اسلام آباد :پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور استنبول میں جاری ہے، جہاں فریقین کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی نگرانی، معلومات کے تبادلے اور اعتماد سازی کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ مذاکرات میں ثالث ممالک کے نمائندے بھی شریک ہیں جو مذاکراتی عمل کو حتمی شکل دینے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کا محور سرحدی صورتحال میں بہتری، دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام اور رابطہ نظام کو مؤثر بنانا ہے۔ فریقین کی جانب سے چار نکاتی حکمتِ عملی پر پیش رفت کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پاک افغان سرحد پندرہویں روز بھی بند ہے، جس کے باعث بابِ دوستی طورخم، خرلاچی، انگور اڈہ اور غلام خان بارڈر پر درجنوں ٹرک اور مال بردار گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔ طویل بندش کے سبب تجارت اور اشیائے خورونوش کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے، جب کہ تاجروں اور ڈرائیوروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر استنبول مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی تو آئندہ دنوں میں سرحدی صورتحال میں بہتری کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔