Wed, September 16, 2026

کشمیر کا مسئلہ بھی زیر غور آ سکتا ہے ، بھارت کو ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت پر تحفظات

کشمیر کا مسئلہ بھی زیر غور آ سکتا ہے ، بھارت کو ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت پر تحفظات

لندن : برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کو یہ خدشہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قائم کردہ "بورڈ آف پیس" مستقبل میں کشمیر جیسے حساس مسائل کو عالمی سطح پر اٹھا سکتا ہے، جو بھارت کے لیے پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔

غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے قائم ہونے والے اس بورڈ میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت 59 ممالک نے شمولیت اختیار کی ہے۔ ٹرمپ نے بھارت کو بھی اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے، لیکن بھارت ابھی تک اس دعوت کو قبول کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ نہیں کر سکا۔

بھارت کے سابق سفیر اکبر الدین اور رنجیت رائے نے اس بورڈ میں شمولیت کو بھارت کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بورڈ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف جا سکتا ہے اور بھارت اس میں شامل ہو کر عالمی سطح پر اپنے فیصلوں کی توثیق کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ رنجیت رائے کا کہنا تھا کہ بورڈ کی کوئی مدت نہیں ہے اور یہ غزہ کے علاوہ کسی اور مسئلے پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، جیسے کہ کشمیر۔

خارجہ امور کی ماہر نروپما سبرامنیم نے بھی خبردار کیا کہ بھارت کو بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے قبل احتیاط سے فیصلہ کرنا چاہیے، کیونکہ اس میں شامل ہونے سے بھارت کی عالمی پوزیشن اور مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، اس بورڈ کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور بھارت کو اس میں جلدی میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔

بھارتی جریدے دی ہندو کے مطابق، پاکستان کی اس بورڈ میں شمولیت بھارت کے لیے ایک انتباہ ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر اگر ٹرمپ نے کشمیر کے مسئلے کو اس بورڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا، تو بھارت کے لیے اس پر ردعمل ظاہر کرنا مشکل ہو جائے گا۔

نیویارک ٹائمز نے بھی لکھا کہ ٹرمپ اس بورڈ کو عالمی امن کے معاملات میں اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے امریکہ کا عالمی غلبہ مزید مستحکم ہو سکتا ہے۔

ٹیگز: