Wed, September 16, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کا بیجنگ میں چین-پاکستان بزنس ٹو بزنس کانفرنس میں خطاب

وزیراعظم شہباز شریف کا بیجنگ میں چین-پاکستان بزنس ٹو بزنس کانفرنس میں خطاب

سی پیک نے پاکستان۔۔چین تعلقات کو نئی بلندیوں پر پہنچایا، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوئے

بیجنگ: وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں منعقدہ بزنس ٹو بزنس دوسری سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات نہ صرف قریبی دوست ہیں بلکہ باہمی اعتماد اور تعاون کی بنیاد پر مستحکم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2015 میں صدر شی جن پنگ کے دورہ اسلام آباد نے سی پیک منصوبے کی بنیاد رکھی، جس کے تحت چین نے اب تک 35 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔ سی پیک کے ذریعے پاکستان نے توانائی کے بحران پر قابو پایا اور زراعت و صنعت کے شعبوں کو مستحکم کیا۔

شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان مختلف شعبوں جیسے زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور کان کنی میں چین کے تجربات اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے خصوصی اقتصادی زونز کو چینی سرمایہ کاروں کے لیے اہم مواقع قرار دیا، جہاں سستی لیبر اور دیگر سہولتیں میسر ہوں گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سی پیک کے دوسرے مرحلے میں مزید تعاون کا خواہاں ہے اور چینی سرمایہ کاروں کی حفاظت اور ان کے مسائل کے فوری حل کو حکومت کی اولین ترجیح بنایا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ چینی سرمایہ کاروں کے مسائل کے حل کے لیے وہ ذاتی طور پر موجود رہیں گے۔

شہباز شریف نے چین کی ترقی کو پاکستان کے لیے مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور اس کی عسکری طاقت نے حالیہ پریڈ میں عالمی برادری کو متاثر کیا ہے۔

کانفرنس میں شرکت پر وزیراعظم نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی کانفرنس ہے جو دونوں ممالک کی گہری دوستی اور اقتصادی تعاون کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مستحکم بنیادوں پر گامزن ہے اور سی پیک نے دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دی ہے۔

ٹیگز: