Wed, September 16, 2026

اسرائیل پر نظر رکھنا

اسرائیل پر نظر رکھنا

پہلگام میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد اڑتالیس گھنٹوں میں تمام سیاح وہاں سے نکل گئے، اب ویرانی ہے۔ بھارت کے دیگر علاقے جو سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں وہاں بھی ایسی ہی کیفیت ہے۔ گوا اور دارجلنگ سے بڑی تعداد میں غیر ملکی نکل رہے ہیں جبکہ ان دھماکوں کا اثر ممبئی، آگرہ اور لکھنو تک نظر آتا ہے جہاں کاروبار اور کاروباری ملاقاتوں کیلئے پہنچے ہوئے ہزاروں افراد بھارت کے مختلف ائیرپورٹس پر پہنچے ہوئے ہیں۔ منظر کچھ ایسا ہے گویا ہوائی جہاز کی ٹکٹیں مفت بٹ رہی ہوں لیکن ایسا نہیں، پاکستان کی طرف سے اپنی فضائی حدود بند کرنے سے بھارتی ائیرلائنز نے ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے اور جواز فراہم کیا ہے کہ اب انہیں زیادہ بڑا چکر کاٹ کر مسافروں کو ان کی منزل پر پہنچانا ہے۔ یہی رجحان بھارت کے دیگر بڑے شہروں میں ہے جہاں لوگ کسی نیوکلیئر حملے کے خوف اور دہشت گردی کی کسی واردات کے خدشے کے تحت سہمے ہوئے ہیں، جس کے پاس بھارت چھوڑنے، امریکہ یورپ یا کسی بھی اور ملک قیام کی سہولت و استطاعت موجود ہے وہ جلد از جلد بھارت سے نکلنا چاہتا ہے اور اس وقت تک بھارت سے دور رہنا چاہتا ہے جب تک حالات معمول پر نہیں آجاتے۔ ہر طرف ایک ہی تاثر ہے کہ حالات ابھی مزید بگڑیں گے اور معمول پر آنے میں طویل عرصہ لگے گا۔ بھارت میں بسنے والوں کی ایک بڑی تعداد حالات کو خراب کرنے کی ذمہ داری بھارتی حکومت پر ڈال رہی ہے۔ وہ اس بات اس مفروضے پر یقین کرنے کیلئے تیار نہیں کہ اس معاملے میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔ وہ یہ بھی ماننے کیلئے تیار نہیں کہ کشمیری حریت پسندوں نے یہ کارروائی کی ہے کیونکہ وہ گزشتہ برسوں میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے کہ بھارت نے آرٹیکل 370 کے پردے میں مقبوضہ کشمیر میں اپنی سوچ کے مطابق آپریشن کلین اپ کے نام پر کس طرح کشمیریوں پر ظلم ڈھائے۔ کرفیو لگا کر ہزاروں افراد گرفتار کر کے جیلیں بھر دیں اور بڑی تعداد میں بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوج نے ایسے ایسے ظلم ڈھائے جنہیں جان کر انسانیت شرما جاتی ہے۔ بھارتی وزیراعظم کا طرزعمل دنیا کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔ انہوں نے جس جذباتی انداز میں سعودی عرب کا دورہ مختصر کیا اس اعتبار سے تو توقع کی جا رہی تھی کہ وہ دہلی اترنے کے بعد سیدھے مقبوضہ کشمیر پہنچیں گے۔ ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے یکجہتی کا اظہار کریں گے۔ بھارتی فوجیوں سے مل کر جپھیاں ڈال کر ان کا حوصلہ بڑھائیں گے لیکن وہ وہاں نہیں پہنچے بلکہ انتخابی جلسے سے خطاب کرنے کیلئے بہار پہنچ گئے جہاں انہوں نے ہماری پنجابی فلموں کے ہیرو کے سٹائل میں پاکستان کو للکارنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے مقاصد میں ناکام رہے، ان کی جذباتی تقریروں سے وہ الیکشن میں اپنی کمزور پوزیشن کو سنبھالا دینے میں تو شاید کامیاب ہو جائیں، اپنے اختیار کردہ موقف سے بھارتی عوام اور غیرملکی رائے عامہ کو ہمنوا نہیں بنا سکے۔ ان کی طرف سے بنا نام لئے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا اور پاکستان کے خلاف اقدامات کو تحسین کی نظر سے اس لئے بھی نہیں دیکھا جا رہا کہ واقعے کی تحقیقات شروع ہی نہیں ہوئیں اور نتیجہ برآمد کر لیا گیا جسے کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں۔ پہلگام تک آزاد میڈیا کو رسائی نہیں دی گئی، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ دنیا بھر کے میڈیا نمائندے وہاں پہنچ کر اپنی تحقیقات کرتے تو بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی کارروائی کا پول کھل جاتا جنہیں اب قدم قدم پر ہزیمت کا سامنا ہے، جس بھارتی نیوی افسر کی ہلاکت اور اس کی نئی نویلی دلہن کے بین فلمی انداز میں پیش کئے جا رہے تھے وہ منظر عام پر آچکی ہے۔ پہلے یہ بتایا گیا کہ اس کا خاوند قتل ہو گیا ہے پھر اس کی اپنی موت کا بھی خوب چرچا ہوا لیکن آخر میں سب جھوٹ نکلا۔
بھارتی میڈیا رائے عامہ اور انتہاپسند ہندوئوں کے جذبات بھڑکانے کیلئے موقف اختیار کیا گیا کہ حملے میں ملوث افراد نے سیاحوں سے خواتین کو الگ کیا۔ مردوں کی پتلونیں اتار اتار کر ان کے غیرمسلم ہونے کا یقین کرنے کے بعد انہیں قتل کیا۔ یہ کہانی بھی زیادہ دیر اپنے پائوں پر کھڑی نہ ہو سکی بلکہ اپنے قدموں پر آن گری۔ بھارتی عوام اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر وہاں یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو وہاں بھارتی فوج کی بیس سے زیادہ چوکیوں پر مامور عملہ اور بھارتی فوج کے بیس کیمپ میں موجود ہزاروں سپاہ کیوں سوئی رہی۔ واقعے کے کئی گھنٹے بعد تک وہاں کوئی کیوں نہیں پہنچا اور حملہ آوروں کا تعاقب کر کے انہیں گرفتار کیوں نہ کیا جا سکا۔ بھارتی عوام کے سامنے تین افراد کے خاکے پیش کئے گئے ہیں لیکن وہ ان کاغذی کارروائیوں سے مطمئن نہیں ہو رہے ہیں۔ تبدیلی اب میڈیا میں بھی نظر آرہی ہے، کسی کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں۔
واقعے کے بعد اپنی ایک بڑی ناکامی چھپانے کیلئے گھر گھر تلاشی کے بہانے مزید کئی ہزار افراد گرفتار کئے گئے ہیں۔ بڑی تعداد میں گھروں کو مسمار کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے لیکن تمام ظلم و بربریت کی کارروائیاں بھارتی عوام کو مطمئن نہیں کر سکیں بلکہ ان کے غم و غصے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری طرف انتہاپسند ہندو ان اقدامات کو سراہتے نظر آتے ہیں جو بھارت میں مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائی کیلئے کسی بھی وقت میدان میں اتر سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ بھارتی حکومت اور بھارتی فوج کے ایما پر ہو گا۔ مودی اس حوالے سے دامن پر لگے گجرات کے باسیوں کا لہو اب تک نہیں دھو سکا۔ یہ شقی القلب شخص پھر وہی کھیل کھیلنے کی تیاری کر رہا ہے۔ بھارت کی سول سوسائٹی اور اپوزیشن میں اس نکتے پر بھی بات ہو رہی ہے کہ وقف املاک کا بل لا کر مسلمانوں سے املاک چھین لی گئیں جس پر پورے بھارت میں زبردست ردعمل ہے جبکہ ٹیرف وار میں مودی نے امریکہ کے سامنے سرنڈر کر دیا جس پر اسے زبردست تنقید کا سامنا ہے۔ اسے انتخابات میں کوئی بڑی کامیابی نہ مل سکی۔ امریکی اقدامات سے اس کی ساکھ مٹی میں مل گئی لہٰذا عوام کے غیض و غضب سے بچنے اور توجہ ہٹانے کیلئے ’’را‘‘ کو ٹاسک دیا گیا جس نے بھونڈے طریقے سے ایک ڈرامہ رچایا جس کا مقصد پاکستان کا پانی بند کر کے اسے نقصان پہنچانے کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہے۔ بھارت حالات کو مزید خراب کر کے سٹرائیک کرے گا جبکہ بھارتی سٹرائیک کے پردے میں اسرائیل پاکستان کی اہم تنصیبات کو نقصان پہنچانے کا ایک دیرینہ منصوبہ رکھتا ہے۔ اگر کوئی ایسا مس ایڈونچر ہواتو اسرائیل اس سے انکار کرے گا جبکہ بھارت اس کا کریڈٹ لے کر اپنے عوام کو مطمئن کرے گا کہ ہم نے بدلہ لے لیا۔ امریکی صدر نے یملے پن میں معاملے سے دور رہنے کا بیان اسی لئے دیا ہے کہ اس سازش میں اس کا نام نہ آئے۔ اسرائیل پر نظر رکھنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔

ٹیگز: