نَے یعنی بانسری کے جذبات اور درد کے اظہار کو زبان دیتے ہوئے مولانا فرماتے ہیں، کہ میں بانسری ہوں ایک خالی نالہ، ایک کٹی ہوئی لکڑی، مگر میرے اندر جو صدا ہے، وہ صدیوں پرانی ہے۔ وہ صدا نہ صرف میری ہے، بلکہ تمہاری بھی ہے۔ تمہاری روح کی، تمہارے دل کی، تمہاری بے چینی کی۔ میں ان لمحوں کی گواہ ہوں جب تم رات کے سناٹے میں کروٹیں بدلتے ہو، جب تم ہجوم میں تنہا کھڑے ہو، جب تمہاری ہنسی کے پیچھے ایک ان دیکھے آنسو کی نمی چھپی ہوتی ہے۔ مولانا روم نے مجھے آواز دی، مجھے زبان دی۔ انہوں نے میرے سوز کو پہچانا، میری فریاد کو شعر میں ڈھالا۔ وہ جانتے تھے کہ میں صرف ایک ساز نہیں، میں روح کی پکار ہوں۔ میں اس لمحے سے بول رہی ہوں جب انسان کو اس کے اصل سے جدا کیا گیا۔ میرا ہر نغمہ، ہر سر، اس جدائی کا نوحہ ہے۔ کبھی تم نے خود سے پوچھا ہے کہ تم کیوں بے قرار ہو؟ تمہیں سب کچھ حاصل ہے علم، مال، دنیا پھر بھی دل جیسے خالی ہے۔ تمہاری یہ بے چینی میری پہچان ہے، تمہارا یہ خلا میری آواز ہے۔ میں بھی کبھی ایک درخت کا حصہ تھی۔ وہ درخت، جو دھرتی سے جڑا تھا۔ پھر مجھے کاٹ دیا گیا۔ میرا جسم خالی کر دیا گیا۔ مجھے تپش میں سکھایا گیا، اور تب جا کے میری آواز نکلی وہ آواز جو ہر اس دل کو رلا دیتی ہے جو اصل سے جدا ہو۔ رومی نے کہا: سن لو، یہ نے کچھ کہہ رہی ہے۔ یہ جدائیوں کی شکایت کر رہی ہے۔ مگر کیا تم سنتے ہو؟ نہیں تم سنتے ہو شور۔ دنیا کا شور، خواہشوں کا شور، اپنی انا کی چیخیں۔ تمہارے دل میں وہ خاموشی نہیں رہی جہاں میری آواز اتر سکے۔ تم نے اپنے باطن کو اتنا بھر لیا ہے کہ اب اس میں میری فریاد کی گنجائش نہیں رہی۔ لیکن اگر کبھی تم رک جا، سچ میں رک جا، اور دل کی گہرائیوں میں جھانکو تو تم مجھے پاو¿ گے۔ تمہیں میری آواز سنائی دے گی۔ تمہیں محسوس ہو گا کہ تم مجھ ہی کی طرح ہو کاٹے گئے ہو، خالی کیے گئے ہو، اور اب ایک نغمہ ہو جو اپنے محبوب کو پکار رہا ہے۔ یہ زندگی ایک سفر ہے واپسی کا سفر۔ واپسی اس مقام کی طرف جہاں تمہارے ہونے کی ابتدا ہوئی تھی۔ اور میں، بانسری، تمہیں یہ یاد دلانے آئی ہوں کہ تمہاری اصل وہ ہے جہاں کوئی دکھ نہیں، کوئی فراق نہیں، صرف وصل ہے وصلِ محبوب۔ یاد رکھو، میں تمہارے اندر ہوں۔ جب تم محبت کرتے ہو، میں بولتی ہوں۔ جب تم کسی کی آنکھ کے آنسو کو چپ چاپ پونچھ دیتے ہو، میں سر بکھیرتی ہوں۔ جب تم اپنی انا کو چپ کراتے ہو اور عاجزی اختیار کرتے ہو، میری دھن سنائی دیتی ہے۔ تو آ سنو مجھے۔ سنو خود کو۔ اپنے اندر کی اس بانسری کو وقت دو۔ اس جدائی کو پہچانو جو تمہیں بے قرار کیے ہوئے ہے۔ کیونکہ جس دن تم نے مجھے سن لیا، اسی دن تم جان لو گے کہ یہ فریاد محض نوحہ نہیں، یہ دعوتِ وصال ہے۔ دراصل حضرت شاہ شمس طبریزیؒ کے قتل اور فراق سے جو سناٹا مولانا جلا ل الدین رومی کے روح و قلب پر وارد ہوا اس نے دنیا کو مولانا رومی اور پھر محمد اقبالؒ دیئے، مولانا رومی نے من کا سناٹا بانسری کے نوحوں سے توڑا جس نے کئی صوفیا کو جنم دیا، مثنوی مولانا رومی ایک جھلک ہے اس سناٹے کی جو مولانا پر ہمیشہ وارد رہا، سب سے زیادہ ابلاغ خاموشی کا ابلاغ ہوا کرتا ہے آج سناٹوں کا شور انسانوں کے لیے جان لیوا بنے جا رہا ہے۔ یہ سناٹا نظام اور انسانیت کی مرگ کا ہے ہر لمحہ موت کی طرف بڑھتے ہوئے انسان کی غلط فہمی کا ہے کہ وہ موت کو پیچھے چھوڑ آیا اور زندگی کی طرف بڑھ رہا یہ سناٹا روح و وجود کے جدا ہونے پر عیاں ہو گا میں نے شہنائیوں کی دھن کو بانسری کے نوحوں میں بدلتے دیکھا، خاموشی بہت متاثر کن ابلاغ ہے سناٹا اپنی پکار رکھتا ہے، مولانا رومیؒ کا کردار اور افکار فراق کی عنایات اور سناٹے کا گیت ہیں۔
خاموشی کو سنا کریں کہ کہتے ہیں لفظوں کی طاقت بہت ہے، پر خامشی میں بھی ایک سکت بہت ہے۔ نہ کوئی آواز، نہ شور کی بات، مگر دل کی دنیا میں پیدا ہو جذبات۔ خاموش آنکھیں جب کچھ کہہ جائیں، بے لفظ لہجے راز کھلوا جائیں۔ ماں کی دعا، باپ کی فکر کی شان، خاموشی میں چھپی ہوتی ہے پہچان۔ دوست کی چپ، جب دل سے ہو پیار، ہر خامشی بن جاتی ہے گفتار۔ ہر درد کو لفظوں میں مت ڈھالو، کبھی خامشی سے بھی بات سنبھالو۔ صوفی کا سکوت، عارف کی نگاہ، دل کو دکھائے رب کی راہ۔ کبھی خامشی صبر کی پہچان ہے، کبھی یہ ہی سب سے بڑی جان ہے۔ لفظوں کا شور جب بے کار ہو جائے، خاموشی سچائی کا اظہار ہو جائے۔ اک نظر، اک چپ، اک لمحہ بے بیان، کہہ دے وہ سب جو کہہ نہ سکیں زبان۔ یہی ہے وہ راز، یہی ہے وہ جان، کہ خاموشی سب سے بڑی زبان۔
صدمات بھی قرب الٰہی کا سبب ہے، جو آپ کے بیان کردہ خیال زندگی میں کبھی کبھی ایسا وقت آتا ہے جب ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہم کچھ بھی نہیں ہیں، جیسے ساری دنیا ہمارے اوپر گر رہی ہو۔ ہر طرف سے تاریکی اور مایوسی کی لہریں آتی ہیں، اور ہم اپنے آپ کو اتنا کمزور اور لاچار پاتے ہیں کہ عبادت اور دعا کا سوچنا بھی مشکل لگتا ہے۔ دل میں درد ہوتا ہے، مگر الفاظ نہیں ہوتے جو اسے بیان کر سکیں۔ ہاتھ اٹھانے کی ہمت ختم ہو جاتی ہے، اور قدم سجدے کی طرف بڑھنے سے رک جاتے ہیں۔ لیکن، یہ وہ لمحے ہیں جب انسان واقعی اللہ کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ جب ہم دنیا کی تمام سہولتوں سے مایوس ہو جاتے ہیں، تب ہی ہم اپنے خالق کی طرف پلٹتے ہیں۔ یہ ایسا وقت ہوتا ہے جب ہم بے کسی کی حالت میں اس کی رحمت کے دروازے پر پہنچ جاتے ہیں، اور ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمیں اس کی محبت کی ضرورت ہے۔ یہ صدمات، یہ درد، یہ غم دراصل ہمیں اللہ کے قریب کر دیتے ہیں۔ یقینا، ایک لمحے کا صدمہ انسان کی ساری عبادت سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔ کیونکہ صدمے کی حالت میں انسان کی روح سچائی کے قریب ہوتی ہے۔ انسان اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتا ہے، اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتا ہے، اور اللہ کی معافی کے طلبگار بن جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں انسان کی روح واقعی اللہ سے ملتی ہے، اور وہ لمحہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا سبق بن جاتا ہے۔اسی لیے کہتے ہیں، صدمات بندے کو رب کے قریب کر دیتے ہیں۔ جب انسان گزر چکا ہوتا ہے اور پھر دوبارہ اٹھتا ہے، تو اس کے دل میں ایک نئی روشنی آتی ہے ایک روشنی جو اللہ کی محبت اور قرب کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اس وقت انسان سمجھتا ہے کہ اصل عبادت صرف جسمانی افعال میں نہیں، بلکہ دل کی حالت میں ہے۔