Wed, September 16, 2026

اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات، پیش رفت کی امید

اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات، پیش رفت کی امید

غزہ : اسرائیل کے چیف آف سٹاف ایال زامیر نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ایک معاہدہ طے کرنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں، کیونکہ اسرائیل نے حماس کی فوجی طاقت اور حکومتی صلاحیتوں کو قابل ذکر نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے نتیجے میں اب حالات اس معاہدے پر آگے بڑھنے کے لیے سازگار ہو گئے ہیں۔

دوسری طرف، قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، جہاں حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے لچک دکھانے کی کوشش کی ہے۔ حماس کے رہنما طاہر النونو نے کہا کہ موجودہ مذاکرات میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی معاہدے کے کامیاب نفاذ کے لیے بین الاقوامی ضمانتوں کی ضرورت ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے 60 دن کی جنگ بندی اور مغویوں کی واپسی کے حوالے سے ایک اچھا موقع ملنے کا ذکر کیا ہے، جبکہ وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے غزہ میں جنگ بندی کی ممکنیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر عارضی جنگ بندی معاہدہ طے پاتا ہے، تو پھر مستقل جنگ بندی پر بات چیت کی جائے گی۔

امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف نے کہا کہ اسرائیل اور حماس نے دوحہ میں قریبی بات چیت کے دوران 4 میں سے 3 اہم مسائل حل کر لیے ہیں، اور اس ہفتے کے آخر تک کسی معاہدے تک پہنچنے کی امید ہے۔ البتہ، غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے حوالے سے اختلافات ابھی بھی برقرار ہیں، جہاں حماس چاہتی ہے کہ اسرائیلی فوج مارچ میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد اپنی پوزیشنوں پر واپس جائے، مگر اسرائیل اس مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہا ہے۔

اس دوران ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ اقوام متحدہ اور دیگر غیر جانبدار عالمی تنظیموں کو ان علاقوں تک امداد پہنچانے کا اختیار دیا جائے گا، جہاں سے اسرائیلی فوج انخلا کرے گی۔

یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اس جنگ میں اب تک 57,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے، جس سے عالمی سطح پر ایک سنگین انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے۔

ٹیگز: