پاکستان میں کسی کی بھی حکومت ہو اصل حکومت مافیاز کی ہوتی ہے ، جب سے پاکستان بنا ہے مافیاز کا اس پر قبضہ ہے جو شایدہی کبھی ختم ہوگا، مافیاز نے پاکستان کے نازک جسم پر اتنے زخم لگائے لہو لہان پاکستان اب آخری سانسیں لے رہا ہے اور مافیاز اس بات سے بھی بے نیاز ہیں خدانخواستہ پاکستان اگر نہ رہا یہ اپنے گھناؤنے کاروبار کہاں جا کر چلائیں گے ؟ پوری دْنیا میں شاید ہی ایسا کرپٹ ماحول اْنہیں میسر آئے گا یا آئین و قانون شکنی کے مواقع اْنہیں ملیں گے جیسے پاکستان میں قیام پاکستان سے لے کے اب تک اْنہیں ملے ہوئے ہیں ، ابھی کل میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا بیان پڑھ رہا تھا کہ ’’مینار پاکستان میں مْلک کا سب سے بڑا لیزر لائیٹ شو کروایا جا رہا ہے‘‘ پنجاب کے چونکہ تمام بگڑے ہوئے محکمے ٹھیک ہوگئے ہیں ، کریمینل اور کرپٹ نظام پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے، تھانوں میں رشوت کا تصور ختم ھوگیا ہے ، ہسپتالوں میں مستحق مریضوں کو مفت دوائیں ملنا شروع ہوگئی ہیں ، تعلیمی اداروں میں استاتذہ کی کمی پوری کر دی گئی ہے ، کسان خوشحالی کے گیت گا رہے ہیں ، ہر محکمہ ہر شعبہ باآواز بلند پْکار پْکار کر عوام سے کہہ رہا ہے ’’آؤ ہم میں کوئی نقص ہے تو نکال کے دکھاؤ‘‘، اب اس کے بعد چونکہ کرنے کا اور کوئی کام نہیں رہا تو وزیراعلیٰ مریم نواز نے سوچا ہوگا کیوں نہ مینار پاکستان پر ملک کے سب سے بڑے لیزر لائیٹ شو کا اہتمام کیا جائے ، ہماری اْن سے گزارش ہے بی بی ایسے لاکھوں کارنامے آپ کر لیں وقتی طور پر تو شاید اس سے کچھ شہرت آپ کو مل جائے لیکن اگر آپ وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہی ہیں تو ضروری نہیں اس عہدے کے لئے بھی آپ کو ویسی سہولت کاری فراہم کی جائے جیسی وزیراعلیٰ پنجاب بننے پر فراہم کی گئی تھی ، حالات بدلتے دیر نہیں لگتی، سو اگر آپ جینئوئن طریقے سے وزیراعظم بننے کی خواہش مند ہیں اس کے لئے آپ کو بناؤٹی یا عارضی شہرت کے کچھ کارناموں سے نجات حاصل کر کے پنجاب کے ہر اْس بگڑے ہوئے شعبے کو درست کرنے کی عملی کوشش کرنا ہوگی جو عوام کے لئے بدترین مشکلات پیدا کر رہا ہے اور اس کی نفرت کا شکار آپ ہو رہی ہیں ، آپ کی حکومت کو ایک برس سے زائد کا عرصہ بیت گیا ، پنجاب میں جو گند عمران خان کا وسیم اکرم پلس جو آج کل نامعلوم افراد کا وسیم اکرم پلس بنا ہوا ہے ڈال کر گیا ھے اسے مکمل طور پر صاف کرنے کے لئے سال سوا سال کا عرصہ یقینا بہت کم ہے لیکن اتنا بھی کم نہیں جس سے ہم یہ اندازہ نہ لگا سکیں موجودہ پنجاب حکومت اپنی اہلیت کے اعتبار سے اس وقت کہاں کھڑی ہے ؟ میں کئی بار عرض کر چکا ہوں سی ایم سیکرٹریٹ میں اْنہوں نے بہت دیانتدار قابل افسروں کا انتخاب کیا ہے ، خصوصاًپرنسپل سیکرٹری ساجد ظفر ڈال پر اْن کی اہلیت کے حوالے سے کوئی اْنگلی اْٹھا سکتا ہے نہ اْن کی دیانت پر شک کیا جاسکتا ہے ، یہ بھی درست ہے مختلف محکموں کے لئے سی ایم صاحبہ نے اچھے افسروں کا انتخاب کیا ہے ، پوسٹنگ ٹرانسفرز میں طاقتوروں یا اصل مالکان کی مداخلت بند ہوجائے ، یعنی یہ اختیار اگر مکمل طور پر سی ایم صاحبہ کو مل جائے مزید بہتری آسکتی ہے مگر میں جانتا ہوں یہ ناممکن ہے ، چنانچہ سی ایم صاحبہ صرف اپنے ارکان اسمبلی پر ہی پابندی لگا سکتی ہیں کہ وہ پوسٹنگ ٹرانسفرز میں مداخلت نہ کریں، جن پر اصل میں پابندی لگنی چاہئیے وہ اگر کسی اہم عہدے پر اپنے کسی بندے کی سفارش نہ کریں ہمارے سیاسی حکمران بیچارے پریشان ہو جاتے ہیں کہ کہیں وہ ہم سے ناراض تو نہیں ہوگئے کہ اپنے بندے ہی ہمیں نہیں دے رہے ، جہاں تک سی ایم صاحبہ کی کابینہ کا تعلق ہے مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے چند وزیروں کے علاوہ باقی سارے ایسے ایسے دھندوں میں ملوث ہیں یوں محسوس ہوتا ہے یہ مریم نواز کی نہیں عثمان بزدار کی کابینہ کا حصہ ہیں ، اپنے ذاتی و مالی معاملات کے تحفظ میں وہ پوری طرح یہ کامیاب دکھائی دیتے ہیں ، مگر جب ان ان کی کارکردگی پوچھی جائے فرماتے ہیں’’ہمارے پاس کوئی اختیار ہی نہیں کارکردگی ہم نے خاک دکھانی ہے ؟‘‘ البتہ ایک ’’کارکردگی‘‘ دکھانے کے وہ ماہر ہیں وہ خوشامد کی ہے ، یہ ’’واحد کارکردگی‘‘ہے جس کی بْنیاد پر انہیں اپنی وزارت چھن جانے کا کوئی خدشہ نہیں ہے ، گزشتہ ہفتے پنجاب کا ایک وزیر جو میرا سٹوڈنٹ بھی ہے مجھ سے ملنے آیا، وہ بتا رہا تھا ’’سی ایم صاحبہ کے حکم پر میں نے اپنے محکمے کی کالی بھیڑوں کی ایک فہرست بنائی ہے جنہیں جلد فارغ کر دیا جائے گا ‘‘، میں نے عرض کیا ’’بڑے افسوس کی بات ہے یہ کام تم نے سی ایم صاحبہ کے حکم پر کیا ، یہ کام تم اپنے طور پر نہیں کر سکتے تھے ؟ دوسری بات میں نے اْس سے یہ کہی ‘‘زرا اختیاط کرنا ایسا نہ ہو بجائے اس کے تم کالی بھیڑوں کو فارغ کرواؤ اْس سے پہلے کالی بھیڑیں تمہیں فارغ کروا دیں کیونکہ کالی بھیڑوں کے سرپرست ’’بھیڑیوں‘‘کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا، اگلے روز میں پنجاب کے وزیر صحت خواجہ عمران نذیر کو دیکھ رہا تھا وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کمالیہ کے ہسپتال کی انتظامیہ پر گرج برس رہے تھے جہاں کرائے کی ایک نرس نے ساڑھے سات ماہ کی بچی کو غلط انجیکشن لگا دیا جس سے وہ جاں بحق ہوگئی، وزیر صحت فوری طور پر ہسپتال پہنچے ، ذمہ داران کا تعین کیا ، جاں بحق ہونے والی بچی کے گھر گئے ، اْن کی کسمپرسی دیکھ کر اْس کا بھی کچھ ازالہ کیا، خواجہ صاحب سے میری بات نہیں ہوئی ورنہ ممکن ہے وہ بھی یہی فرماتے ‘‘سی ایم صاحبہ کے حکم پر میں فوری طور پر کمالیہ پہنچا , بچی کے گھر گیا اور بچی کی ہلاکت کے ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لیا ، وہ بھلے آدمی ہیں اپنے محکمے کے سدھار کے لئے محنت بھی بہت کرتے ہیں ، کچھ ایکشن ممکن ہے وہ اپنے طور پر بھی لے لیتے ہوں مگر اکثر ایسے ہوتا ہے ایسے کسی ایکشن کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا جس کا کریڈٹ سی ایم صاحبہ کے کھاتے میں نہ ڈالا جائے ، اب ایک سال گزر گیا ہے سی ایم صاحبہ کو چاہئیے اپنے وزراء سے پوچھیں ایک سال میں اپنے اپنے محکموں کی اصلاحات کے لئے کیا ورکنگ آپ نے کی ؟ اور اس پر عملدرآمد کروانے کے لئے کیا اقدامات آپ نے کروائے ؟ میرے خیال میں سی ایم صاحبہ اپنے وزیروں کو خوشامد کی کارکردگی کے نمبر اگر نہ دیں آدھے سے زیادہ وزیر ویسے ہی فیل ہو جائیں گے ، ممکن ہے یہ کام سی ایم صاحبہ اس خدشے کے تحت نہ کریں کہ کہیں اْن کا کوئی وزیر آگے سے اْن کی کارکردگی نہ پوچھ لے ، حالانکہ اس کا ایک فی صد چانس بھی نہیں ہے ، کیونکہ سب جانتے ہیں اْن کی سرپرستی بہت تگڑی ہے جس کے سامنے میں بلاول بھٹو زرداری بھی فارغ ہوچکا ہے، جو ویسے بھی فارغ ہی ہے۔