پاکستان میں سیاست ایک ایسا میدان ہے جہاں اکثر عقل ، دانش، بینش ،فہم اور فراست کی باتیںتو دب کر رہ جاتی ہیں اور ضد، انا ، غیر سنجیدگی اور بڑھک بازی غالب رہتی ہے۔
کسی کو اچھا لگے یا برا لیکن حقیقت پسندی کی عینک لگا کر دیکھیں تو واضح واضح نظر آتا ہے کہ اگرچہ قسمت کی دیوی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر کئی مرتبہ مہربان ہوئی ہے اور مرکز ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اقتدار کا ہما ان کے سر پر بیٹھا ہے لیکن عوام کے اس اعتماد کے جواب میں یہ انہیں مبینہ کرپشن اور نا اہلی کے سوا کچھ نہیں دے سکے۔مرکز کی حکومت کرپشن اور بد انتظامی کی نظر ہو گئی، پنجاب اور ایک مرتبہ خیبر پختونخواہ کی اچھی بھلی چلتی ہوئی حکومتوں کو انہوں نے خود ٹھڈے مار کر ختم کر دیا اور بارہ سال خیبرپختونخواہ میں حکومت کرنے کے باوجود عوامی بہبود کا کوئی ایک بھی قابل ذکر منصوبہ نہ بنا سکے۔ صرف یہی نہیں بلکہ صوبائی حکومتیں پرویز خٹک، محمود خان،علی امین گنڈا پور اور اب سہیل آفریدی جیسے شاہکاروں اور عثمان بزدار جیسے کاٹھ کے الو وں کے حوالہ رہیں۔
اگر ہم کے پی کے کی موجودہ سیاست پر ایک نظر ڈالیں تو ایک نام بہت نمایاں طور پر سامنے آتا ہے، وہ ہے سہیل آفریدی۔ یہ وہی سہیل آفریدی ہے کہ جسے علی امین گنڈا پور سے استعفیٰ لے کر بڑے دعووں کے ساتھ وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ وہ صوبے کے مسائل حل کرے گا ، ایک بہتر حکومت تشکیل دے گا اور عوام کے دکھ درد کا مداوا کرے گا۔ مگر افسوس کہ وہ خدمت کے اس سفر کا آغاز کرنے کے بجائے اسلام آباد اور اڈیالہ جیل کے درمیان اپنی سیاست کو قید کر چکا ہے اور عوام کے درمیان بیٹھنے کے بجائے اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھا نظر آتا ہے۔
یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک وزیراعلیٰ جس نے ابھی حلف لیا ہے، وہ عوام کی خدمت شروع کرنے کے بجائے جیل کے باہر بیٹھ کر کسی اجازت نامے کا انتظار کیوں کر رہا ہے۔ کیا اقتدار صرف فوٹو سیشن، ٹوئٹس اور انتظار کے لیے ہوتا ہے؟ کیا اسے اسی لیے وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے کہ وہ چمچہ گیری کے تقاضے پورے کرتے ہوئے عمران خان سے ملنے کی اجازت کا انتظار کرتا رہے؟۔
خیبر پختونخوا کا حال آج کسی سے چھپا نہیں۔ وہاں کے عوام مہنگائی سے تنگ ہیں، روزگار ختم ہو چکا ہے، اسکولوں میں استاد نہیں، اسپتالوں میں دوائیاں نہیں، اور کئی علاقے اب بھی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ لوگ بجلی، پانی اور گیس کے بلوں میں دبے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کا وزیراعلیٰ صاحب اپنی کابینہ بنانے کے بجائے اسلام آباد اور راولپنڈی کے چکر لگا رہا ہے۔ کیا ایسے میں عوام یہ سوچنے میں حق بجانب نہیں کہ اگر ان کا وزیراعلیٰ اس قدر بے بس ہے تو ان کے مسائل کون حل کرے گا؟۔
اگر یہ کہا جائے تو بالکل بھی غلط نہ ہو گا کہ سہیل آفریدی نے عوام کے خوابوں کو حقیقت بنانے کے بجائے ایک تماشہ اور اپنی سیاست کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیاہے۔ سہیل آفریدی کا رویہ صاف بتا رہا ہے کہ وہ ایک غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہے۔ اسے معلوم ہی نہیں کہ اس کی ترجیحات کیا ہونی چاہیں۔ وہ ایک طرف عمران خان سے ملنے کے لیے بے تاب ہے تو دوسری طرف صوبے کے معاملات بالکل ٹھپ پڑے ہیں۔ کسی محکمے کا کوئی وزیر نہیں، کوئی پالیسی نہیں، کوئی فیصلہ نہیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے خیبر پختونخوا کی حکومت صرف نام کی حد تک موجود ہے۔
کسی بھی حکومت کا پہلا قدم اپنی ٹیم بنانا ہوتا ہے۔ جیسے ہی حکومت بنتی ہے، فوراً کابینہ تشکیل دی جاتی ہے تاکہ کام شروع ہو سکیں۔ مگر یہاں تو کئی ہفتے گزر گئے، اور وزیراعلیٰ صاحب نے ابھی تک وزراء کا اعلان نہیں کیا۔ اسے سمجھنا ہو گا کہ اگر صرف وفاداری دکھانا ہی مقصود ہے، تو یہ کام حکومت چھوڑ کر زیادہ بہتر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔ اگر مقصد عوام کی خدمت ہے تو پھر کام کرنا پڑے گا۔ عوام کے مسائل جلسوں اور بیانات سے حل نہیں ہوتے۔ اس کے لیے فیصلے، منصوبے اور محنت کرنی پڑتی ہے۔
اگرچہ خیبر پختونخوا کے لوگ بہت سادہ دل، محنتی اور وفادار ہیں،وہ اپنے رہنماؤں سے بہت محبت بھی کرتے ہیں، لیکن انہیں بے وقوف بھی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ موجودہ صورتحال میں یقینا وہ اندازہ کر رہے ہوں گے کہ جس پارٹی کو انہوں نے مینڈیٹ دیا اس کی نظر میں ان کی کیا اہمیت ہے؟۔ بلا شبہ پی ٹی آئی کا بانی چیئرمین عمران خان اس وقت مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ وہ جیل میں ہے، اور اس کے چاہنے والے ان کے ساتھ وفاداری نبھا نے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر وفاداری کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ حکومت کے کام روک دیے جائیں۔ ایک اچھا ساتھی تو وہ ہوتا ہے جو اپنے قائد کے نظریے کو زندہ رکھے، نہ کہ اپنی ہی حکومت کو مفلوج بنا ڈالے۔ عمران خان خود کہا کرتے تھے کہ ’قائد وہ ہوتا ہے جو فیصلے کرتا ہے، انتظار نہیں کرتا۔‘ مگر ان کے کچھ ساتھیوں نے اس بات کو بالکل ہی الٹا سمجھ لیا ہے۔
سہیل آفریدی اگر واقعی عمران خان کے’ نظریے‘ کے وفادار ہیں تو انہیں عوام کی خدمت کر کے دکھانی چاہیے۔ وہ فوری طور پر اپنی کابینہ بنائیں، صوبے کے مسائل حل کریں اور ترقیاتی منصوبے شروع کریں۔ اگر وہ یہ سب نہیں کریں گے تو پھر ان کے اقتدار کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟ کیا وہ صرف ایک کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بن کر رہ جائیں گے؟۔
عمران خان سے محبت اپنی جگہ مگر صوبے کے عوام بھی اتنے ہی محترم ہونے چاہئیں۔ اگر سہیل آفریدی واقعی اپنے آپ کو عوام کا لیڈرسمجھتے ہیں تو انہیں اپنے دفتر میں بیٹھ کر فیصلے کرنے چاہییں، نہ کہ جیل کے دروازے پر بیٹھ کر اجازت مانگنی چاہیے۔ عوام نے انہیں وزیراعلیٰ اس لیے بنایا ہے کہ وہ ان کے لیے کام کریں، نہ کہ کسی اجازت کے منتظر رہیں۔
سہیل آفریدی اگر چاہیں تو آج بھی بہت کچھ بدل سکتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام یقینا ابھی بھی ان پر بھروسہ کرتے ہوں گے اور ان کی خواہش ہو گی کہ ان کا وزیراعلیٰ ان کے درمیان آئے، ان کے مسائل سنے اور ان کے حل کے لیے کچھ کرے۔ عوام بھی اب کافی سمجھدار ہو چکے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ صرف باتوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ وہ عمل چاہتے ہیں، خدمت چاہتے ہیں، اور نتیجہ چاہتے ہیں۔ سہیل آفریدی کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر کے رکھنی چاہیے کہ اگر اس نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو اگلے انتخابات میں عوام اس سے اور اس کی پارٹی سے حساب ضرور لیں گے۔