گزشتہ دنوں مجھے پاک ٹی ہاﺅس جانے کا اتفاق ہوا۔ پاک ٹی ہاﺅس ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں کی وہ آماجگاہ ہے جو آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد پہلے انڈیا ٹی ہاﺅس پھر پاک ٹی ہاﺅس بدلتے ناموں میں جگہ نہیں بدلی۔ پرانی انارکلی کے کونے پر قائم پاک ٹی ہاﺅس میں کئی بار جانے کا اتفاق ہوا۔ اس وقت بھی جب یہاں فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، احمد فراز، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، قتیل شفائی دور حاضر میں امجد اسلام امجد (مرحوم)، اصغر ندیم سید، منیر نیازی (مرحوم)، شہزاد احمد اور بڑے نام پھر ایک وقت آیا جب پاک ٹی ہاﺅس ویرانیوں میں بدل گیا۔ اس اثناءمیں جب عطاءالحق قاسمی الحمرا آرٹس کونسل کے چیئرمین بنے
تو انہوں نے اپنے ہم عصروں کے ویران گھر کو آباد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کی تزئین و آرائش کو جدید ماحول میں بہتر کیا اور پھر یہاں ادبی رونقیں بحال ہوئیں مگر اس طرح کی سرگرمیاں دیکھنے کو نہ ملیں جیسے پاک ٹی ہاﺅس کی ایک روایت ہوا کرتی تھی آج کے دور کے نئے پاک ٹی ہاﺅس کو ایک ایسے چائے خانہ کی شکل مل گئی کہ وہاں کے ای میڈیکل کالج کے طلباءو طالبات، وکلاءاور سوسائٹی کے دوسرے لوگوں نے اس کو اپنا اٹھنے بیٹھنے کا اڈا بنا لیا اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ پاک ٹی ہاﺅس میں نامور شعرائ، ادیبوں کی تصاویر اس بات کا احساس دلاتی ہیں کہ یہ پاک ٹی وی ہاﺅس ہے مگر اس کی صبح سے رات تک کی سرگرمیاں ادبی ماحول سے بہت دور ہیں۔ انڈیا ٹی ہاﺅس سے پاک ٹی وی تک کی روایات یہ رہی ہیں کہ 1940ءمیں ایک سکھ بوٹا سنگھ نے ”انڈیا ٹی ہاو¿س“ کے نام سے یہ چائے خانہ شروع کیا۔ بوٹا سنگھ نے 1940ءسے 1944ءتک اس چائے خانہ و ہوٹل کو چلایا مگر اس کا کام کچھ اچھے طریقے سے نہ جم سکا۔ بوٹا سنگھ کے چائے خانہ پر دو سکھ بھائی سرتیج سنگھ بھلا اور کیسر سنگھ بھلا جو گورنمنٹ کالج کے سٹوڈنٹ تھے اپنے دوستوں کے ہمراہ اکثر چائے پینے آتے تھے۔
پاک ٹی ہاو¿س لاہور میں مال روڈ پر واقع ہے جو کہ انار کلی بازار اور نیلا گنبد کے قریب ہے۔ قیام پاکستان کے بعد حافظ رحیم بخش صاحب جالندھر سے ہجرت کر کے لاہور آیا تو انہیں پاک ٹی ہاو¿س 79 روپے ماہانہ کرایہ پر ملا۔ یہ چائے خانہ ”انڈیا ٹی ہاو¿س“ کے نام سے ہی چلتا رہا بعد میں ”انڈیا“ کاٹ کر ”پاک“ کا لفظ لکھ دیا گیا۔
پاک ٹی ہاو¿س کا بڑا دلکش ماحول ہوتا تھا۔ ہجرت کر کے آنے والوں کو پاک ٹی ہاو¿س نے اپنی گود میں پناہ دی۔ کسی نے کہا میں انبالے سے آیا ہوں میرا نام ناصر کاظمی ہے۔ کسی نے کہا میں گڑھ مکستر سے آیا ہوں میرا نام اشفاق احمد ہے۔ کسی نے کہا میرا نام ابن انشاءہے اور میرا تعلق لاہور سے ہے۔ ناصر کاظمی نے بہترین غزلیں اسی زمانے میں لکھیں۔ اشفاق احمد نے گڈریا اسی زمانے میں لکھا۔ شعر و ادب کا یہ تعلق پاک ٹی ہاو¿س ہی سے شروع ہوا تھا۔ صبح آٹھ بجے پاک ٹی ہاو¿س میں کم لوگ آتے تھے۔ ناصر کاظمی سگریٹ انگلیوں میں دبائے، سگریٹ والا ہاتھ منہ کے ذرا قریب رکھے ٹی ہاو¿س میں داخل ہوتا تھا اور اشفاق احمد سائیکل پر سوار پاک ٹی ہاو¿س آتا تھا۔ اس وقت پاک ٹی ہاﺅس میں ایک بڑی میز ہوا کرتی تھی جن کے اردگرد ناصر کاظمی، انتظار حسین، سجاد باقر رضوی، پروفیسر سید سجاد رضوی، قیوم نظر، شہرت بخاری، انجم رومانی، امجد الطاف امجد، احمد مشتاق، مبارک احمد وغیرہ کی محفل شام کو لگتی۔ ہر مکتبہ فکر کے ادیب، شاعر، نقاد اور دانشور اپنی الگ محفل بھی سجاتے۔ ان میں سعادت حسن منٹو، اے حمید، فیض احمد فیض، ابن انشائ، احمد فراز، منیر نیازی، میرا جی، کرشن چندر، کمال رضوی، ناصر کاظمی، پروفیسر سید سجاد رضوی، استاد امانت علی خان، ڈاکٹر محمد باقر، انتظار حسین، اشفاق احمد، قیوم نظر، شہرت بخاری، انجم رومانی، امجد الطاف امجد، احمد مشتاق، مبارک احمد، انورجلال شمزہ، عباس احمد عباسی، ہیرو حبیب، سلو، شجاع، ڈاکٹر ضیائ، ڈاکٹر عبادت بریلوی، سید وقار عظیم وغیرہ پاک ٹی ہاو¿س کی جان تھے۔جیسے وہ لوگ دنیا سے گئے ٹی ہاو¿س بھی بند ہوگیا، 31 دسمبر 2000ءکو یہ دوبارہ کھل گیا اور اہل قلم یہاں دوبارہ بیٹھنے لگے لیکن 6 سال کے بعد 2006ءمیں یہ دوبارہ بند ہوگیا۔چند سال قبل عطاءالحق قاسمی کی کوششوں سے میاں نوازشریف نے پاک ٹی ہاو¿س میں چائے پی کر اور اس کا افتتاح کر کے ادیبوں اور شاعروں کے لئے اس کے دروازے ایک بار پھر کھول دئیے۔ پاک ٹی ہاﺅس کے بارے میں اے حمید ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ”میں اور اشفاق احمد دیر تک ٹی ہاﺅس میں بیٹھے گزرے زمانے کو، گزرے زمانے کے چہروں کو یاد کرتے رہے، کیسے کیسے لوگ تھے، کیسے کیسے چمکیلے چہرے تھے جو ادب کے آسمان پر ستارے بن کر چمکے اور پھر اپنے پیچھے روشنی کی لکیریں چھوڑ کر نظروں سے غائب ہو گئے۔ کبھی ٹی ہاوس کے کاو¿نٹر پر رکھے گلدان میں نرگس اور گلاب کے پھول مہکا کرتے تھے۔ شیشوں میں سے ان پر سردیوں کی دھوپ پڑتی تو وہ بجلی کے بلب کی طرح روشن ہو جاتے۔ اب کاو¿نٹر پر نہ گلدان ہے نہ گلدان کے پھول ہیں۔ صرف میں اور اشفاق احمد میز کے آمنے سامنے سر کو جھکائے بیٹھے پرانے دنوں کو یاد کر رہے ہیں۔ ایک دن آئے گا کہ اس میز پر کوئی اور بیٹھا ہمیں یاد کر رہا ہو گا“
اور آخری بات....
انڈیا ٹی ہاﺅس سے پاک ٹی ہاﺅس کی تاریخ بہت طویل ہے۔ یہ ہمارا ادبی اور ثقافتی ورثہ ہے جس کو آج دوسروں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ میری وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے درخواست ہے کہ وہ جہاں لاہور کی پرانی روایات کو بحالی کے لئے کوشاں ہیں۔ اگر وہ موجودہ پاک ٹی ہاﺅس کو دوبارہ صرف ادیبوں، شاعروں، کہانی نگاروں اور فنکاروں کے لئے اس کی اصل شکل میں بحال کرا دیں تو یہ ان کا ادبی دنیا کے لئے بڑا تحفہ ہوگا کہ ان کو واپس یہ گھر مل جائے گا اور اس کی دو منزلہ عمارت کو مکمل ادبی رنگوں میں رنگ دیں۔ اس عمارت سے آج بھی سعادت حسن منٹو، اشفاق احمد، ناصر کاظمی، کرشن چندر، ابن انشائ، اے حمید اور میرا جی جیسے ناموں کی قدموں کی آہٹ پاک ٹی ہاﺅس کے در و دیوار کو محسوس ہوتی ہے۔ آج بھی ان کی آوازیں اور قہقہے کانوں میں گونجتے ہیں۔ پاک ٹی ہاﺅس ادب کا گہوارہ تھا جو ان سے چھین لیا گیا ہے اس گہوارے کی واپسی درکار ہے۔اور یہ کام آپ ہی کرسکتی ہیں۔