دور حاضر میں موبائل فون کا استعمال یقینا ایک لازمی حیثیت صورت اختیار کر گیا ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کے بے جا استعمال نے ہماری زندگیوں کا بہت سارا حسن غارت کردیاہے۔زندگی کی وہ سہانی گھڑیاں جو یاروں دوستوں، بہن بھائیوں اورعزیز رشتہ داروں کے ساتھ گپ شپ میںبسر ہوتی تھیں وہ سب موبائل فون کی بھینٹ چڑھ گئی ہیں۔وہ سرورجو آنکھیں بند کرکے کسی حسین تصور میں کانوں میں رس گھولتے اور دلوں کی تاروں کو چھیڑتے سدا بہار گیتوں کے سننے میں تھا وہ کھو گیا ہے۔وہ لطف اور احساس جو کسی اچھی کتاب کے پڑھنے اورپھر دنوں ہفتوں یا مہینوں اس کے کے سحر میں مبتلا رہنے کا تھا وہ بھی اس موئے موبائل فون کی وجہ سے کم یاب ہوگیا ہے۔ موبائل فون پر بے جا مصروفیت کے سبب ان محرومیوں کا احساس تو خیر مجھے پہلے بھی تھا لیکن آج ایک عرصے کے بعد موبائل فون کے بغیر چھٹی کے روز نومبر کی دھوپ میں بزرگ لکھاری منظور حسین حسرت کی خود نوشت’’صفر کا سفر‘‘ کے ساتھ لگاتار تین چار گھنٹے گزارے تو مجھے شدت سے احساس ہوا کہ کتاب کے ساتھ انسان کا رشتہ کتنا خوبصورت اور انمول ہے جسے موبائل فون کی ’’خرابیوں ‘‘نے گہنادیا ہے۔ بیشک کتاب تنہائی کی بہترین ساتھی تو ہے ہی مگر اس کے ساتھ علم و آگہی کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔شعور و دانش کے در وا کرتی اور لطف دیتی ایسی ہی ایک خوبصورت کتاب واہ کینٹ سے تعلق رکھنے والے ہمارے بزرگ ادیب منظور حسین حسرت کی خود نوشت’’صفر کا سفر‘‘ ہے۔تقریباًایک صدی پر محیط منظور حسین حسرت کی یہ رنگا رنگ’’ داستانِ حسرت‘‘ اپنے اندر دھوپ چھائوں اور دُکھ سُکھ جیسے زندگی کے کئی رنگ اور ذائقے سموئے ہوئے ہے۔ کتاب میںمنظور حسین حسرت نے بچپن سے لے کر لڑکپن،جوانی اور پھر بڑھاپے تک اپنی زندگی کی کہانی کو اس دلچسپ پیرائے میں بیان کیا ہے کہ قاری ایک دفعہ اسے پڑھنا شروع کرلے تو پھر اسے آخر تک پڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں بلکہ ایک صدی پر محیط پورے عہد کی داستان ہے۔یہ ایک ایسے شخص کی آب بیتی ہے جس نے سیالکوٹ کے ایک دور افتادہ گائوں میں جنم لے کر یتیمی کے سائے میں اپنی محنت اور مسلسل جدوجہد سے نامساعدہ حالات اور کٹھن حالات کو بہادری سے شکست دے کر نہ صرف اپنی زندگی کو سنوارا بلکہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کے لئے بھی کامیابی کی قابل رشک داستان رقم کی ہے۔احسان دانش کی خود نوشت’’جہانِ دانش‘‘ اور پاکستان کے سابق چیف جسٹس ارشاد حسن خان کی خود نوشت ’’ارشاد نامہ‘‘ جو انہوں مجھے خود ارسال کی تھی کے بعد میرے مطالعہ میں یہ تیسری ایسی کتاب ہے جسے میرے خیال میںاُن لوگوں کے سامنے ایک روشن مثال کے طور پر پیش کرنا چاہیے جو ہر وقت اپنی محرومیوں کا رونا روتے رہتے ہیں اور زندگی کی آزمائشوں کو تقدیر کا لکھا سمجھ کے مایوس ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔آج ستاسی سالہ منظور حسین حسرت اردو کے جانے مانے ادیب ہونے کے ساتھ ایک ایسی کامیاب اور خوشحال کاروباری شخصیت ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے فرمانبردار اولاد کے ساتھ ہر طرح کی دنیاوی نعمتوں اور آسائشوں سے بھی نواز رکھا ہے۔مگر راحت،اطمینان اور خوشی کے اس مقام تک پہنچنے میں انہیں کتنے زمانے لگے اورزندگی میں انہیںکیسے کیسے مقامات آہ وفغاں سے گزرنا پڑا یہ ایک طویل اور کٹھن داستان ہے۔اس بات کو انہوں نے اپنی کتاب کے پیش لفظ میںیوں بیان کیا ہے ’’یہ سچی کہانی اس سفر کی داستان ہے جو بالکل صفر سے شروع ہوئی۔یہ ایسا سفر تھا جہاں ہر قدم پر مشکلات نے اپنا جال بچھایا، مگر میںناکامیوں کے زخم،ناامیدی کے اندھیروں اور بے شمار رکاوٹوں کو عبور کرتے قدم بقدم آگے ہی بڑھتا رہا‘‘۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس خود نوشت میں منظور حسین حسرت نے صرف اپنی زندگی کی داستان ہی نہیں لکھی بلکہ اپنے بچپن سے بڑھاپے تک کے اس سفر میں انہوں نے اپنے ارد گرد کے سماجی و معاشرتی اور تاریخی واقعات کو بھی بڑی خوبصورتی سے اس کتاب میں سمو دیا ہے جو اس کتاب میں شامل ہوکر ایک مستند تاریخی دستاویز کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی کے
مختلف ادوار میں جس طرح پنجاب کی دیہاتی اور شہری زندگی کی رہتل بہتل اور رسم و رواج کو قریب سے دیکھا اور پرکھا اسے اپنی آپ بیتی میں شامل کرکے ہمیشہ کے لئے محفوظ بنادیا ہے جو ایک بڑا اور اہم کام ہے۔اس آپ بیتی میں ہمیںپنجاب کی ثقافت بھی پوری آب و تاب کے ساتھ دکھائی دیتی ہے جس میں پنجاب کے دیہات، اس کی لہلہاتی فصلیں،ڈھور ڈنگر،ڈھولے ٹپے، میلے ٹھیلے، یاری دوستی،دشمنیاں، توہم پرستی اور پیار محبت کی داستانیں بھی شامل ہیں۔یہ ایک ایسی خود نوشت ہے جو نہ صرف زندگی کی خوبصورتیوں کی عکاسی کرتی ہے بلکہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم کس طرح اپنی ثقافت، روایات اور تاریخ کو سمیٹ کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔منظور حسین حسرت کی سادہ بیانی اور سچائی ان کی تحریر کا ایک خاص پہلو ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے اپنے تجربات اور مشاہدات کو جس طرح کسی مصلحت اورتصنع کے بغیربیان کیا ہے یہ بات قاری کو نہ صرف متاثر کرتی ہے بلکہ اسے اپنی زندگی کے بارے میں بھی غور و فکر کرنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔ آج کے اس جدید دور میں جہاں لوگ بنا کسی خاص مقصد سے تیز رفتاری سے زندگی گزار رہے ہیں، ’’صفر کا سفر‘‘ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے۔منظور حسین حسرت نے کتاب ’’صفر کا سفر‘‘ کے ایک باب میں قیام پاکستان کے لئے اُن لاکھوں گمنام مائوں،بہنوں،بیٹیوں،بزرگوں اور معصوم بچوں کی دی گئی المناک قربانیوں کا نوحہ بھی لکھا ہے جسے پڑھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔آخر میںہمارے وہ لوگ جو اپنی نالائقیوں کی اصلاح کرنے کی بجائے اپنی ناکامیوں اور محرومیوں کا الزام پیارے ملک پاکستان کو دیتے ہیں۔ اُن کیلئے اس باب سے اشکوں میں ڈوبی چند لائنیں اس امید کے ساتھ پیش ہیں کہ شاید یہ پڑھ کر انہیں اس بات کا احساس ہو جائے کہ ہمارے پرکھوں نے پاکستان کتنی قربانیوں کے بعد بنایا تھا اور یہ کہ ہم سب کی بقا کیلئے پاکستان کا وجود قدرت کا کتنا بڑا انعام ہے ۔’’راتوں رات پشتوں سے آباد گھر چھوڑنے پڑے۔ لاکھوں لوگ بے موت مارے گئے۔ ہزاروں پاک دامن بیبیوں کی عصمت دری ہوئی۔بچوں کو نیزوں کی انیوں پر لہرایا گیا۔یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آسمان سے پاگل پن کی کالی بارش برس رہی ہو جس کے ساتھ خونی سیلاب اُمڈ آیا ہو۔ معصوم بچوں کی آہ و فریاد،مائوں کی سسکیاںاوربہنوں کی چیخیں سب لہو میں ڈوب گئیں‘‘ ۔