پہلگام حملے کو جواز بنا کر بھارتی حکومت دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو بڑھاوادے رہی ہے ۔ میڈیا کی جانب سے یہی تا ثر دیا جارہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان کے خلاف فوج کشی کا ارادہ رکھتا ہے یا پھر سرجیکل ا سٹرائیک کا ۔ ان دونوں پہلوئوں کا زمینی حقائق اور اسٹریٹجک نقطہ نظر سے تجزیہ قارئین کے گوش گزار ہے ۔ 9 نومبر2018 کو ایک ویڈیو پروگرامIndia don't have the courage to attack on Pakistan, why in Urdu میں مفصل بتادیا تھا کہ بھارت پاکستان پر حملہ کرنے سے کیوں قاصر ہے ؟۔ موجودہ جنگی جنون کو سامنے رکھتے ہوئے سوال ہے ۔ کہ کیا بھارت کے پاس ہائی مورال رکھنے والی اعلیٰ عسکری تربیت یافتہ فورس کی اتنی تعداد ہے ؟۔ جس کے بھروسے پر وہ اتنا بڑا رسک( فوج کشی کا ) لے سکے۔ کیونکہ کسی بھی ملک کے خلاف فوج کشی کا مطلب کھلی جنگ ہے ۔ جبکہ زمینی حقائق یہ ہے کہ بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کو کچلنے کے لیے 8 لاکھ فوجی وآفیسران Engageہیں ۔ اسی طرح بھارت کی مختلف ریاستوں میں آزادی کی جومسلح تحریکیں چل رہی ہیں ، بغاوتیں و شورشیں برپا ہیں۔ان کو بھی کچلنے کے لیے 4 لاکھ کے قریب سکیورٹی اہلکار Bound ہیں ۔ یہ تعداد تقریباََ 12 لاکھ تک پہنچ جاتی ہے ۔ اگر بھارت ، پاکستان کے خلاف کھلی جنگ کا آپشن رکھتا ہے۔ تو اس کو لازماََ متعلقہ علاقوں سے 12 لاکھ فوجیوں کو ہٹانا پڑے گا ۔ نہ صرف فوجیوں کو بلکہ ضروریات زندگی کی ہرچیز سمیت ہلکے بھاری ہتھیاروں، گولہ بارود کو بھی پاکستانی سرحدوں تک پہنچانا پڑے گا ۔ جب کسی بھی ملک کی %70 فورسز آزادی کی تحریکوں ، شورشوں و بغاوتوں کو کچلنے میں مصروف ہوں ۔تب ایسے مواقع پر کوئی بھی ملک فوج کشی جیسا احمقانہ
قدم اٹھا کر فاش غلطی کا ارتکاب ہر گز نہیں کرتا ۔ جو اس کی تقسیم کا باعث بن جائے ۔ بھارت کا یہی وہ بنیادی ا سٹرٹیجک کمزور پہلو ہے۔ جن کا اکھنڈ بھارت کے انتہا پسند نیتائوں ، مذہبی پنڈتوں و فوجی قیادتوں کو بہت اچھی طرح ادراک ہے ۔ کہ پاکستان کے ساتھ ایک کھلی جنگ کا مطلب بھارت کی تقسیم نوشتہ دیوارہے ۔
کسی بھی سرجیکل سٹرائیک کے لیے فیصلہ کن ہتھیار پرعزم ، نڈر ایئر فورس قیادت کی موجودگی اولین شرط ہے۔ ونگ کمانڈر ابھی نندن کی گرفتاری کے بعد دشمن کی ایئر فورس خاصی نفسیاتی دبائو کا شکا ر ہے ، لرزہ طاری ہے۔ حتیٰ کہ ابھینندن کی رہائی کے بعد ان کی اہلیہ Tanvi Marwaha جو کہ خود بھی انڈین ایئر فورس میں سکوارڈن لیڈر تھی۔ مودی حکومت کے جنگی جنون پر برس پڑی تھی۔ ابھینندن کی گرفتاری اور ایک جنگی طیارے کے نقصان کے بعد بھارتی فضائیہ فی الحال کسی بھی سرجیکل سٹرائیک کے موڈ میںدکھائی نہیں دے رہی ۔ کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اس کا کیا انجام ہونا ہے ؟۔
بھارتی آبی جارحیت کے بعد صاف محسوس ہو رہا ہے کہ اگر اس دفعہ پائلٹ پکڑا گیا تو نہیں چھوڑا جائے گا ۔ اور یہ بات understood ہے ۔ فی الحال سرجیکل سٹرائیک کے کوئی خاص امکانات نظر نہیں آرہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ بھارت پڑوسی ممالک کی مدد سے پاکستان میں دہشت گردیوں، تحریب کاریوں کا طویل سلسلہ شروع کر دے ۔ سیاسی شدت پسندی، لسانی و فرقہ وارانہ شورشوں کو پروموٹ کرنا شروع کر دے ،جس کے امکانات ہیں۔ جو فوج کشی کی بہ نسبت ازلی دشمن کے لیے آسان بھی ہے۔
مودی میڈیا کی جانب سے چلائی جانے والی نفرت انگیز مہم سے ہٹ کر یہ دیکھنا پڑے گا کہ وہاں کے عوام کیا سوچ رہے ہیں؟۔ تقسیم ہند سے لیکر اب تک بھارتی عوام کی سوچ میں پہلی بار حیران کن تبدیلی آئی ہے۔ بھارتی عوام کی اکثریت نے مودی سرکار کے اس بیانیے کو سختی سے رد کر دیا ہے کہ پہلگام حملے میں پاکستان ملوث ہے ۔ دوسرا اس سے بھی زیادہ حیران کن امر واقع یہ ہواکہ وہاں پر جو معتدل ہندو، کرسچن کیمونٹی ، مسلمان ، سکھ اور دلت شامل ہیں۔ان کا مئوقف ہے کہ مودی سرکار اس حملے کو جواز بنا کر کسی اور کی جنگ لڑنا چاہ رہی ہے ۔ ہم اس جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ البتہ مودی و اسرائیلی حمایت یافتہ میڈیا جنگی ماحول بنانے کے لیے تما م ذرائع استعمال کر رہا ہے ۔ لیکن یہ صرف ایک کھوکھلا ماحول ہے ، حقائق نہیں ہیں ۔ بھارتی عوام کی سوچ کی اس حیران کن تبدیلی نے مودی اور اس کے نظریاتی اتحادی اسرائیل کے سارے منصوبوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔شکریہ مودی: کہ تو نے بھٹکی ہوئی ، بکھری ہوئی قوم کو ایک دفعہ پھر اکٹھا ہونے کا موقع فراہم کیا۔
جنگیں اگر عددی برتری و اسلحہ کے انبار لگانے سے جیتی جاتیں تو افغانستان میں پہلے کیمونزم اور بعد میں صلیبی لشکر شکست وریخت سے دوچار نہ ہوتا۔ ایسی جنگوں کے نظریات و بیانیے جن کی بنیاد نفرتوں و انتہا پسندانہ عزائم پر ہوں۔ ایک نہ ایک دن ماضی کی تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جیسے مشرق وسطیٰ میں ہو رہا ہے ۔ لشکر کشی کے بیانیے کی بنیاد جب عدل وانصاف اور سچائی کی بنیاد وں پرہو تو فتوحات مقدر ٹھہرتی ہیں ۔ جن کا آغازغزوہ بدر سے قلیل تعداد اور نہتے ایمان والوں سے ہوا تھا۔ پھر بعد میں آنے والوں نے قیصروکسریٰ وہند کو جہادی قدموںسے روند کر پرچم توحید لہرا دیا ۔ اسٹریٹجک نقطہ نظر سے کیے گے تجزیے کے بعد زیادہ تر امکان یہی نظر آرہا ہے کہ غیور قوم اور جہاد فی سبیل اللہ کا ماٹو رکھنے والی آرمی کو اس دفعہ بھی غزوہ ہند کی سعادت سے محروم رہنا پڑے گا ۔