گئی ہو، خیالات کا تسلسل کھو گیا ہو، کہاں یہ عالم کہ ایک ہی نشست میں بیٹھے بیٹھے تحریر کھینچ دو ہو کہاں ایسی لرزہ خیز کوڑھ مغزی کہ لفظ ہونہہ کر کے منہ پھیر جائیں۔ تو خیر ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا کے مصداق ہم بھی ڈھیٹ بن کر لگے رہے۔ جنگ شروع ہوئی تو جنگ نامہ لکھنے کے لیے پر تولے اور ایک آدھ پیرا لکھ کر منجمد۔۔۔۔ پھر آغا شہید ہوئے تو اچھا خاصہ منظر نامہ بنا کر عنوان بھی گھڑ لیا آگے وہی ثم بکم۔۔۔۔ پھر پاکستان کی لازوال سفارت کاری پہ قلم کا جادو جگانے کی کوشش کی اور مذاکرات ناکام ہو گئے، پھر خود کو سمجھایا کہ مالک نے ہمارے قلم کو دفاعی امور پہ لکھنے کا اذن بخشا ہے سفارت کاری تو ہمارا شعبہ ہی نہیں۔۔۔۔ ہمارا تو کام ہی بھارت اور افغانستان کے ٹانکے نکالنا ہے ساتھ ہلکی آنچ پہ بلوچستان اور ایک انتشاری ٹولے کو کبھی کبھار بھون لیتے ہیں بس۔۔۔ پھر پاکستان نے تیمور لانچ کر دیا تو ہمارا دل باغ باغ ہو گیا کہ اسی وقت کا تو انتظار تھا، اب ول ٹو فائٹ پہ گھومتے گھامتے رافیل پہ فاتح پڑھیں گے اور پاکستان ہمیشہ زندہ باد پہ قصہ تمام کر دیں گے۔ اللہ بھلا کرے زمانہ جاہلیت میں انٹر نیشنل ریلیشنز پڑھ رکھا تھا، نکل گئے ایڈمرل مہان کی تھیوری میں اور ادھر سے ایک ہی جست میں انٹر نیشنل لا کے لاز آف سیز میں 12 ناٹیکل مائیل تک پہنچے ہی تھے کہ کریٹیوٹی کی لوڈ شیڈنگ ہو گئی۔ ہم نے کاغذ قلم دوات ایک سائیڈ پہ رکھ کے حالات سے سمجھوتہ کر لیا۔ پھر ہوا یوں کہ پی ایم ایس پنجاب کے امتحان آن وارد ہوئے اور بیک وقت چلنے والے دو بیجز کے بچوں کے دماغوں کے جالے اتارنے سے فرصت ہی نہ ملی، کچھ پرانے شاگرد مرشد مرشد کی راگ الاپتے ہوئے آن پہنچے موٹیویشن کی خوراک لینے (فارغ الذہن لوگ اکثر وقت گزاری کے لیے اس شغل کے شوقین ہوا کرتے ہیں) خیر وہی پرانا طرز تخاطب وہی رٹی رٹائی چند باتیں اللہ جانے ہر سال کیوں سننے آ جاتے ہیں، بہرحال سنا دیں۔ ایک شاگرد نے کال کا وقت لیا اور مقررہ وقت پہ بس ایک ہی التجا کی کہ مرشد آخری اٹیمپٹ ہے، بہت دباو¿ ہے کچھ ایسا کہہ دیں کہ بس اس بار جان پر کھیل جاو¿ں، خیر اسے صدیوں سے ازبر وہی تقریر دوبارہ سنائی، اس نے کہا افاقہ ہوا، ہم نے کال کاٹ دی۔۔۔ پھر کل ہماری بات ہوئی ایک دیرینہ سہیلی سے۔ میرا گھر بھر اس سے واقف ہے، اکثریت کی ملاقات بھی ہے تو خیر اس کے والد کو بائی پاس کا مشورہ دیا گیا، تو وہ دکھ لے کر آ گئی کہ آپا میں بہت ڈری ہوئی ہوں، میرے پاس بس ابا ہی بچے ہیں، اس کا خود تعلق میڈیکل سے ہے اور والدہ کو کینسر تشخیص ہوا تھا، مائیں تو سانجھی ہوتی ہیں ہم اس زمانے میں تھے بھی روم میٹ، تو ہم دونوں نے خوب دعائیں مانگیں، منتیں مانگیں اور اماں ہماری پہلی ہی کیمو پہ داغِ مفارقت دے گئیں، ہماری عزیز از جان سہیلی کا اعتماد دعا اور دوا دونوں سے اُٹھ گیا اور ہم لگے اسے پھر سے قائل کرنے، اب یا ہم سمجھا نہیں پا رہے تھے یا وہ سمجھ نہیں پا رہیں تھیں، بہرحال کوئی تیس چالیس منٹ کے بعد ہم سے ایک جملہ ادا ہو گیا کہ دیکھو اگر اندھا دعویٰ کرے کہ اس نے تمام عمر غیر محرم عورت نہیں دیکھی تو دعویٰ درست تو نہ ہوا نا، بات تو تب ہے کہ آنکھوں میں نور ہو اور نہ دیکھو، اسے کچھ کچھ بات سمجھ آنے لگی تو ہم نے بھی ہمت پکڑ لی، کہ دیکھو میری فلاں کزن کو جانتی ہو نا جو سی ایس ایس کی تیاری کر رہی ہے؟ بولی بالکل ۔۔۔ میں نے اسے اس شاگرد خاص کی داستان سنائی کہ دیکھو اس کی آخری اٹیمپٹ ہے کیا اس کا ’لا تقنطو من الرحم اللہ‘ پر ایمان اور جو ابھی بیٹھی ہی نہیں اس کا ایمان برابر ہو سکتا ہے؟ اگر آپ ایک نقصان سے گزرے ہی نہیں اور آپ توکل توکل کی رٹ لگائے رکھیں تو میعار اور ہے، اور اگر آپ خدا پر بھروسہ رکھ کر ٹھوکر کھا کے گریں پھر اٹھ کھڑے ہوں اور پھر سے توکل رکھیں تو اس کا مزہ اور؟ دیکھیں بھروسہ یہ نہیں کہ مجھے پہاڑی سے چھلانگ لگانے کا کہا جائے اور میں پہلے رسی تلاش کروں، بھروسہ تو یہ ہے کہ جو یار کہے سو بسم اللہ۔۔!! لگا دی چھلانگ جنابِ ابراہیم نے آگ میں بنا سوچے سمجھے۔۔۔ بنا حساب کتاب کیے۔ آپ ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت ہے کہ بس یاد کر کے دہرائے جائیں وہ اور ہے، اور اس کی رضا میں راضی ہو جانا اور ہے، اگر کائنات کا امیر یہ کہہ دے کہ میں نے اپنے رب کو اپنے ارادے کی ناکامی سے پہچانا ہے تو ہماری ایک آدھ اٹیمپٹ، تھوڑی بہت جمع تفریق یا منوں مٹی تلے سویا ایک عزیز ہمیں کیسے مایوس کر سکتا ہے؟ مایوسی تو کفر ہے نا؟ اب آپ اپنی نجی زندگی میں جس بھی محاذ پہ جو بھی جنگ لڑ رہے ہیں، ایک لمحے کو ذرا سوچیے کہ 70 گنا زیادہ پیار کرنے والا رب، جلد راضی ہو جانے والا رب تو بس تمہاری دعاو¿ں میں خلوص اور توکل دیکھ رہا ہے اور ہم تم بس زبان سے دہرائے جا رہی ہیں تو رب تو رب۔۔۔ مان نہیں رہے، کیونکہ جب رب مان لیا جاتا ہے تب نہ گلہ کیا جاتا ہے نہ وسوسے اور خوف کو پلنے دیا جاتا ہے۔ میری بات شاید کچھ تاثیر رکھتی تھی جیسے ہی کال بند ہوئی میں نے فوراً سے پیشتر مرشد مرشد کہنے والے بچے کو یہ نیا زاویہ دکھانے کی کوشش کی۔ کہ جب امید پوری کائنات کو بنانے والے رب سے ہے تو پھر تیسری کاوش کا خوف کیسا؟ پھر سوچا کسی نہ کسی خوف کا بوجھ تو ہم میں سے ہر ایک کندھے پہ لادے پھرتا ہے تو کیوں نا یہ خیالات سب کے گوش گزار کیے جائیں۔ یوں جمود مت قفل ٹوٹ ٹوٹ گرنے لگے اور تحریر خود بخود قلم سے رسنے لگی۔ مالکِ کائنات تمام قارئین کے والدین کی آنکھیں ٹھنڈی رکھے۔
التماس برائے سورة فاتحہ برائے جملہ مرحومین۔