لاہور: پاک افغان سرحد کے مسئلے پر ایک بار پھر تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ پختونوں نے پاکستان اور افغانستان میں اپنی آبادی کے تناسب کی حقیقت واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں افغان پختونوں کی تعداد افغانستان سے کہیں زیادہ ہے۔ اس حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں تقریباً ڈھائی ملین افغان شہری مقیم ہیں جو واپس جانے کے خواہش مند نہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب افغان خود پاکستان کو ترجیح دے رہے ہیں تو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کوئی پاکستانی افغان بننا چاہے گا۔ سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل (ر) احسان الحق نے پندرہ سال قبل کہا تھا کہ اگر سرحد پختونوں کی بنیاد پر مقرر کی جائے تو کابل تک کا علاقہ پاکستان کا حصہ بن سکتا ہے، جبکہ اس سے نقصان صرف افغانستان کو ہوگا۔
جنرل احسان الحق کے مطابق کابل میں چند مفاد پرست عناصر اس مسئلے کو ہوا دے رہے ہیں تاکہ افغانستان کے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کبھی مکمل خودمختار ریاست نہیں رہا بلکہ دہلی، اصفہان، بخارا، سمرقند اور وسطی ایشیا کے حکمرانوں کے زیرِ اثر رہا ہے۔
یہ بیان پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کے نئے دور کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے اور علاقے میں سیکیورٹی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھا رہا ہے۔