نئی دہلی/اسلام آباد : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے رچایا گیا پہلگام ’فالس فلیگ‘ ڈرامہ بھارتی میڈیا کے گلے پڑ گیا۔ جھوٹے دعوؤں اور غیر مصدقہ خبروں کے باوجود بھارتی میڈیا عالمی سطح پر مودی سرکار کے اس ناکام آپریشن کو حق بجانب ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی نیوز چینلز نے پیشہ ورانہ اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حقائق کو مسخ کیا ۔ بھارتی میڈیا نے سچائی چھپانے کے لیے مسلسل جنگی جنون کو ہوا دی اور اپنے عوام کو گمراہ کن معلومات فراہم کیں۔ فالس فلیگ آپریشن کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی کوشش میں بھارتی میڈیا کے اپنے ہی تضادات سامنے آ گئے، جس نے ان کی قلعی کھول دی۔
بھارتی اینکر ارنب گوسوامی نے اپنی نشریات میں ہندوتوا ایجنڈے کی ترجمانی کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف انتہائی زہریلا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ "پاکستان کو غزہ بنا دیا جائے"۔ ماہرین کے مطابق، اس قسم کے بیانات اس بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہیں جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی ساکھ اور امریکی صدر کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی مسلسل تعریفوں کے باعث بھارت پر طاری ہے۔
الجزیرہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، بھارتی میڈیا اس وقت کشمیریوں کی جبری بے دخلی اور گھروں کی مسماری جیسے جنگی جرائم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے ’سکرین سیور‘ کا کام کر رہا ہے۔ مودی حکومت پہلگام ڈرامے کی آڑ میں کشمیر کی آبادیاتی ساخت بدلنے کے اپنے ایجنڈے پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔
بھارتی میڈیا کی سنسنی خیزی کے برعکس، پاکستان اس وقت عالمی امن کا محور بن چکا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا دو روز میں دوسرا دورہ اور فیلڈ مارشل سے اہم ملاقاتیں ثابت کرتی ہیں کہ دنیا اب پاکستان کو امن کا پیامبر مانتی ہے، جبکہ بھارت اپنی سکیورٹی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ’فالس فلیگ‘ کا سہارا لے رہا ہے۔