Wed, September 16, 2026

بھارتی بانس اور بانسری بارے فیصلہ

بھارتی بانس اور بانسری بارے فیصلہ

انسان سوچتا کچھ ہے ہو کچھ اور جاتا ہے۔ واسکوڈے گاما گھر سے کچھ اور کرنے نکلا تھا، سمندر میں اس کی کشتی راستہ بھٹک گئی یوں راہ سے بھٹکے ہوئے ایک انسان نے امریکہ دریافت کر لیا۔ اگر وہ راستہ نہ بھٹکتا تو ممکن ہے امریکہ مزید سو برس تک دریافت نہ ہوتا اور امریکہ اپنے آج کی نسبت سو برس پیچھے ہوتا اور ہم اس سے بہت آگے ہوئے۔ فی الحال تو اسی خیال سے ہی جی بہلایا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ نظر کے سامنے کوئی خوش کن منظر نہیں ہے۔ پاکستان میں بھی کئی واسکوڈے گامے ماجھے گھر سے نکلے تو کچھ اور کرنے نکلے راستہ بھٹک گئے لیکن اپنے لئے اور اپنے خاندان کیلئے ایک نئی دنیا دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے ، انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں دنیا انہیں کیا کہتی ہے، کس نام سے یاد کرتی ہے بالکل اسی طرح جیسے امریکہ کو اس بات کی کبھی فکر نہیں رہی کہ دنیا اس کے بارے میں کیا سوچتی ہے، کیا رائے رکھتی ہے یہی وجہ ہے وہ جب جی چاہے اپنے ایجنڈے کے مطابق ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم برسا دیتا ہے۔ عراق کو تاراج کر دیتا ہے۔ افغانستان میں گھس جاتا ہے، اچھے بھلے پرامن ممالک کو دولخت کر دیتا ہے۔ حکومتوں کو تلپٹ کر دیتا ہے اور اس قسم کے تمام بیہودہ کام وہ امن قائم کرنے کے نام پر کرتا ہے، اس کا منصوبہ امن، خونریزی سے شروع ہوتا ہے اور تعمیر نو پر ختم ہوتا ہے۔
امریکہ نے بیک وقت ایسے دو منصوبے شروع کئے تھے۔ ایک فلسطین میں دوسرا یوکرین میں۔ فلسطین میں اس کی سہولت کاری سے ایک لاکھ بے گناہ فلسطینی مرد عورتیں اور بچے موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں جبکہ یوکرین جنگ میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ یوکرین اپنے بیس فیصد رقبے سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ امریکہ اس جنگ کو ختم کرانے کی کوششوں میں اس بات کو تسلیم کر چکا ہے کہ مفتوح علاقے روس اپنے پاس رکھ سکتا ہے اور اس کی شرط کے مطابق یوکرین کو نیٹو کا ممبر بھی نہیں بنایا جائے گا۔ یوکرین جنگ بند کرانے کے حوالے سے مشاورت کے سلسلے میں اہم یورپی ممالک کے سربراہ یوکرینی صدر کی قیادت میں امریکہ میں اکٹھے ہوئے جہاں نصف درجن سے زائد یورپی ممالک کے سربراہوں میں اٹلی کی خاتون وزیراعظم میلونی نمایاں نظر آئیں۔ یوں تو اٹلی کی دوسرے ممالک کی نسبت کچھ زیادہ اہمیت نہیں ہے لیکن مثل مشہور ہے، چور چوری سے جائے ہیراپھیری سے نہیں جاتا۔ یہ منظر ہمیں اس اجتماع کی ویڈیو کوریج میں نظر آتا ہے۔ اٹلی کی خاتون وزیراعظم میلونی کی توجہ اور قربت حاصل کرنے کی ٹرمپی خواہش بے قابو ہوتی نظر آئی۔ ٹرمپ کی چلی چال کو یوکرینی صدر اور دیگر یورپی ممالک کے سربراہ نہیں سمجھ سکے۔ یوکرینی صدر زیلنسکی اس سے قبل امریکہ گئے تو ٹرمپ کے ہاتھوں اپنی چھترول کرا کے واپس پلٹے تھے۔ اس مرتبہ تنہا نہیں گئے بلکہ اپنے حلیفوں کے ہمراہ گئے لیکن ٹرمپ نے ایک مختلف انداز میں اس کی خاطر کی ہے۔ اسے نیا سبز باغ دکھایا گیا ہے کہ تمہاری سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے تمہیں نیٹو میں شامل کرانے سے بہتر منصوبہ موجود ہے۔ مختصراً یہ کہ امریکہ اور یورپ مل کر یوکرین کی سکیورٹی کی ذمہ داری نبھائیں گے۔ زیلنسکی اس پر بہت خوش ہے، اس احمق میں اگر ذرا سی بھی عقل ہوتی تو وہ سوال کرتا۔ یہ ذمہ داری تو آپ سب نے پہلے بھی اپنے ذمے لے رکھی تھی۔ اس کو یقینی بنانے کیلئے آپ سب نے مجھے پہلے مرحلے پر مذاکرات کرنے کی بجائے روس کے ساتھ جنگ کرنے بلکہ اسے طول دینے کا کہا جس کے نتیجے میں آج یوکرین اپنے بیس فیصد رقبے اور لاکھوں افراد کی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ انفراسٹرکچر کی تباہی اس کے علاوہ ہے۔ اگر امریکہ اور یورپ نے اسی انداز میں یوکرین کی سکیورٹی کے انتظامات سنبھالے تو یہ امر یقینی ہے کہ روس اس کے مزید علاقے اس سے چھین لے گا۔ ٹرمپ اپنے فارمولے کے مطابق یوکرین کے دفاع کو یورپ کے دفاع کے کھاتے میں ڈال کر تمام یورپی ممالک کا مال کھائے گا انہیں اپنا مہنگا اسلحہ بیچے گا اور جب چاہے گا ان کے دفاع سے اچانک ایک قدم پیچھے ہٹا لے گا۔ اس طرزعمل کے سبب پاکستان کے عوام میں پائی جانے والی سوچ آج بھارت تک پہنچ چکی ہے۔ بھارتی عوام بھی اپنی پختہ رائے بناچکے ہیں کہ امریکہ بے وفا ہے، اس کی دوستی ناقابل اعتبارہے۔ امریکہ نے بھارت کو قریباً پچاس برس تک خوب نچوڑا اور پھر ٹرمپ نے اپنے دوسرے زمانہ اقتدار میں اچانک آنکھیں پھیر لیں۔ بھارتی حکومت اپنے امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کرتی ہے تو کس حد تک وہ چین کے کتنا قریب آتے ہیں۔ جاری برس میں بھارت کو یہ اہم فیصلہ کرنا ہے۔ چین اور روس اس معاملے میں بھارت کو اپنی ہر طرح کی مدد اور تعاون کا یقین دلا رہے ہیں۔ مودی اس وقت ان کی آنکھ کا تارا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ فی الحال یملا بنا ہوا ہے لیکن کانی آنکھ سے سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ چینی وزیر خارجہ آج بھارت میں ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ آئندہ روز روس پہنچ رہے ہیں جبکہ بھارتی وزیراعظم چین کے دورے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
مختلف کالموں میں ذکر کیا گیا کہ امریکہ اور چین میں سے ایک دوست کا انتخاب بھارت کی طرف سے اہم فیصلہ ہو گا۔ بھارت چینی بلاک میں آگیا تو اس کے بعد برکس بلاک مزید مضبوط ہو جائے گا اور جلد ہی برکس کرنسی کا اجرا ہونے کا امکان ہے، اس کے ساتھ ہی امریکہ کی اس خطے سے چھٹی ہو جائے گی لیکن اس حوالے سے ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ بھارت کو اپنے ہاتھوں سے اس آسانی سے نکلنے دے گا تو جواب ہے ہرگز نہیں۔ ٹرمپ کو جب یقین ہو جائے گا کہ بھارت تعلق توڑنے والا ہے تو وہ یورپی ممالک کو استعمال کرتے ہوئے بھارت کو رام کرنے کی کوشش کرے گا۔ یہ حربہ کارگر نہ ہوا تو ڈونلڈ ٹرمپ ایک مرتبہ مودی کے قدموں میں لیٹ جانے سے گریز نہیں کرے گا، اس کی بڑی پہلی اور آخری وجہ اس کی بڑی آبادی اور بڑی معیشت ہے، جس کا مقابلہ خطے کے کئی ممالک مل کر بھی نہیں کر سکتے، بس یہی بھارت کی اہمیت ہے۔ بھارت پھر بھی نہ مانا تو عین ممکن ہے سی آئی اے اپنا کام دکھا جائے یعنی نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ امریکہ اپنی پالیسیوں سے متصادم کئی بانس راستے سے ہٹا چکا ہے، کئی بانسریاں خاموش کرا چکا ہے۔ شاید بھارت کے معاملے میں بھی اپنی پرانی روش برقرار رکھے۔ نیٹو چیف اہم مشن پر یوکرین پہنچے ہیں، یہ بھی خالی از علت نہیں۔

ٹیگز: