غزہ: حماس نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی فوج غزہ سے اپنا قبضہ ختم کردے، تو وہ اپنے تمام ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے کو تیار ہے۔ حماس کے مذاکراتی سربراہ خلیل الحیہ نے کہا کہ ان کے ہتھیار اسرائیلی قبضے اور جارحیت کے ردعمل میں ہیں، اور اگر یہ قبضہ ختم ہو جائے تو یہ ہتھیار فلسطینی ریاست کے اختیار میں دے دیے جائیں گے۔
خلیل الحیہ نے مزید وضاحت کی کہ ان کا مقصد ایک مکمل خودمختار فلسطینی ریاست ہے۔ حماس نے اس بات کی بھی حمایت کی کہ اقوامِ متحدہ کی فورسز غزہ میں تعینات کی جائیں تاکہ جنگ بندی کی نگرانی اور سرحدوں کی حفاظت کی جا سکے، تاہم حماس نے یہ واضح کیا کہ وہ ایسی فورس کو مسترد کرتے ہیں جس کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ قطر کے وزیراعظم نے بھی کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اسرائیل اپنے فوجیوں کو علاقے سے واپس نہیں لے لیتا۔ مصر نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں 5,000 پولیس اہلکاروں کی تربیت کرے گا اور انہیں ممکنہ طور پر استحکام فورس کا حصہ بنایا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیل کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، اور تازہ اسرائیلی کارروائیوں میں مزید 7 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ 11 اکتوبر 2025 کے بعد سے اسرائیلی فوج 367 فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی کہا کہ غزہ میں اسرائیل نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
اس وقت تک اسرائیلی حملوں میں 70,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور 120,000 سے زائد زخمی ہیں، جو اس جنگ کے انسانیت سوز اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔