ثقافت ہماری پہچان ہے یہ ہمیں تاریخ سے جوڑتی ہے اور ایک قوم کی حیثیت سے ہماری یکجہتی میں اضافہ کرتی ہے۔ ثقافتی میلے ہماری روایات کو زندہ رکھنے اور نئی نسل کو اپنی ثقافتی ورثے کے بارے میں آگاہ کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہیں۔ یہ تقریبات صرف ثقافتی تشہیر کا ذریعہ نہیں ہیںبلکہ یہ ہماری مٹی کے ساتھ گہرے تعلق کی عکاسی کرنے کے ساتھ ہماری نوجوان نسل کو اپنی ثقافت سے منسلک کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم بھی فراہم کرتی ہیں۔ پنجاب اپنی بھرپور ثقافت، رنگین روایات اور ماضی کی شاندار داستانوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ حکومت پنجاب کی طرف سے صوبے بھر بالخصوص لاہور آرٹس کونسل میں 17 سے 19 اپریل تک تین روزہ ثقافتی تقریبات کا شاندار انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف پنجابی ادب و ثقافت سے کتنا پیار کرتی ہیں اور اسے زندہ رکھنے کیلئے کس قدر پُرعزم ہیں۔ مریم نواز کی ذاتی دلچسپی اور قیادت میں پنجاب حکومت نے ان تین روزہ تقریبات میں ثقافتی ورثے کی اہمیت کو جس بھرپور انداز میں اجاگر کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس سارے عمل میںصوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری کی کاوشیں بھی لائق تحسین ہیں جنہوں نے ان تقریبات کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی محنت اور لگن نے صوبے بھرمیں ثقافتی تقریبات کے شاندار انعقاد کو ممکن بنایا۔ جن میں پنجابی ثقافت کی مختلف جہتوں مصوری، پنجابی مشاعرہ، پنجابی لوک گیت، ڈھولے، ٹپے، ماہیے، بولیاں، میجک شو، بچوں کے جھولے، لڈی ڈانس اور ٹیبلو شوز کے ذریعے فلم، ریڈیو، ٹی وی اور ادب سے وابستہ سینئر شاعروں، ادیبوں، فنکاروں اور گلوکاروں کے ساتھ نوجوانوںکو بھی اپنی صلاحیتیں دکھانے کا بھرپور موقع فراہم کیا گیا۔ ماضی کے برعکس اس تین روزہ ثقافتی دیہاڑ کی خاص بات یہ تھی کہ اس بار یہ سلسلہ صرف لاہور شہر تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ حکومت پنجاب کی خصوصی ہدایات پر اسے صوبے بھر میں روایتی جوش و خروش کے ساتھ ایک تہوار کے طور پر منایا گیا۔ اس حوالے سے صوبے کے تمام اضلاع میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا جن میں تمام سرکاری محکموں میں افسران اور ملازمین نے پنجابی ثقافت کی نمائندگی کرتے ہوئے روایتی لباس زیب تن کیے اور پنجابی پگڑیاں پہن کر اپنی ثقافتی شناخت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ پنجاب کی تمام آرٹس کونسلوں میں کلچر ڈے کے سلسلے میں خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں موسیقی، رقص، مشاعرے اور دیگر ثقافتی سلسلے پیش کیے گئے جن میں عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پنجاب بھر کے سرکاری سکولوں میں بھی خصوصی طور پر ثقافت دیہاڑ کو شاندار جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا جس کا مقصد نئی نسل کو اپنی شاندار ثقافت، ادب، روایات اور اقدار سے روشناس کرانا تھا۔ اس سلسلے میں لاہور میں ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے مرکز الحمرا آرٹس کونسل کی انتظامیہ نے ان تین روزہ تقریبات کا جس شاندار انداز میں اہتمام کیا اس نے ایک طویل عرصے کے بعد الحمرا آرٹس کونسل کے سابق چیئرمین ممتاز شاعر اور ادیب محترم عطاء الحق قاسمی کی یاد تازہ کر دی۔ جنہوں نے الحمرا آرٹس کونسل میں بین الاقوامی سطح پر پاکستانی ادب و ثقافت کی ترقی و ترویج کے لیے سالانہ کانفرنسوں کی بنیاد رکھی تھی۔ جس میں ملکی و بین الاقوامی شاعروں، ادیبوں اور فنکاروں کے ساتھ ملک بھر سے نوجوانوں کو بھی اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیا جاتا تھا۔ البتہ 17 اپریل سے شروع ہونے والا یہ تین روزہ ثقافتی میلہ اس لحاظ سے منفرد تھا کہ اس میں پہلی بار خاص طور پر پنجابی ادب و ثقافت کے ورثے اور اہمیت کو حکومتی سطح پر اجاگر کیا گیا جس میں عوام نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔ الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں ملک کے نامور گلوکاروں کی لائیو پرفارمنس، پنجابی مشاعرے اور دیگر دلچسپ سلسلوں کے ساتھ مختلف سٹالز کے ذریعے پنجاب کے مختلف شہروں کے رہن سہن اور ادب و ثقافت کو جس انداز میں زندہ کیا گیا وہ بے حد شاندار اور الحمرا آرٹس کونسل کی انتظامیہ اور ثمرین بخاری، نوین روما اور صبح صادق جیسے ورکرز کی دن رات محنت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ 17 اپریل کو الحمرا
آرٹس کونسل لاہورمیں ان تقریبات کی افتتاحی
تقریب منقعد کی گئی جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوںنے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’ہمیں پنجابی بول کر فخر کرنا چاہیے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو پنجابی زبان سکھائیں یہ نہ صرف زبان کی بقا بلکہ ثقافت کی بھی بقا ہے۔ زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک قوم کی تاریخ، ثقافت اور شناخت کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ پنجاب کی پگ پنجابیوں کی آن، بان اور شان ہے۔ ہمارا کلچر دنیا بھر میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتا ہے۔ پنجابی کلچر کو فروغ دینا اور اسے نئی نسل تک پہنچانا پنجاب حکومت کا ویژن ہے۔ پنجاب حکومت کی ان کاوشوں کا مقصد ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانا اور عالمی سطح پر پنجاب کی پہچان کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں گذشتہ 30 سال سے میلوں اور تقریبات کا جو سلسلہ رکا ہوا تھا ہم نے اسے دوبارہ زندہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کا میوزک سن لیں مگر ’’بلے بلے ٹور پنجابن‘‘ جیسی بات کہیں اور نہیں بھنگڑے کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں۔ انہوں نے خصوصی طور پر پنجابی شاعروں، ادیبوں اور فنکاروں کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ میں چاہتی ہوں فنکاروں کے لیے کچھ ایسا کروں جو آج تک کسی نے نہ کیا ہو کیونکہ انہوں نے اپنی زندگیاں اپنے فن کے لیے وقف کی ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم انہیں کچھ لوٹائیں‘‘۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ نے جب سے وزارت اعلیٰ کی کرسی سنبھالی ہے وہ دن رات صوبے کے عوام کی ترقی و خوش حالی کیلئے کوشاں ہیں۔ اُن کی جانب سے شاعروں، ادیبوں اور فنکاروں کیلئے کچھ نیا کرنے کا عزم یقینا قابل تحسین ہے۔ اس سلسلے میں ایک تجویز ہے کہ دیگر فلاحی اقدامات کے ساتھ اگر شاعروں، ادیبوں اور فنکاروں کے لیے بھی صحافی کالونی کی طرز پر پنجاب کے بڑے شہروں میں سستی رہائشی سکیموں کا آغاز کیا جائے تو صوبے کے اُن بے شمار شاعروں، ادیبوں اور فنکاروں کی بہت بڑی خدمت ہو گی جو ابھی تک اپنی چھت سے محروم ہیں۔ آخر میں پنجابی ادب و ثقافت سے پیار کرنے والے ایک پنجابی شاعر ادیب اور کالم نگار کی حیثیت سے صوبہ بھر میں پہلی بار ان ثقافتی تقریبات کے شاندار انعقاد پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوز شریف صاحبہ کے شکریہ کے ساتھ صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری صاحبہ کو اس امید کے ساتھ بہت مبارک باد کہ وہ آئندہ بھی اسی جوش اور جذبے سے پنجابی ادب و ثقافت کی ترقی اور ترویج کیلئے کوشاں رہیں گی۔