Wed, September 16, 2026

ٹرمپ کی 'ناکہ بندی' مہم جوئی پر برطانیہ اور فرانس کا تحفظات کا اظہار، لندن کا امریکی آپریشن میں شمولیت سے انکار

ٹرمپ کی 'ناکہ بندی' مہم جوئی پر برطانیہ اور فرانس کا تحفظات کا اظہار، لندن کا امریکی آپریشن میں شمولیت سے انکار


لندن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کے اعلان نے واشنگٹن اور اس کے اہم ترین یورپی اتحادیوں کے درمیان خلیج پیدا کر دی ہے۔ برطانوی حکومت نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی ایسی عسکری کارروائی یا ناکہ بندی کا حصہ نہیں بنے گا جو بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہو۔
برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان ہونے والے طویل ٹیلیفونک رابطے میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر غور کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ خطہ کسی نئے جنگی محاذ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
کیئر سٹارمر نے صدر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ  برطانیہ آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف کسی یکطرفہ امریکی آپریشن میں شامل نہیں ہوگا۔ بحری گزرگاہوں کے تحفظ کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے بین الاقوامی تعاون اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
وزیراعظم نے لبنان میں بڑھتی ہوئی انسانی تباہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وہاں فوری جنگ بندی کو ناگزیر قرار دیا۔برطانیہ اور فرانس نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر صدر ٹرمپ کی ناکہ بندی کی دھمکی کے برعکس ایک "مشترکہ عالمی لائحہ عمل" پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کا موقف ہے کہ سمندری تجارت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی شراکت داروں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے تاکہ عالمی معیشت کو بڑے جھٹکے سے بچایا جا سکے۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور فرانس کا یہ مشترکہ موقف صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ قریبی اتحادیوں کے پیچھے ہٹنے سے ایران پر دباؤ بڑھانے کی امریکی کوششیں کمزور پڑ سکتی ہیں، جبکہ تہران کو اس تقسیم سے سفارتی فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔

ٹیگز: