پاکستان نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں بورڈ آف پیس میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کر لی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں یہ تقریب ورلڈ اکنامک فورم کے 56 ویں سالانہ اجلاس میں ہوئی۔ جس میں وزیر اعظم شہباز شریف ، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سینئر وزیر بھی شریک تھے۔ غزہ میں امن کے قیام کے لئے بورڈ آف پیس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بہترین پینترا ہے مگر یہ دنیا میں عملی امن کے لئے کتنا کارآمد ثابت ہوگا یہ کہنا ذرا مشکل ہے۔ کیونکہ اس کے نتائج مختلف علاقائی صورتحال، قدیم تنازعات اور جنگی حالات سے جڑے ہوئے ہیں۔
امریکہ کی امن بورڈ کے قیام اور ورکنگ پر گزشتہ ایک سال سے تیاری جاری تھی۔ بورڈ کے ٹی او آرز اور رکن ممالک سے روابط بھی کسی سے ڈھکے چھپے انداز میں نہیں ہوئے بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم ممالک کو اعتماد میں لے کر غزہ امن بورڈ تشکیل دیا ہے۔ تاہم امن بورڈ کے اعلان اور حتمی ورکنگ میں گزشتہ چار مہینوں میں واضح تبدیلی نظر آئی ہے۔ ستمبر 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے 20 نکاتی امن منصوبہ تجویز کیا تھا۔ جس کے تحت غزہ کو ٹیکنوکریٹک یعنی غیر سیاسی فلسطینی کمیٹی کی عارضی حکومت کے تحت چلایا جائے گا۔ بورڈ آف پیس میں شریک ممالک کو تین سال کی رکنیت ملے گی اور وہ شمولیت کے پہلے سال 1 بلین ڈالر نقد دینے کے پابند ہوں گے۔
بورڈ آف پیس کے چارٹر میں 13 نکات شامل ہیں۔ جن میں شریک ممالک کی رکنیت سازی، طریقہ کار اور تمام تفصیلات درج ہیں۔ مگر اس چارٹر میں لفظ غزہ کا ذکر کہیں نہیں ہے۔ جو بورڈ پر اعتراض کی دوسری بڑی وجہ بنا ہے۔ پہلی وجہ اعتراض امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اس امن بورڈ کا سربراہ ہونا ہے۔ اس عہدے کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے لئے فنڈز میں بھی کتوتی کی ہے۔ چارٹر میں یہ بھی لکھا ہے امن بورڈ ان علاقوں اور ممالک میں پائیدار امن کے لئے کام کرے گا جہاں جنگ جاری ہو اور جہاں تصادم کا خطرہ موجود ہو گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بورڈ آف پیس کے نو منتخب چیرمین ہوں گے اور اس کے ساتھ وہ بورڈ میں امریکہ کی الگ سے نمائندگی بھی کریں گے۔ دو تگڑے عہدوں کے علاوہ اہم بات یہ ہے کہ چیرمین(ٹرمپ) کو کوئی رکن ملک عہدے سے ہٹا نہیں سکتا جب تک چیئرمین خود رضاکارانہ طور پر استعفیٰ نہ دیں یا پھر اسے ایگزیکٹو بورڈ متفقہ طور پر نااہل قرار نہ دے۔ نااہل یا استعفیٰ دینے کی صورت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بورڈ کی سربراہی کے لئے خود جانشین ملک نامزد کریں گے۔
بعض مبصرین امن بورڈ کے چارٹر اور تشکیل کا جائزہ لینے پر بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ جیسی ایک دوسری عالمی تنظیم کے تناظر میں دیکھ اور پرکھ رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر کے عہدے کی مدت مکمل ہونے کے بعد بھی بورڈ آف پیس کے چیرمین رہیں گے۔ ٹرمپ عالمی جنگ بندی کا ہنر رکھنے کے ساتھ ساتھ کمزور ممالک کی غلطیوں کو پکڑنے کے بھی ماہر ہیں جو آج انکا مضبوط ترین ٹرمپ کارڈ بن کر سامنے آیا ہے۔ جہاں تک بات ہے کئی دہائیوں سے جاری فلسطین میں غزہ کی پٹی میں بد امنی اور گزشتہ دو سال کی بدترین جنگ اور اس کے بعد کی صورتحال کی تو گزشتہ ہفتے امریکہ نے غزہ میں انتظامی معاملات کے لئے قومی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ جسکی قیادت غزہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر علی کریں گے۔ ایسا اس لئے کرنا ضروری تھا کیونکہ امن بورڈ میں کوئی فلسطینی شامل نہیں ہے۔ حتیٰ کہ بورڈ آف پیس کے سرکاری لوگو میں نقشہ بھی صرف امریکہ کا ہے۔ بورڈ آف پیس کا سال 2025 میں اقوام متحدہ سے منظور شدہ مینڈیٹ بورڈ آف پیس کو غزہ میں سال 2027 تک قیام امن اور اسکی بحالی کے لئے کام کرنے کا پابند تھا۔ مگر اب اسے تبدیل کر کے ادارے کے مینڈیٹ کو عالمی تنازعات کے حل کیلئے وسیع کیا گیا ہے۔
اس بات کو نکارا نہیں جا سکتا کہ مستقبل قریب میں امریکہ اپنی یکطرفہ پالیسیوں کی عملدرآمد کے لئے اس امن فورم کا موثر استعمال کرے گا۔ دنیا کے لئے یہ پالیسیاں صرف امریکہ کی ہوں گی یا اسرائیل کی یا پھر دونوں ممالک کی مشترکہ یہ حقیقت جلد سامنے آ جائے گی۔ اقوام متحدہ کا یہ متبادل ادارہ اگرچہ جنگوں کے جلد نتائج سامنے لانے میں مددگار ثابت ہو گا مگر یہ دور حاضر میں امریکہ کے ہاتھ میں ایک بہت توانا ادارہ ہو گا۔ مسئلہ فلسطین کے جلد اور منصفانہ حل کے لئے قائم اس امن بورڈ سے مسلم ممالک کی توقعات وابستہ ہیں مگر اس کے عالمی مینڈیٹ میں ساتھ دہائیوں سے جاری مسئلہ کشمیر کاحل ترجیحی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں دہائیوں سے نہتے کشمیری مسلمان بھارت سے آزادی مانگ رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر وادی میں سات لاکھ بھارتی قابض فورسز کا کنکروں سے مقابلہ کرنے والے کم بہن بھائی پاکستان کی طرف دیکھ رہے۔ حکومت پاکستان کو بہترین تھنک ٹینکس، وکلائ ، سول سوسائٹی، کشمیری حریت رہنماو¿ں کی خدمات بروکار لاتے ہوئے بورڈ آف پیس میں کشمیر کی بھارت سے آزادی کے لئے کاوشیں کرنے کی ضرورت ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر دنیا کا سب سے بڑا کھلا جیل ہے جہاں کشمیریوں کو انکا حق خودارادیت حاصل کرنے کے لئے اپنی نسلیں قربان کرنی پڑ رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے روائیتی صدر نہیں ہیں۔ انکو پاکستان بھارت سمیت دس بڑی جنگیں رکوانے کا اعزاز حاصل ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے اور قیام امن کے لئے بورڈ آف پیس میں موثر ترین کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کیوں یہ غیر روایتی امریکی صدر دنیا میں اپنی رٹ قائم کرنے کے مشن پر ہیں۔