Wed, September 16, 2026

معاشی ایمرجنسی اور بزنس کمیونٹی سے رہنمائی

معاشی ایمرجنسی اور بزنس کمیونٹی سے رہنمائی

قصہ ہے ایک ایسے مسافر کا جو بھری دوپہر میں ریگستان کے بیچوں بیچ کھڑا تھا، اس کے پاس پانی کم تھا اور سورج مسلسل اس کے بدن کو جھلسا رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر اب بھی قدم نہ بڑھایا تو اندھیروں میں ڈوب جائے گا۔مسافر کا فیصلہ ہی اس کی قسمت کا تعین کرے گا۔ پاکستان کی معیشت اسی مسافر کی طرح ہے، جس نے کئی بار تپتی دوپہروں اور اندھی راتوں کا سامنا کیا ہے۔ اب پھر وقت آن پہنچا ہے کہ ہم فیصلہ کریں کہ کیا ہمیں آرام دہ دفتروں میں بیٹھ کر تماشا دیکھنا ہے یا ہمت کر کے راستہ چننا ہے؟۔
ہمارے ملک کی معیشت کئی دہائیوں سے کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے۔ قرضوں کا بوجھ، برآمدات کی کمی، درآمدات پر انحصار، ٹیکس نہ دینے کی عادت اور سب سے بڑھ کر پالیسیوں میں عدم تسلسل نے ہمیں بار بار بحران میں ڈالا ہے۔ دنیا نے ہمیں محض ایک ہجوم سمجھنا شروع کر دیا تھا، ایک ایسی قوم جو اپنے معاملات سنبھال نہیں سکتی۔ سیاست دانوں کی آپسی لڑائیاں اور غیر ذمہ دار بیانیے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ یہ بیانیہ اب دم توڑ رہا ہے، ہماری قربانیوں، ہماری صلاحیتوں اور کچھ پالیسی اقدامات نے دنیا کو باور کرایا ہے کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس ابھرتے ہوئے تشخص کو برقرار رکھ پائیں گے یا پھر معمولی غفلت ہمیں دوبارہ اندھیروں میں دھکیل دے گی؟۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ’’معاشی ایمرجنسی‘‘ کی ضرورت پڑتی ہے۔ معاشی ایمرجنسی کوئی معمولی اعلان نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ایسا فیصلہ کن قدم ہے جس کے تحت ریاست اپنی معیشت کو بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر غیر معمولی اقدامات کرتی ہے۔ اس میں حکومتی اخراجات پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے، درآمدات کو محدود کیا جاتا ہے، برآمدات بڑھانے کے لیے سہولتیں دی جاتی ہیں، ٹیکس وصولی کو سخت کیا جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر کاروباری ماحول کو بہتر بنانے پر فوری توجہ دی جاتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے معاشی ایمرجنسی کا مطلب ہے کہ ہم اپنی معیشت کے ڈھانچے میں وہ جرأت مندانہ تبدیلیاں لائیں جنہیں عام حالات میں برسوں لگ جاتے۔
یہاں اصل کردار بزنس کمیونٹی کا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ملک کا پہیہ کاروباری طبقے کی بدولت چل رہا ہے۔ حکومت کے پاس اخراجات کے لیے جو پیسہ آتا ہے وہ زیادہ تر ٹیکسوں کے ذریعے بزنس کمیونٹی ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ انہی لوگوں کو عزت دی جاتی ہے نہ فیصلہ سازی میں ان کی شمولیت ہوتی ہے۔ ایک ایم پی اے یا ایم این اے کے پاس جب ریونیو، پولیس اور ترقیاتی کاموں کا ڈھیر ہوتا ہے تو وہ کسی کاروباری شخص کی تجاویز سننے کی زحمت نہیں کرتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بزنس مین مایوس ہو کر سرمایہ باہر لے جاتے ہیں یا خود ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ہمیں یہ رویہ بدلنا ہوگا۔ میری تجویز ہے کہ ٹیکس ادا کرنے والے ایک سو کامیاب بزنس مینوں کی کونسل بنائی جائے۔ یہ وہ لوگ ہوں جو اربوں کھربوں کی معیشت سنبھالتے ہیں۔ انہیں وزارتیں دی جائیں، پالیسی سازی میں شریک کیا جائے۔ یہ لوگ کسی مراعات کے محتاج نہیں، نہ انہیں تنخواہ چاہیے، نہ سرکاری گاڑیاں، نہ ڈرائیور۔ ان کے پاس پہلے ہی دولت ہے، لیکن ان کے دل میں ملک کی محبت ہے۔ یہی محبت انہیں دن رات ایک کرنے پر مجبور کرے گی۔ ایسے ایسے کاروباری افراد ہیں جو ایک دن میں چار چار کروڑ کما لیتے ہیں۔ اگر ان کی صلاحیتوں کو قومی سطح پر بروئے کار لایا جائے تو پاکستان کی معیشت کئی گنا آگے جا سکتی ہے۔
دنیا کے کامیاب ملکوں میں اصول یہی رہا ہے کہ ’’رائٹ مین فار رائٹ جابّّ‘‘۔ افسوس کہ ہمارے ہاں یہ اصول کبھی رائج نہ ہو سکا۔ سیاست دانوں، بیوروکریسی اور مفاد پرست گروہوں نے ہمیشہ اس اصول کو کچل ڈالا۔ لیکن بزنس کمیونٹی جانتی ہے کہ یہ اصول کتنا قیمتی ہے۔ کاروبار میں اگر غلط آدمی کو ذمے داری دے دی جائے تو نقصان بھی اسی کے ساتھ جڑا ہوتا ہے، اسی لیے بزنس مین ہمیشہ حساب کتاب، صلاحیت اور نتائج کو دیکھتے ہیں۔ یہی سوچ اگر ریاستی سطح پر نافذ ہو جائے تو ترقی کا سفر کوئی خواب نہیں رہے گا۔اس وقت ضرورت ہے کہ سپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل کو ضلعی سطح تک لے جایا جائے۔ ہر ضلع میں سب سے کامیاب کاروباری شخص کو اس کونسل کا سربراہ بنایا جائے اور انتظامیہ کو اس کے ماتحت کر دیا جائے۔ جب مقامی بزنس مین کو اختیارات ملیں گے تو وہ جانتے ہیں کہ صنعتیں کیسے لگانی ہیں، سرمایہ کیسے لانا ہے اور نوجوانوں کو روزگار کیسے دینا ہے۔ یہ ماڈل اگر کامیاب ہو گیا تو پاکستان کی صنعت کاری چند برسوں میں عروج پر پہنچ سکتی ہے۔
معاشی ایمرجنسی میں ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اخراجات پر قابو کیسے پایا جائے۔ حکومت کو سب سے پہلے اپنے غیر ضروری اخراجات کم کرنا ہوں گے، سرکاری پروٹوکول، مراعات اور فضول منصوبوں پر کٹ لگانا ہوگا۔ دوسری طرف بزنس کمیونٹی کو ٹیکس نیٹ بڑھانے اور برآمدات بڑھانے کے لیے سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی۔ ہمیں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار پر بھی توجہ دینا ہوگی، کیونکہ یہی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ لیکن سب سے بڑھ کر ہمیں اپنے کامیاب بزنس مینوں کو روکنا ہو گا جو مایوسی کے عالم میں ملک چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں۔ اگر ہم ان کی عزت کریں، ان کے مسائل حل کریں، انہیں پالیسی سازی میں شریک کریں تو وہ اپنی صلاحیتیں ملک کے لیے وقف کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ معیشت ہی اصل طاقت ہے۔ فوجی قوت ہو یا سیاسی استحکام، سب کا دارومدار معیشت پر ہوتا ہے۔ دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک باعزت نہیں ہو سکتی جب تک اس کی معیشت مضبوط نہ ہو۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان کا بیانیہ بدل رہا ہے، دنیا ہمیں ایک قوم کے طور پر تسلیم کرنے لگی ہے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اس مثبت تشخص کو کس طرح برقرار رکھتے ہیں۔
 پاکستان کے پاس اب وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں۔ معاشی ایمرجنسی نافذ کریں، بزنس کمیونٹی کو اعتماد میں لیں، اختیارات ان کے حوالے کریں اور دیکھیں یہ ملک کس طرح بدلتا ہے۔ اگر آج ہم نے درست فیصلے نہ کیے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ لیکن اگر ہم نے ہمت دکھائی اور کاروباری طبقے کو اپنا حقیقی پارٹنر بنایا تو کوئی طاقت ہمیں ترقی اور خوشحالی سے روک نہیں سکے گی۔ یہی وقت ہے کہ ہم مسافر کی طرح راستہ چنیں اور آگے بڑھیں، کیونکہ رکے تو ڈوب جائیں گے، چلے تو منزلیں قریب آ جائیں گی۔

ٹیگز: