1937ء میں جب خواجہ حسن نظامی نے انگریزی کا ہفت روزہ اخبار ’’ڈکٹیٹر‘‘ شائع کیا تو اخلاق احمد دہلوی اور اپنے بڑے صاحبزادے کو قائد اعظم کے پاس مذکورہ اخبار کے لیے پیغام لینے کو بھیجا ۔یک نہ شد دو شد کا مضمون مفت میں ہو گیا یعنی لیاقت علی خاں صاحب کے ساتھ ساتھ سردار عبدالرب نشتر بھی اس انٹرویو میں حسن اتفاق سے شریک ہو گئے تھے جو نواب زادہ صاحب کے ہاں اتفاق سے اس انٹرویو کے وقت موجود تھے۔
لیکن خواجہ صاحب نے کہا یہ انٹرویو اخبار میں نہیں چھپ سکتا کیونکہ ہمارے پاس کیا ثبوت ہے کہ یہ سوال جواب جو آپ ان دونوں مسلم لیگ کے لیڈروں سے کر کے آئے ہیں اس طرح ہوئے ہیں جیسے آپ بتا رہے ہیں۔ اخلاق دہلوی نے کہا ثبوت کی کیا ضرورت ہے۔ کیا آپ کے خیال میں جھوٹ بول رہا ہوں اور یہ باتیں میں نے وہاں نہیں کی ہوں گی؟
خواجہ صاحب نے فرمایا: میاں صاحبزادے تم ابھی بچے ہو۔ تمہیں چاہیے تھا کہ ان دونوں کے دستخط اس انٹرویو پر لے لیتے۔
اخلاق دہلوی نے کہا یہ باتیں لکھی ہوئی کہاں تھیں۔ جو دستخط لیے جاتے۔
خواجہ صاحب نے فرمایا:
بس یہی تو اناڑی پن ہے تمہارا۔ اخبار میں زبانی جمع خرچ نہیں چلتا۔ ہر بات ہوئی کا تحریری ثبوت ہونا چاہیے ہمارے پاس۔‘‘
اور پھر فرمایا:
آپ ایسا کیجئے کہ مظہر انصاری صاحب کے پاس جائے جوبی اے آنرز ہیں اور آنرز انہوں نے انگریزی میں کیا ہے۔ ان کو اپنی اس ساری گفتگو سے آگاہ کیجئے جو آپ کے اور نواب زادہ لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر کے درمیان ہوئی۔ اور ان سے کہئے کہ انگریزی میں اخبار کی زبان میں اس گفتگو میں سے اخبار کے نام دو پیغام بنا دیں۔ تو گویا اس طرح آپ کے ڈکیٹر کے لیے تین پیغام ہو جائیں۔ ایک مسٹر ایم اے جناح کا جو ٹائپ ہوا ہوا یا مع جناح صاحب کے دستخطوں کے ہمارے پاس ہے۔ اور دو پیغامات ان دونوں کے یہ تو ہوئے پیغامات، اب رہ گئیں خبر یں تو وہ بھی مظہر انصاری صاحب الگ سے جمع کر کے آپ کو دیں گے۔ اخلاق دہلوی سے کہا ابھی تم بچے ہو ، اب تم بڑے ہو گئے ہو۔‘‘
یہ الجھن ان کو لے کر بیٹھ جاتی اگر اتفاق سے انہی دنوں وہ اپنی انگریزی کی استطاعت بڑھانے کے شوق میں ڈاکٹر رابندر ناتھ ٹیگور کا ایک مضمون ’’بوائے آف فورٹین نہ پڑھ لیتا جس میں چودہ برس کے لڑکے کی الجھن یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑوں میں شامل کر سکتا ہے نہ بچوں میں۔
خواجہ صاحب کا اخبار ڈکٹیٹر نکل آیا تھا جس میں ہندوؤں کی " اور مسلمانوں کی ’’م‘‘ سے قطع نظر کر کے خواجہ صاحب نے مسلم لیگ کا نقطہ نظر اپنا لیا تھا۔ اور یہ پرچہ لے کر وہ مسلمانوں کی ریاستوں کے دورے پر نکل کھڑے ہوئے تھے۔ حیدر آباد، رامپور اور بہاول پور بھوپال سے لے کر ریاست پٹودی اور دو جانے تک۔
کوئی ایک مہینے کے بعد جب وہ دورہ مکمل کر کے واپس لوٹے تو حسین صاحب نے بتایا کہ کوئی ایک لاکھ چالیس ہزار روپیہ ڈکٹیٹر کے لیے جمع ہو سکا ہے۔ اور میں بہت خوش ہوا کہ اب یہ اخبار واقعی چلے گا لیکن خواجہ صاحب نے فرمایا:
ڈکٹیٹر کا دوسرا شمارہ اعلان کرنے کے لیے شائع کیا جائے گا کہ اقتصادی حالات اجازت نہیں دیتے کہ مذکور ہفت روزہ جاری رکھا جا سکے اس لیے انا للہ و انا الیہ راجعون۔
اخلاق دہلوی و دیگر نے کہا کہ خواجہ صاحب ڈکٹیٹر کے لیے کوئی چندہ کسی نے نہیں دیا تھا۔ تب تو آپ نے یہ ہمت کی کہ انگریزی کا ہفت روزہ جاری کر دیا اور اب جو اتنا چندہ آپ نے جمع کر لیا تو آپ اخبار بند کر رہے ہیں۔ خواجہ صاحب نے فرمایا:
’’میاں صاحبزادے تم ابھی بچے ہو۔ اصل میں خواجہ حسن نظامی کی بظاہر جتنی ناکامیاں پبلک کی نظر میں ہیں وہی خواجہ حسن نظامی کی کامیابیاں ہیں۔ تم چاہتے ہو یہ روپیہ اخبار جاری رکھ کر غارت کر دیا جائے جو اتنے جتن سے جمع ہوا ہے۔ ان روپوں سے پتہ نہیں کتنے غریب پلیں گے۔ یہ رئیس غریبوں کے نام پر کبھی کچھ نہیں دیتے۔ ان کی جیب سے روپیہ نکلوانے کے لیے تحریک یا کسی اخبار کے ذریعے ان کی شہرت کا قصہ جب تک نہ گھڑو، یہ ایک پیسہ کسی کو دیوال نہیں۔ جو اگر کچھ کسی کو بھی دیتے ہیں تو صرف نام کی خاطر ، اب اس روپے سے اس بستی کے یتیموں اور بیواؤں کے پیٹ پلیں گے اور اخلاق تمہیں ایک انگریز کے اخبار کے ایڈیٹر کی تنخواہ بھی ملتی رہے گی۔ آج سے تم ہماری لائبریری کی نگرانی سنبھالو، لائبریری کی ترتیب و تدوین بھی ایک فن ہے۔ اور اب تم بڑے ہو گئے ہو۔ یہ فن بھی تمہیں آنا چاہیے۔‘‘
خواجہ حسن نظامی اور جامع مسجد کے امام صاحب یہ دو شخصیتیں دلی میں ایسی تھیں جن کی پہنچ ہندوستان کے ہر وائسرائے تک ہوتی تھی۔ خواجہ صاحب تو ہر نئے وائسرائے کے آتے ہی اس کی دعوت کرتے اور سارے عمائدین کو جمع کرتے اور ہر وائسرائے کی بیوی کو اپنا لعاب دہن بطور تبرک دیتے۔ یہ عرق گلاب کی شیشیاں تھیں۔ جنہیں خواجہ صاحب کے لعاب دہن کے نام سے تقسیم کیا جاتا تھا اور مسولینی کی بیٹی تک نہایت عقیدت سے یہ لعاب دہن خواجہ صاحب کا اٹلی میں منگواتی تھی۔ یورپ اور ایشیا کی اور ایسی ہی شخصیتیں بھی۔
بے روزگار پڑھے لکھے نو جوانوں کو اس زمانے میں سرکاری دفتروں میں نوکریاں دلوانے میں دلی کی جامع مسجد کے امام صاحب اور خواجہ صاحب ہی کام آتے تھے اور نادار بے سہارا مسلمانوں کے وظیفے بھی انہی بزرگوں کی ہاں سے بندھے ہوئے تھے۔ امام صاحب یہ وظائف جامع مسجد کے وقف کی جائیدار کی آمدنی میں سے اور خواجہ صاحب اسی طرح کسی نہ کسی عنوان سے رئیسوں کی جیب سے روپیہ نکال کر غریبوں میں بانٹتے تھے۔
اس داد و دہش کے باوجود کچھ لوگ ان دونوں بزرگوں کو انگریزوں کا پچھو اور جاسوس سمجھتے تھے،
جنہیں نوکریاں اس لیے نہیں مل سکتی تھیں کہ ان کے باپ یا چاچا کوئی اور رشتے دار تحریک خلافت یا کانگریس کا ساتھ دینے پر جیل جا چکے تھے اور جیل نہ جانا اس زمانے میں عیب سمجھا جاتا تھا۔