Wed, September 16, 2026

ٹیرف کے باوجود تمام ممالک امریکا سے ڈیلز برقرار رکھنا چاہتے ہیں، ٹرمپ

ٹیرف کے باوجود تمام ممالک امریکا سے ڈیلز برقرار رکھنا چاہتے ہیں، ٹرمپ

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے آغاز میں سٹیٹ آف دی یونین خطاب کیا، جس میں انہوں نے ملک کے مختلف مسائل پر تفصیل سے بات کی۔ ان کے خطاب کا مرکزی موضوع امریکی معیشت، عالمی سطح پر تجارتی پالیسیوں، اور داخلی سلامتی تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو امریکہ کو معاشی مشکلات کا سامنا تھا، لیکن ایک سال کے اندر ان کی حکومت نے بے شمار اصلاحات کیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں کمی آئی اور معیشت نے ترقی کی۔ ٹرمپ کے مطابق، مہنگائی اب 1.7 فیصد تک کم ہو چکی ہے، اور ملک اقتصادی طور پر بہتر حالت میں آچکا ہے۔

انہوں نے تیل اور قدرتی گیس کی پیداوار میں اضافے کا ذکر کیا، جس سے امریکی معیشت کو فائدہ پہنچا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی تیل کی پیداوار میں روزانہ چھ لاکھ بیرل کا اضافہ ہوا اور قدرتی گیس کی پیداوار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

ٹرمپ نے پاک بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کے خطرے کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ ان کی مداخلت کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان نیوکلیئر جنگ رکی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی کوششوں سے ساڑھے تین کروڑ افراد کی جانیں بچ گئیں۔

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں امریکی سرحدوں کو مکمل محفوظ قرار دیا اور کہا کہ گزشتہ نو ماہ میں کوئی غیر قانونی تارکین وطن ملک میں داخل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف اپنی حکومت کی سخت پالیسیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ صرف ان افراد کا خیرمقدم کرتے ہیں جو قانونی طریقے سے امریکہ آتے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنی تجارتی پالیسیوں پر بھی بات کی اور کہا کہ انہوں نے عالمی سطح پر امریکہ کے مفادات کا تحفظ کیا۔ انہوں نے عالمی ٹیرف نافذ کیے جس سے امریکہ کو اربوں ڈالر کا فائدہ ہوا۔ ٹرمپ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ نے ان کی ٹیرف پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا، مگر انہوں نے کہا کہ وہ اب مزید نئے عالمی ٹیرف نافذ کرنے جا رہے ہیں۔

ٹرمپ نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو روکنے کی بات کی اور کہا کہ ان کی حکومت نے ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا۔ انہوں نے ایرانی حکومت کے ہاتھوں مظاہرین کی ہلاکتوں کی مذمت بھی کی اور کہا کہ ایران کے معاملے کو سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

ٹرمپ نے خطاب کے دوران امریکی فوج اور پولیس کو سراہا اور کہا کہ وہ ملک کے دیگر شہروں کو بھی محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

خطاب کے دوران ایوان نمائندگان میں ایک کشیدہ صورتحال پیدا ہوئی جب ڈیموکریٹ رکن کانگریس، ال گرین نے ایک پلے کارڈ دکھایا جس پر لکھا تھا "سیاہ فام لوگ بندر نہیں ہیں"۔ اس پر ایوان میں ہلچل مچ گئی اور بعد ازاں سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں ایوان سے نکال دیا۔

ٹرمپ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ "امریکا واپس آ چکا ہے" اور اسے "صدیوں کی سب سے بڑی واپسی" قرار دیا۔ ان کے مطابق، امریکہ اب پہلے سے زیادہ طاقتور، امیر اور کامیاب ہے۔

اس خطاب میں ٹرمپ نے اپنے آپ کو ایک کامیاب رہنما کے طور پر پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ امریکہ دنیا بھر میں پہلے سے زیادہ مضبوط اور بااثر ہے۔

ٹیگز: