Wed, September 16, 2026

چیف منسٹر صاحبہ۔۔گورنمنٹ ہائی سکول بندہ اور عرفان صدیقی !

چیف منسٹر صاحبہ۔۔گورنمنٹ ہائی سکول بندہ اور عرفان صدیقی !

برادر مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کی ۱۱ نومبر ۲۰۲۵ءکو وفات کے کچھ ہی دن بعد ان کی یاد میں نیشنل کونسل آف آرٹس اسلام آباد میں ایک تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا۔ جس میں کئی وفاقی وزراءبھی شریک تھے۔ اس میں اتفاقِ رائے سے ایک قرار داد منظور کی گئی جس میں اسلام آباد کی سڑک یا شاہراہ کو عرفان صاحب کے نام سے منسوب کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ کچھ ہی دن بعد عزیزِ گرامی ارشد شاہد جس کا عرفان صاحب سے قریبی رشتہ ہے نے اپنے اخباری مضامین میں اس معاملے کو اٹھایا اور تجویز یا مطالبہ پیش کیا کہ اسلام آباد کی کسی سڑک کو عرفان صاحب کے نام سے منسوب کرنے کے ساتھ روات سے آگے چک بیلی خان روڈ جس پر عرفان صاحب مرحوم کا آبائی گاو¿ں ڈھوک بد ہال واقع ہے کو بھی اُن کے نام سے منسوب کیا جائے۔ اسی دوران کچھ اور قابلِ قد ر احباب نے بھی اسلام آباد میں کسی سڑک کو عرفان صاحب کے نام سے منسوب کرنے کے حق میں آوازیں بلند کیں۔ معروف قلم کار اور سینئیرکالم نگار محترم سید سردار احمد پیر زادہ نے ایک قومی معاصر میں چھپنے والے اپنے کالم میں عرفان صاحب کی تعلیم و تدریس ، تحریر و تصنیف، نثر نگاری، شاعری، کالم نگاری اور ڈرامہ نگاری میں ان کی منفرد حیثیت اور صحافت و سیاست میں ا ن کے بلند و بالا مرتبے اور مقام کا احسن انداز میں حوالہ دے کر بڑے منطقی انداز میں سی ڈی اے کے اربابِ اختیار کو یاد دلایا کہ عرفان صاحب کے نام پر اسلام آباد کی کسی سڑک کو منسوب کرنا ہر لحاظ سے ایک قابلِ قدر اقدام ہو گا۔ انہوں نے یہاں تک لکھا کہ اگر سی ڈی اے کی طرف سے عرفان صاحب مرحوم و مغفور کے نام پر کسی سڑک کو منسوب کیا جاتا ہے تو اِس سے سی ڈی اے اور اُس سڑک کی ہی عزت افزائی میں اضافہ ہو گا ۔
میں نہیں سمجھتا کہ برادر مکرم و محترم عرفان صدیقی صاحب مرحوم و مغفور کی قومی زندگی کی مختلف شعبوں میں خدمات، حصہ داری اور اعلیٰ کارکردگی کو دہرانے کی ضرورت ہے۔ کون نہیں جانتا کہ تعلیم و تدریس کے شعبے میں وہ پرائمری جماعتوں سے لے کر کالج کلاسز کے ایک انتہائی ماہر، مقبول، کامیاب اور ہر دل عزیز استاد رہے۔ ایف جی سر سید کالج جیسے ملک کے ممتاز تعلیمی ادارے سے انہوں نے بطورِ اسسٹنٹ پروفیسر قبل از وقت ریٹائرمنٹ لی۔ ریڈیو پاکستان کے ساتھ تحریر و تقریر ، فیچر نگاری اور ڈرامہ نگاری کے شعبوں میں حصہ لیا تو بیسیوں یادگار ڈرامے اور اعلیٰ پائے کے سکرپٹ لکھے جو قومی نشریاتی رابطوں پر نشر ہوئے۔ شعبہ¿ صحافت کی طرف آئے تو فیچر نگاری اور کالم نگاری میں ایسا نام پیدا کیا کہ ایک زمانہ ہی ان کا معترف نہ ہوا بلکہ انہیں دورِ حاضر کا سب سے بڑھ کر صاحبِ اسلوب کالم نگار مانا جانے گا۔ اربابِ سیاست و اقتدار و اختیار کے ساتھ روابط استوار ہوئے تو مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کے انتہائی قریبہ اور با اعتماد ساتھی ٹھہرے۔ 
خیر یہ اُن کی زندگی کی باتیں ہیں۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے تو کیا انہیں فراموش کر دیا گیا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ایسا ہے یا ایسا ہونا چاہیے۔ اگلے ہی دن ایوانِ صدر میں مختلف شعبہ جات میں اعلیٰ کارکردگی کی بنا پر اعزازات تقسیم کرنے کی تقریب ہوئی جس میں انہیں بعد از وفات ملک کے سب سے بڑے سول اعزاز نشانِ امتیاز سے نوازا گیا جو ان کے بڑے بیٹے عزیزِ گرامی عمران خاور صدیقی نے وصول کیا۔ یقینا یہ ان کی انتہائی عزت افزائی ، ان کی قومی زندگی کے مختلف شعبوں بالخصوص تعلیم و تدریس اور علم و ادب میں شاندار خدمات کا اعتراف ہے۔ تاہم اس سے ہٹ کر بھی کچھ ایسے اقدام ہونے چاہیے جو سرِ راہ نظر آئیں۔ جیسے شروع میں ذکر ہوا کہ اسلام آباد میں کسی سڑک یا شاہراہ کو اُن کے نام سے منسوب کیا جا نا چاہیے۔ اس ضمن میں سینٹ کے چئیرمین سید یوسف رضا گیلانی جو مرنجان مرنج شخصیت کے مالک ہونے کے ساتھ احباب کی عزت افزائی اور قدر افزائی کو اپنے لیے باعث افتخار سمجھتے ہیں اور عرفان صدیقی صاحب سے ان کے باہمی نیاز مندی کے تعلقات تھے سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اسلام آباد کی کسی شاہراہ کو عرفان صاحب کے نام سے منسوب کرنے کے لیے معاملے کو سی ڈی اے کے ساتھ اپنے ایوان کی سطح پر اٹھائیں۔ میں سمجھتا ہو ں کہ اس میں انہیں سینٹ کے پورے ایوان کی تائید و حمایت حاصل ہو گی۔
اسلام آباد کی کسی شاہراہ کو عرفان صاحب کے نام سے منسوب کرنے کے معاملے میں ضابطے کی کاروائیوں میں اگر کچھ وقت لگتا ہے تو ایک کام جس کا تعلق پنجاب کی حکومت سے بنتا ہے فی الفور کیا جا سکتا ہے ۔ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ محترمہ مریم نواز صاحبہ جو عرفان صاحب کی بڑی قدر دان اور انہیں انکل کہہ کر پکارتی تھیںانہیں یاد دہانی کرائی جا سکتی ہے کہ وہ عرفان صاحب کے آبائی گاو¿ں سے ملحقہ اُن کے ابتدائی تعلیمی ادارے گورنمنٹ ہائی سکول بندہ تحصیل راولپنڈی کو عرفان صدیقی صاحب کے نام سے منسوب کرنے کے احکامات جاری کریں۔ عرفان صاحب نے اس تعلیمی ادارے جو اُس وقت مڈل تک تھا سے مڈل کی تعلیم حاصل کی اور یہیں سے مڈل وَر نیکو لر کے متحان میں پورے ضلع راولپنڈی میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ یہاں یہ حوالہ جس کاذکر عرفان صاحب کے چھوٹے صاحبزادے عزیز ی نعمان راشد جنہوں نے اپنے قابلِ صد احترام والدِ گرامی کی اقتداءمیں ایک قومی معاصر میں عکسِ خیال کے عنوان سے کالم لکھنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے دیا ہے کہ ڈھوک بدہال (عرفان صاحب کے آبائی گاو¿ں) اور ملحقہ گاو¿ںبندہ کے لوگوں کی بھی یہ خواہش یا مطالبہ ہے کہ گورنمنٹ ہائی سکول بندہ کو عرفان صاحب کے نام سے منسوب کیا جانا چاہیے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عرفان صاحب نے اس ادارے کی ترقی اور اس کے ترقیاتی کاموں جن میں نئی عمارت کی تعمیر شامل ہے وغیرہ کے لیے اتنی کاوشیں کی ہیں کہ اس ادارے کو ان کے نام سے منسوب کرنا عرفان صاحب کا حق بنتا ہے۔

ٹیگز: