Wed, September 16, 2026

سہیل آفریدی ہوش کے ناخن لیں !!

سہیل آفریدی ہوش کے ناخن لیں !!

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے ریڈیو پاکستان پر 9 مئی کو حملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن تمام شواہد، بشمول سی سی ٹی وی فوٹیج، جمع کر کے اپنی رپورٹ کابینہ کو پیش کرے گا۔ یہ ایک ایسا مطالبہ ہے جسے ہر محب وطن پاکستانی مسترد کرے گااسکی وجہ بہت واضح ہے۔ نومئی کے واقعات پوری دنیا نے دیکھے۔ لاہور میں جس طرح املاک کو نقصان پہنچایا گیا اسی طرح ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے کے مناظر بھی سب نے ہی دیکھ لئے۔ پاکستان کی سیاست اس وقت جس انتشار، بے یقینی اور شکوک و شبہات کے گرد گھوم رہی ہے، وہ صرف جماعتوں کے باہمی تصادم کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاست اور معاشرے کی مجموعی سمت کے بارے میں ایک گہری بے چینی کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ 9 مئی کے واقعات نے اس بے چینی کو ایک جھٹکے میں سطح پر لا کھڑا کیا۔ وہ دن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں محض ایک واقعہ نہیں، ایک سنگین موڑ کے طور پر محفوظ ہو چکا ہے۔ اب بھی کئی حلقے اس سلسلے میں مختلف دعوے، تاثر اور توجیہات پیش کرتے ہیں، لیکن ریاستی ادارے، عدالتیں اور تحقیقاتی ٹیمیں اس بات پر متفق دکھائی دیتی ہیں کہ اْس روز تشدد، سرکاری املاک کو آگ لگانے اور حساس تنصیبات پر حملوں جیسے اقدامات نے ریاستی رٹ کو چیلنج کیا۔ ایسے میں اگر کوئی دھڑا ان واقعات کو ’’فالس فلیگ‘‘ کہہ کر پیش کرنے کی کوشش کرے تو یہ بحث مزید الجھاؤ پیدا کرتی ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا سنگین نوعیت کے واقعات کو پی ٹی آئی کیوں پس پشت ڈالنا چاہتی ہے ؟ اس کی وجہ واضح ہے کہ پی ٹی آئی کا بیانیہ ہی تشدد پر اکسا رہا ہے۔ اس جماعت کے بار بار نئے بیانیوں اور متوازی تحقیقات کے مطالبے کے ذریعے ہرپاکستانی سمجھ چکا ہے کہ انتشار کی سیاست ایک مرتبہ پھر نظر آرہی ہے۔ آخر کوئی کیسے ان واقعات کے ٹرائل پر اثر انداز ہو سکتا ہے ؟ یہی وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کے دماغ میں گھوم رہا ہے۔ مگرا س سوال کا جواب بھی بہت واضح ہے۔ قانون کی رو سے جن معاملات میں مقدمات پہلے سے درج ہوں، جہاں گرفتاریاں ہو چکی ہوں اور جہاں ایف آئی آرز، فرانزک ریکارڈ اور گواہیوں پر مبنی تحقیقات مکمل ہو چکی ہوں… وہاں بار بار ’’نئے کمیشن‘‘ کے مطالبات ایک ڈرامے کے سوا کچھ نہیں۔ جب کسی واقعے کی قانونی کارروائی 245 کے تحت جاری ہو اور سینکڑوں افراد قانون کے سامنے جواب دہ بن چکے ہوں، تو پھر اس پر سوالات ایک منظم پراپیگنڈا ہی ہیں۔ سہیل آفریدی نے بھی حقیقت تلاش کرنے سے زیادہ وقت ضائع کرنے کا ڈھونگ شروع کر رکھا ہے۔ بحث یہ نہیں کہ سوال پوچھنے کی اجازت نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ آخر واضح ثبوتوں کے باوجود کیوں آنکھیں بند کی جارہی ہیں ؟ریڈیو پاکستان پر حملہ بھی اسی الجھن کی مثال ہے۔ جب کسی واقعے کے شواہد موجود ہوں، گرفتاریاں عمل میں آ چکی ہوں اور اعترافی بیانات ریکارڈ ہوں، تو یہ کہنا کہ ’’اصل سازش ابھی تک بے نقاب نہیں ہوئی‘‘ یا ’’پتہ لگایا جائے کہ اندر کون آیا‘‘ حقیقت کو مبہم رکھنے کی کوشش محسوس ہوتی ہے۔ سیاست میں غیر یقینی فضا پیدا کر کے یہ تاثر دینا کہ ملکی حالات خراب ہیں، بظاہر سہیل آفریدی کا ایجنڈا نظر آرہا ہے۔ خیبر پختونخوا کے حالات آپ کے سامنے ہیں ، ایسے میں عوام کی خدمت کے بجائے یہ وزیراعلیٰ صاحب صرف اپنے لیڈر کی رہائی کا راگ الاپ رہے ہیں اور جیل جا کر گائیڈ لائنز پر انحصار کر رہے ہیں۔ یہ پالیسی پی ٹی آئی کی بقا کے لئے اور سہیل آفریدی جیسے رہنماؤں کے لئے بھی کچھ فائدہ مند ثابت نہیں ہونے والی۔ پاکستان پہلے بھی سنگین داخلی اور خارجی دباؤ سے گزرتا رہا ہے۔ ایسے میں جب سیاسی بیانیے کے ذریعے ریاستی اداروں کو متنازع بنا دیا جائے، انہیں مشکوک ثابت کرنے کی کوشش کی جائے، یا ایسے سوالات کھڑے کیے جائیں جو شدت پسند تنظیموں کے بیانیے سے ملتے جلتے ہوں، تو ملک کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں سوشل میڈیا پر بعض ویڈیوز اور خطاب ایسے سوالات اٹھاتے ہیں جن کا تعلق محض اظہارِ رائے سے نہیں رہتا بلکہ وہ براہِ راست ملکی سلامتی کے حساس پہلوؤں سے جڑ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے مواد کو بعض اوقات مختلف قوانین، مثلاً سائبر قوانین کے تحت قابل اعتراض سمجھا جاتا ہے۔ شدت پسندی اس خطے کا وہ زخم ہے جو کینسر کی طرح پھیل رہاہے۔ سہیل آفریدی کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ یہی کچھ واضح بھی ہو رہا ہے۔ اس حقیقت سے نظریں چرانا ممکن نہیں کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کی وجہ سے بہت قربانیاں دی ہیں۔ وہاں امن کے قیام میں فوج، پولیس، لیویز، مقامی عمائدین سب نے اپنا کردار ادا کیا مگر بعض آپریشن ایسے بھی تھے جن کی شدت، وسعت اور خطرے کا پیمانہ اس قدر بڑا تھا کہ صرف صوبائی پولیس کے بس کی بات نہیں تھی۔ وانا کے کیڈٹ کالج میں بچوں کی حفاظت کا معاملہ ہو یا قبائلی اضلاع میں بڑے حملوں کو روکنے کے لیے فوری ردعمل کی ضرورت… کئی مواقع پر فوج نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے ایسے میں سہیل آفریدی کو چاہیے کہ وہ حقائق سے نظریں نہ چرائیں۔

ٹیگز: