قاہرہ: حماس اور دیگر فلسطینی تنظیموں نے غزہ میں حکومتی امور کی نگرانی کے لیے ٹیکنوکریٹ کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ فیصلہ مختلف فلسطینی گروپوں کے اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس کا مقصد قومی یکجہتی کو فروغ دینا اور فلسطینیوں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنا تھا۔ حماس نے اس ملاقات کو ایک اہم "قومی مکالمے" کی تیاری کے طور پر بیان کیا، جس میں غزہ میں جاری امدادی بحران اور اسرائیل کی طرف سے امداد کی ترسیل میں رکاوٹوں پر بات کی گئی۔
غزہ میں سیز فائر کے دو ہفتے گزر جانے کے باوجود صورتحال بدستور سنگین ہے، اور لاکھوں فلسطینی بھوک و پیاس کا شکار ہیں۔ رفاہ بارڈر بند ہونے سے ہزاروں افراد طبی امداد کے منتظر ہیں، جبکہ عالمی ادارہ صحت اور دیگر امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل روک رکھی ہے۔
اس حوالے سے ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے۔ ایردوآن نے کہا کہ حماس معاہدے کی مکمل پاسداری کر رہی ہے، لیکن اسرائیل جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جس کی وجہ سے غزہ کے عوام مزید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا سمیت دیگر ممالک کو اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ جنگ بندی کا احترام کیا جائے۔