Wed, September 16, 2026

فیلڈمارشل سے ملاقات،بزنس کمیونٹی کیلئے باعث اطمینان

فیلڈمارشل سے ملاقات،بزنس کمیونٹی کیلئے باعث اطمینان

 فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے ملک کی اہم کاروباری شخصیات سے ہونیو الی ملاقات میں انہیں ملکی معیشت کے موجودہ حالات اور مستقبل کے معاشی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے بعد کاروباری برادری کے نمائندے بہت حد تک مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔19جولائی کو ہونے والی ہڑتال کے بعد یہ ملاقات پاکستان کی بزنس کمیونٹی میں ایک نئی روح پھونک دیتی ہے۔ حالانکہ حکومت کی جانب سے فنانس بل میں کاروباری برادری کے مفادات کے خلاف عائد کردہ ٹیکسز اور ایف بی آر کو دیئے گئے اختیارات کے خلاف ہڑتال میں بزنس کمیونٹی دوحصوں میں تقسیم کے بعد آپس میں ہی متصادم (بیانات کی حد تک) ہوگئی۔ ایف پی سی سی آئی سمیت ملک کے اہم ترین چیمبرز آف کامرس کے نمائندوں نے وزیر خزانہ کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی جس کی سربراہی وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان کررہے تھے،ان سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران وعدے بھی کئے گئے اوروہ وعدے ایک ماہ بعد وزیر اعظم سے وفا کرانے کا وعدہ بھی کیا گیا،اس پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ جو فیڈریشن ہائوس کراچی میں بیٹھنے کے بجائے اسلام آباد میں ہی رہناپسند کرتے ہیں تاکہ وہ حکومتی اہلکاروں کے قریب رہ سکیں،وہ ہارون اختر کی بات مان گئے اور ہڑتال نہ کرنے کی یقین دہا نی کرادی لیکن لاہور چیمبر اور کراچی چیمبر 19جولائی کی ہڑتال کے اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور ہڑتال کربھی ڈالی ۔یہ الگ بات ہے کہ کراچی میں 80فیصد صنعتوں کا پہیہ چلتا رہا البتہ بڑی اور تھوک مارکیٹیں بند رہیں اور سبزی وفروٹ منڈی بھی بند رہی۔ہڑتال تو جیسے تیسے ہوگئی مگر یہاں ہارون اخترخان نے ڈرامائی انداز میں ایک نجی چینل پر ہڑتال کے مسئلے پر کے سی سی آئی کی قیادت جاوید بلوانی اور زبیرموتی والا کی معافی کی بات کرڈالی۔ہارون اختر کی اس بات نے تو جیسے جلتی پر تیل کا کام کیا اور کراچی کی بزنس کمیونٹی جو اپنے ہردلعزیز لیڈر سراج قاسم تیلی کی وفات کے بعد زبیرموتی والا کے پیچھے چل پڑی تھی،ہارون اختر خان کی نجی چینل پر کی گئی گفتگو میں اعلانیہ طور پر جاوید بلوانی اور زبیرموتی والا نے ہڑتال پر مجھے فون کرکے معافی مانگ لی ہے،کہہ کر زبیرموتی والا اور جاوید بلوانی کی بے باک قیادت کو یقیناً نقصان پہنچایا اور پھر جاوید بلوانی نے تقریباً130سے150تاجروں پر مشتمل اجلاس بلا کراپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی اور یہ کہا کہ ہارون اختر نے مجھ(جاوید بلوانی)سے یہ کہا ہے کہ میری طرف سے کہہ دیں کہ نجی ٹی وی پر میرے منہ سے معافی کی بات غلط نکل گئی۔ لیکن جاوید بلوانی کو تو ہارون اختر خان سے یہ کہنا چاہئے تھا کہ وہ بھی کراچی چیمبر میں آکر تاجروں کے اجتماع میںیہ بتائیں کہ معافی کا الزام غلط ہے۔اس 
معافی کے بارے میں بات کرنے کیلئے بلایا گیا کے سی سی آئی میں ہونے والا اجلاس میدان جنگ بن گیا۔اورچیئرمین پاکستان ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن عبدالرئوف ابراہیم نے سوال کیا کہ جاوید بلوانی اور زبیرموتی والا نے ہارون اختر سے معافی کیوں مانگی۔عبدالرئوف ابراہیم کے سوالات پر ماحول کشیدہ ہوگیااوربعد ازاںچیمبر اراکین اور عبدالرئوف ابراہیم میں تلخ کلامی ہوگئی۔عبدالرئوف ابراہیم نے کہا کہ ہڑتال اگر نہیں کرنا تھی تو دکانداروں کو کیوں نقصان پہنچایا۔جب شور بڑھا تو بی ایم جی کے بعض حامی تاجروں نے عبدالرئوف ابراہیم کے ساتھ آنے والے شخص سے انکا موبائل چھین لیا جو اس وقت وڈیو بنارہاتھا۔ عبدالرئوف ابراہیم نے الزام عائد کیا کہ چیمبر کی لا اینڈ آرڈر کمیٹی کے رکن رانا اکرام نے میرا موبائل چھینا بعد ازاں عبدالرئوف ابراہیم نے رانا اکرام کے خلاف میٹھا در تھانے میں درخواست جمع کرادی۔ دوسری جانب جھگڑے کے حوالے سے رانا اکرم کا کہنا تھا کہ رؤف ابراھیم کے حوالے سے انہوں نے بھی شکایت متعلقہ تھانے میں جمع کرادی ہے،کے سی سی آئی کے صدر جاوید بلوانی نے چیمبر میں اجلاس کے دوران رئوف ابراہیم کے موبائل چھن جانے کے حوالے سے کہا کہ مجھے رؤف ابراھیم کے موبائل چھینے جانے کا علم نہیں،میرے سامنے ہاتھا پائی ہورہی تھی اتنے لوگوں میں آپس میں متصادم لوگوں کو چھڑا نہیں سکتا تھا لیکن یہ معاملہ رؤف ابراھیم اور رانا اکرم کے درمیان ہوا تھا۔خیرجب لاہور چیمبر کے صدر ابوذرشاد ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ سے بطور صدر فیڈریشن استعفے کا مطالبہ کرنے اور حکومت کے خلاف پریس کانفرنس کرکے ان کے ساتھ دوبارہ بیٹھ سکتے ہیں تو پھر کراچی چیمبر میں لڑنے والے بھی ایک دوسرے سے گلے مل سکتے ہیں۔ہارون اختر خان اور عاطف اکرام شیخ لاہور چیمبر کے صدر ابو ذرشادکی بہن کی وفات پر تعزیت کیلئے ان کے پاس پہنچے تھے۔لیکن کراچی کی بزنس کمیونٹی ہڑتال کے مسئلے پر ایف پی سی سی آئی کے رویہ سے ناراض دکھائی دی۔صدر نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ انڈسٹری (نکاٹی) فیصل معیز خان نے تو یہ واضح طور پر کہہ ڈالا کہ ایف پی سی سی آئی بزنس کمیونٹی کی نمائندگی کے بجائے حکومت کی بی ٹیم بن گئی اور فیصل معیز نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف سے درخواست کی کہ وہ تاجرو صنعتکاروں کے مسائل حل کرانے میں مدد کریں۔ فیصل معیز خان کی یہ دعا قبل ہی ہوگئی اور گزشتہ روزاسلام آباد میںفیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے ملک کی کاروباری شخصیات کی ملاقات ہوئی جس میں ملکی معیشت سے متعلق بریف کیا گیا۔ ملاقات میں گوہر اعجاز، ایس ایم تنویر، اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد،ایف پی سی سی آئی کے صدر اور دیگرچیمبرز آف کامرس کے صدور اوردیگر بزنس مین موجود تھے۔گوہراعجازنے کہا کہ ملکی معیشت میں استحکام دکھائی دے رہا ہے، کاروباری برادری حکومت کی معاشی پالیسیوں کو سپورٹ کر رہی ہے لیکن اس بات کی ضرورت ہے کہ معاشی اصلاحات کے لیے کاروباری آسانیاں پیدا کی جائیں اور بجٹ سے متعلق کاروباری برادری کے تحفظات کو دو رکیا جائے، شرح سود کو مہنگائی کے تناسب سے کم کیا جائے، برآمدات پر مبنی معیشت کو آگے چلایا جائے گا، بجٹ تقریر میں کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں جبکہ ملکی کپاس اور کسانوں کو تحفظ دیا جائے۔ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل نے کاروباری برادری کے نمائندوں کو اطمینان سے سنا اور اس ملاقات کے بعد کاروباری نمائندے مطمئن دکھائی دیئے۔بزنس کمیونٹی حکومت سے اپنے مطالبات شائد منوا بھی لے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں ٹیکس فراڈ کی بڑھتی ہوئی وارداتیں قومی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہیں جن پر قابوپانے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کوشدید مشکلات کا سامنا ہے اور ایف بی آر کے چیئرمین اگر معاملات بہتر بنانے کیلئے کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو بزنس کمیونٹی نہ صرف انکا ساتھ دے بلکہ خراب پالیسیوں کو درست کرنے کیلئے تجاویز بھی دے۔ایک اطلاعات کے مطابق ملک میں سالانہ 700 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس فراڈ ہورہا ہے جس میں جعلی انوائسزکا استعمال نمایاں عنصرہے۔ ایف پی سی سی آئی میں پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین کا اس ضمن میں کہنا تھا کہ پاکستان میں سیلز ٹیکس فراڈ کی سطح علاقائی ممالک کے مقابلے میں خطرناک حد تک زیادہ ہے، نظام میں اصلاحات کے باوجود جعلی رسیدوں اورانوائسزکا استعمال مکمل طورپرختم نہیں ہوسکا جس کی روک تھام مکمل ڈیجیٹلائزیشن کے بغیر ممکن نہیں، یہ ایک ایسی بیماری ہے جومکمل علاج کے باوجود دوبارہ سراٹھا لیتی ہے، عدالتوں میں زیرالتواء مقدمات کے فیصلوں کے نتیجے میں گزشتہ مالی سال کے دوران 200 ارب روپے کی وصولی کی گئی،تاہم حالیہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چند بڑی کمپنیوں کی جانب سے 3.4 کھرب روپے کے ٹیکس فراڈ کا ارتکاب کیا گیا ہے جونہ صرف قومی خزانے بلکہ معاشی استحکام کے لیے بھی سخت دھچکا ہے۔ پاکستان میں زیرزمین معیشت60 فیصد کے برابرہے جبکہ تقریباً 43 فیصد رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان ایسے ہیں جوصفرآمدن ظاہرکرتے ہیں جس سے ٹیکس نظام کی خامیوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ تمام ترکوششوں کے باوجود سیلزٹیکس فراڈ پرجزوی قابوپایا گیا ہے جبکہ اس کے خاتمے کے لیے سخت سزاؤں اورسخت آڈٹ نظام کی ضرورت ہے،اب یہ ذمہ داری ایف پی سی سی آئی،پاکستان بھر کے چیمبرز آف کامرس اور انڈسٹری، تجارتی وصنعتی ایسوسی ایشنزکے عہدیداران کی ہے کہ جو ان بزنس مینوں کے نام ایف بی آر کو دیں ٹیکس فراڈ میں شامل ہیں،اور کاروباری برادری کے نمائندے ٹیکس فراڈیوں کو بخوبی جانتے ہیں کیونکہ وہ سب انہی کی صفوں میں موجود ہیں۔اگر پاکستان میں ایف بی آر کو دیئے گئے اختیارات کا استعمال ٹیکس دہندگان کے بجائے ٹیکس چوروں کے خلاف کیا جائے تو محصولات کی وصولی بڑھ سکتی ہے۔

ٹیگز: