Wed, September 16, 2026

بھارتی جنگی جنون، نتیجہ ہزیمت و رسوائی

بھارتی جنگی جنون، نتیجہ ہزیمت و رسوائی

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر پہ بھارتی تسلط کی وجہ سے کشیدگی ایک دیرینہ مسئلہ ہے، جو خطے کی سلامتی اور استحکام پر گہرے اثرات ڈالتی ہے۔حال ہی میں کشمیری علاقے پہلگام میں ہوئے واقعے جس میں 28 افراد کو ہلاک کیا گیا تھا اس کو پاکستان سے جوڑ کر بھارت اب پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دے رہا ہے۔ ایسی کسی بھی صورت میں اور بھارت کی جانب سے ممکنہ حملے کی صورت میں پاکستان کی دفاعی حکمت عملی نہ صرف اپنی سرزمین کی حفاظت کو یقینی بناتی ہے بلکہ خطے میں جاری تنازعات جیسے خالصتان کی تحریک اور کشمیر کی آزادی کو بھی ایک نئے موڑ پر لے جا سکتی ہے۔
حالیہ کچھ برسوں میں بھارت کے جنگی جنون اور اس کی جنگی تیاریوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جس میں جدید رافیل طیارے اور ایس 400 جیسے میزائل ڈیفنس سسٹم کا اضافہ قابل ذکر ہے، چنانچہ طاقت کے توازن کو بگڑنے سے بچنے کے لئے اور خطرے کو بھانپتے ہوئے پاکستان نے نا صرف رافیل کے ہم پلہ جے 10 سی جنگی جہاز اپنی فضائیہ میں شامل کئے بلکہ پاکستان نے رافیل کا مستقل توڑ تلاش کرنے کے لیے کئی سطحی جدید دفاعی نظام بھی تیار کیا ہے۔ آج رافیل کے ہم پلہ جنگی جہازوں کے علاوہ پاکستانی فضائیہ کے پاس ایسے جدید ریڈار موجود ہیں جو نہ صرف رافیل طیاروں کی شناخت کر سکتے ہیں بلکہ ان کے خلاف سینکڑوں میل دور سے فوری کارروائی کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ جس کا عملی مظاہرہ 29 اپریل کی رات کو لائن آف کنٹرول کے قریب محو پرواز طیاروں کو پاکستانی دفاعی نظام نے ٹارگٹ پہ رکھ کہ دیا۔ جس کے باعث وہ پرواز جاری رکھنے کی بجائے فوری واپس چلے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ، رافیل و دیگر بھارتی جنگی جہازوں سے نبٹنے کے لئے پاک فضائیہ میں پی ایل-15 جیسے بی وی آر  (یعنی سینکڑوں میل دور آنکھ سے اوجل ٹارگٹس کو نشانہ بنانے والے) میزائلز کی شمولیت نے پاکستانی دفاع کو مزید مضبوط بنا دیا ہے، یہ میزائل دشمن کے طیاروں کو 180 سے 200 کلو میٹر کی دوری سے ہی ٹارگٹ کر کے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان نے نا صرف یہ میزائل جے 10 سی میں نصب کر رکھے ہیں بلکہ جے ایف 17 بھی اس سے لیس ہے۔ 
اسی طرح بھارت کا روس سے خریدا گیا جدید ترین ایس-400 سسٹم دنیا میں ایک طاقتور دفاعی نظام سمجھا جاتا ہے، اور اس کی شمولیت کے بعد بھارتی یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اب ان کا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا ہے لیکن پاکستان نے مقامی طور پہ اس کا بھی توڑ پیدا کر لیا ہے۔ پاکستانی ساختہ میزائلز فتح-2 جس کی رینج 400 کلومیٹر ہے اور فتح-3 جس کی رینج 550 کلومیٹر ہے اس حوالے سے نمایاں ہیں، یہ نا صرف ہائیر سونک ہیں بلکہ جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس، ریڈار سے اوجھل، انتہائی نیچی پرواز کرتے ہوئے اپنے ساکت یا چلتے ہدف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نیز یہ ایس-400 جیسے سسٹمز کو بے اثر کرنے اور تباہ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں اور جنگی حالات میں پاکستان کو فیصلہ کن برتری دلانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ ملک کی سمندری حدود، بندرگاہوں اور دیگر قیمتی اثاثوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ان پہ حملہ آور ہو سکنے والے بھارتی ائیر کرافٹ کیریئرز اور ڈیسٹرائرز کو تباہ کرنے کے لئے چند روز قبل پاکستان نے سمیش نام کے مقامی تیار کردہ میزائل کے کئی کامیاب تجربے کئے ہیں۔ یہ میزائل ذوالفقار ٹائپ کے فریگیٹس سے چلایا جاتا ہے جس کی رینج 350 کلومیٹر ہے اور اسے مہلک ترین ہتھیار مانا گیا ہے۔ 
نیز بھارت کو اب کھل کر بتا دیا گیا ہے کہ اگر اس کی طرف سے بلا جواز، بلا ثبوت ایک من گھڑت واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان پر حملہ کیا گیا تو اس کے نتیجے میں ہونے والی جوابی کارروائی نا صرف بھارت کے جنگی جنون کو ہمیشہ کے لئے خاک میں ملا دے گی بلکہ اس کے جنگی منصوبوں کو بھی بری طرح ناکام بنا دے گی۔ پاکستان کا تباہ کن جواب بھارت میں خالصتان کی تحریک کو بھی مزید تقویت فراہم کرے گا کیونکہ بھارت میں موجود سکھ برادری کی خالصتان کے لیے آزادی کی خواہش بھی ایک دیرینہ مسئلہ ہے، اور جنگ کی صورت میں یہ تحریک مزید تقویت پکڑے گی۔ اس کے علاوہ، کشمیر کے عوام کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش اور ستر سال سے جاری جدوجہد بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے، لہٰذا جنگی صورتحال اور پاکستان کی جوابی کارروائی کشمیریوں کے اس خواب کو بھی حقیقت میں بدل دے گی۔
بھارت کو یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ پاکستان کی جوابی کارروائی کا اثر صرف جنگی میدان تک محدود نہیں ہوگا بلکہ یہ بھارت کی معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈالے گا۔ بھارت جو اس وقت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے، جنگ کی صورت میں پاکستان کی جوابی کارروائی اس معیشت کو تباہ کن نقصان پہنچائے گی۔ بھارت کے اہم اقتصادی مراکز، بندرگاہیں اور صنعتی علاقے پاکستانی میزائلز کی زد میں ہیں اور باآسانی ہدف بندی کر کے تباہ ہو سکتے ہیں اور اس طرح بھارتی معیشت کو برسوں یا شاید دہائیوں پیچھے دھکیل دیا جائیگا۔
یاد رہے کہ دو ایٹمی قوتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی ممکنہ جنگ کے اثرات صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ پورے خطے اور عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جائیں گے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ عالمی برادری بھارت کو باور کرائے کہ وہ علاقے میں اپنی جعلی چودھراہٹ اور تسلط قائم کرنے کے ارادے سے باز رہے اور دوسرے آزاد و خود مختار ممالک بشمول اپنے ہمسایہ ممالک میں تخریبی کارروائیوں اور دہشتگردی کو اسپانسر کرنے سے مکمل گریز کرے۔ ورنہ اس کے علاقائی طاقت بننے کے خواب کو مٹانے اور اس کے کئے کی سزا دینے کا وقت آن پہنچا ہے۔اور جنگ کی صورت میں ہزیمت و رسوائی اس کا مقدر ٹھہر چکی۔
پاکستان زندہ باد

ٹیگز: