اسلام آباد : پاکستان، اٹلی، سپین اور یونان کے وزرائے داخلہ نے غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے ایک مشترکہ پالیسی فریم ورک پر اتفاق کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی قیادت میں پاکستانی وفد نے روم میں مائیگریشن ڈائیلاگ میں شرکت کی، جس میں اطالوی، ہسپانوی اور یونانی وزرا بھی موجود تھے۔
اس موقع پر اٹلی، سپین اور یونان کے وزرائے داخلہ نے پاکستان کی غیر قانونی امیگریشن روکنے کی کوششوں کو سراہا۔ محسن نقوی کی تجویز کردہ "لیگل پاتھ وے" کے ذریعے غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے تینوں ممالک نے اتفاق کیا اور یورپی یونین کے ذریعے پاکستان کی معاونت کرنے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان، اٹلی، سپین اور یونان نے ایک مربوط حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا تاکہ غیر قانونی امیگریشن، انسانی سمگلنگ اور منشیات کی روک تھام کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی یہ فیصلہ کیا گیا کہ سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو یورپ سے پاکستان واپس لایا جائے گا اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اگلا اجلاس پاکستان میں منعقد ہوگا۔
محسن نقوی نے اٹلی کی جانب سے 10,500 ملازمتوں کے مواقع مختص کیے جانے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یورپی ممالک کو غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے قانونی طریقوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یونان اور سپین کے وزرا نے پاکستانیوں کو ملازمتوں کے مواقع دینے کی یقین دہانی کرائی۔