پنجاب کے ثقافتی دیہاڑ یعنی ”پگ ڈے“ پر ایک تقریب محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب کی طرف سے بھی سجائی گئی جس کی مہمان خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز تھیں ، اس موقع پر ہمارے کچھ اصلی فنکار بھی موجود تھے ،”سیاسی فنکار“ آج کل ہر وقت وزیراعلیٰ مریم نواز کے ارد گردہوتے ہیں ، سیاسی فنکاروں اور اصلی فنکاروں میں فرق یہ ہوتاہے سیاسی فنکاروں کی”فنکاریاں“پکڑی جاتی ہیں جبکہ اصلی فنکاروں کی فنکاریاں کسی ” کیس“ میں نہیں پکڑی جاتیں ، خاص طور پر”سیاسی فنکار“ اپنے اپنے آقاو¿ں کی خوشامد کی جو فنکاری کرتے ہیں وہ چ±ھپائے نہیں چ±ھپتیں ، بہرحال اصل فنکاروں میں فردوس جمال حامد رانا ، ریشم اور ہماری سادہ لوح گلوکارہ نصیبو لال بھی موجود تھیں ، ایک زمانے میں نصیبو لعل جی کے بارے میں میرا خیال تھا وہ”سادہ لوحی“ کی صرف ایکٹنگ کرتی ہیں ، مگر جب میں نے ا±ن کے ساتھ سفر کیا ، خاص طور پر میں جب ا±ن کے گھر گیا، ا±ن کے رشتہ داروں سے ا±ن کا حسن سلوک دیکھا اور ا±ن کے کچھ رشتہ داروں کی ا±ن سے بدسلوکی دیکھی ، ا±س پر نصیبو لعل کا صبر دیکھا مجھے یقین ہو گیا یہ واقعی سادہ لوح یعنی ”اللہ لوکنی“ ہے ، وزیراعلیٰ مریم نواز تقریب میں ا±ن کے ساتھ بہت عزت سے پیش آئیں ، فرط جذبات میں ا±ن کے بارے میں وہ یہ بھی کہہ گئیں کہ”وہ بچپن سے نصیبو لعل کے گانے س±نتی آئی ہیں ، شکر ہے ا±نہوں نے معاملہ اپنے بچپن تک ہی رکھا ، مزید فرط جذبات میں کہیں یہ نہیں کہہ دیا “میرے والد محترم میاں محمد نواز شریف بھی بچپن سے ہی نصیبو لعل کے گانے س±نتے آ رہے ہیں ، اس کے علاوہ اپنی تقریر میں ا±نہوں نے نصیبو لعل کی فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کا دعوی بھی کر ڈالا ، جہاں تک میری معلومات ہیں نصیبو لعل نے آج تک کسی فلم یا ڈرامے میں کام نہیں کیا ، ش±کرہے اداکارہ ریشم کے بارے میں ا±نہیں کچھ کہنے کا موقع نہیں ملا ورنہ وہ شاید ا±ن کے بارے میں بھی فرما دیتی ”میں بچپن سے ریشم کے گانے سنتی آئی ہوں“ ، حالانکہ ریشم گلوکارہ نہیں اداکارہ ہیں ، فن و ثقافت کے حوالے سے ہمارے حکمرانوں کی جتنی ناقص معلومات ہوتی ہیں ا±س کے مطابق اتنی رعایت انہیں ملنی ہی چاہیے وہ کسی اداکار یا اداکارہ کو گلوکار یا گلوکارہ یا کسی گلوکار یا گلوکارہ کو اداکار یا اداکارہ کہہ دیں ، اداکارہ ریشم کے ساتھ بھی وہ بہت عزت سے پیش آئیں ، جواب میں ریشم ا±ن کے ساتھ ا±ن سے بھی زیادہ عزت سے پیش آئیں ، دو طرفہ عزت مندی کے یہ لمحات سوشل میڈیا کی زینت بننے پر ریشم کو بدترین تنقید کا نشانہ بنایا گیا ، جیسے وزیراعلیٰ مریم نواز کو جپھی ڈال کر ا±نہوں نے کوئی بہت بڑا گناہ کر دیا ہو ، یہی جپھی اگر ا±نہوں نے عمران خان کے ساتھ ڈالی ہوتی کسی ”عمرانڈو“ کو اس پر اعتراض نہیں ہونا تھا ، ریشم چونکہ بڑے دل اور ظرف کی مالک ہے چنانچہ ا±س نے مریم نواز کے ساتھ اپنی تصویروں پر آنے والے کسی فضول کمینٹ کا جواب نہیں دیا نہ ہی کسی گھٹیا کمینٹ کو ڈیلیٹ کیا ، کچھ گھٹیا ، غلیظ اور فسادی ذہنیت کے مالک لوگوں کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا فنکار سب کے سانجھے ہوتے ہیں ، ا±نہیں سیاسی جماعتوں میں تقسیم کرنے کا کام غلط ہے ، فنکاروں کے دل صرف محبت سے جیتے جاتے ہیں جو حکمران سیاسی جماعتیں اگر چاہیں آسانی سے جیت سکتی ہیں ، اداکارہ ریشم مجھے بتا رہی تھیں پچھلے دنوں وہ کسی مشکل کا شکار ہو گئیں ا±نہوں نے اپنے بہت سے دوستوں سے رابطہ کیا ، کوئی کام نہیں آیا ، پھر کسی نے ا±نہیں پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگ زیب کا نمبر دیا ، ا±نہوں نے جب ا±ن کے واٹس ایپ پر میسج کیا فورا ًا±ن کی کال آگئی اور مسئلہ بھی حل ہو گیا ، یہی مسئلہ عمران خان کی حکومت میں عمران خان کو ا±ن کے واٹس ایپ پر وہ بتاتیں پہلے وہ ا±نہیں بنی گالہ بلاتے ا±س کے بعد بھی کوئی گارنٹی نہیں تھی مسئلہ حل ہوتا یا مزید بگڑ جاتا ،میں سوچ رہا تھا کیا ہی اچھا ہوتا اگر پنجاب کے ثقافتی دیہاڑ کے موقع پر منعقدہ تقریب میں لالے عطا اللہ عیسی خیلوی کو بھی بلا لیا جاتا ، وہ ان دنوں پاکستان میں ہی ہیں ، وزیراعلیٰ مریم نواز خود ا±ن سے رابطہ کرتیں اور کہتیں ”یہ میرا نہیں پنجاب کا معاملہ ہے ، ا±س پنجاب کا جس نے آپ کو اتنی عزت دی آج آپ پوری دنیا میں س±نے اور پسند کئے جاتے ہیں ، اس کا تقاضا ہے آپ پنجاب کے ثقافتی دیہاڑ میں شریک ہوں“ ، عطا اللہ عیسی خیلوی جتنی محبت مروت اور رکھ رکھاو¿ والے انسان ہیں مجھے یقین ہے وہ کبھی انکار نہ کرتے ، یہ الگ بات ہے اس کے بعد ا±ن کی پسندیدہ جماعت کے لونڈے لپاڑے ا±ن کے ساتھ بھی شاید وہی بدسلوکی کرتے جو اداکارہ ریشم کے ساتھ ا±نہوں نے کی ، لونڈے لپاڑے یہ بھی بھول جاتے عطااللہ عیسی خیلوی کا ا±ن کے لیڈر عمران خان کے ساتھ عقیدت و احترام کا کیا رشتہ ہے ؟ حکومت پنجاب کے ثقافتی دیہاڑ میں ا±ن کی شرکت سے تقریب کے رنگ ڈھنگ کچھ اور ہی ہوتے ، ابرار الحق سے تو پی ٹی آئی چھڑوائی جا چکی ہے ، ا±نہیں ہی مدعو کر لیا جاتا ، ا±ن کے بغیر بھی یہ تقریب نہیں جچی ، عارف لوہار کو دیکھ کر خوشی ہوئی ، وزیراعلیٰ مریم نواز نے ا±نہیں بھی ساتھ بٹھایا ، اپنی تقریر میں ا±نہوں نے عارف لوہار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ”مجھے آپ کا یہ گانا ”اک پ±ھل موتیے دا مار کے جگا سونیے“ بہت پسند ہے“ ، اس بات پر بھی سوشل میڈیا پر ا±نہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ، کہا گیا”یہ گانا تو منصور ملنگی کا ہے“ ، منصور ملنگی نے بھی گایا ہوگا مگر عارف لوہار نے اس گانے کو اس انداز میں گا کر دوبارہ زندہ کر دیا جس انداز میں ہماری گلوکارہ شازیہ منظور نے ہمارے عظیم گلوکار عنایت حسین بھٹی کا گانا ”او چن میرے مکھناں “گا کر ا±سے دوبارہ زندہ کر دیا تھا ، بہرحال پنجاب کا محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب کے ثقافتی دن پر منعقدہ تقریب پر کچھ اور محنت کر لیتا اسے مزید خوبصورت بنایا جاسکتا تھا ، مزید کئی خوبصورت فنکاروں شاعروں ادیبوں اور دانشوروں کو مدعو کیا جاسکتا تھا جن کی موجودگی سے وزیراعلیٰ مریم نواز فخر اور خوشی محسوس کرتیں ، وزیر شذیر اور مشیر بہت تھے ، پڑھے لکھے لوگوں کی شدید کمی تھی ، لاہور دا لاوا اختر پاوا شکوہ کر رہا تھا اگر ایسے ہی لوگ بلانے تھے پھر ا±سے کیوں نہیں ب±لایا گیا ؟ ؟ ؟