Wed, September 16, 2026

خرچہ30ہزارکروڑ،فائدہ صفر

خرچہ30ہزارکروڑ،فائدہ صفر

’’ممالک کی خارجہ پالیسی میں دوستی دشمنی کچھ خاص نہیں ہوتی بس ملکی مفاد ہوتا ہے۔اسی قومی مفاد پر کسی ملک سے دوستی اور اسی مفاد پر دشمنی ہوتی ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بھی یہی عنصر غالب رہے گا تو ملک کے لیے بہترین رہے گی ۔کبھی کبھی ہماری خارجہ پالیسی میں دوستی اور دشمنی قومی مفاد کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔دشمن کے دشمن سے دوستی کرنا خارجہ پالیسی کا ایک اور اہم ستون بن جاتا ہے۔پاکستان اور بھارت جیسے ممالک میں دوستی دشمنی خارجہ پالیسی کا مرکزی نقطہ رہی ہے۔بنگلہ دیش،ایران اورافغانستان بھارت کے اچھے دوست ہیں تو چین اور سری لنکا اس خطے میں پاکستان کے اچھے دوست ہیں۔بھارت میں نریندرمودی کے آنے سے بہت کچھ بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔بھارتی خارجہ پالیسی کے بنیادی اجزا تبدیل ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ نریندرمودی دشمن کے دشمن کے ساتھ ساتھ دشمن کے دوستوں کو بھی اپنا دوست دوست بنانے کے فلسفے پر چل نکلا ہے اور مشرق وسطیٰ کی حد تک اس کو کامیابی بھی مل رہی ہے۔پاک بھارت معاملات پر نظر رکھنے والے خارجہ امور کے ماہرین کا کہناہے کہ بھارت سفارتی میدان میں پاکستان کو غیرمتعلق کرنے کے لیے ایسی پالیسی پر گامزن ہے جس میں دشمنی نہیں بلکہ دوستی کی بنیادپراسے اپنی طرف کھینچ کرپاکستان سے اتنا دورکردینا ہے کہ وہ چاہ کر بھی پاکستان کو کوئی فائد ہ نہ پہنچاسکیںاور خطے میں صرف بھارت کی بالادستی ہو،دنیا جب اس خطے کی طرف دیکھے تو اس کو صرف ہندوستان ہی ہندوستان دکھائی دے‘‘
یہ سطور میرے اس کالم کا اقتباس ہے جو میں نے نومبر 2015میں لکھا تھا۔ آپ اگر اُس وقت کا جائزہ لیں تو ہندوستان میں نریندر مودی کی آمد کو اسی طرح دیکھا جارہا تھا اور نریندرمودی نے پہلی بار ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا رخ پاکستان کو غیر متعلق کرنے کے لیے پاکستان کے دوست مسلم ممالک کی طرف موڑ دیا تھا۔یہ وہ دور تھا جب یمن کی جنگ میں ہمارے عرب دوستوں کی طرف سے پاکستان کی فوج بھیجنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا لیکن پاکستان کی پارلیمنٹ نے فوج وہاں بھیجنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس کے بعد عرب دوست غصے میں تھے جس کا فائدہ فوری طورپرہندوستان نے اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا۔یہی وہ دور تھا جب ہندوستان سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور قطر کے قریب ہوا اور اپنی منڈی کو ان ممالک کے لیے کھول دیا۔پاکستان کے پاس صرف انتظار کا آپشن تھا سو ا س نے وہ انتظار کیا۔
نریندرمودی کے اقتدار میں آنے کے بعد آر ایس ایس کا ہندوستان کی سیاست اور حکومت پر قبضہ اور ہندوستان  کی فیصلہ سازی میں آر ایس ایس کے چیف موہن بھگوت کا کردار مرکزی ہو گیا۔ جب مودی نے اجیت دول کو اپنا قومی سلامتی کا مشیر مقررکیا تو اجیت دول نے ’’ڈیفنسو اوفینس‘‘ کی تھیوری پیش کی جس کا بنیادی مقصد پاکستان کو دنیا سے کاٹ کر سفارتی طور پر تنہا کرنا تھا۔ ہندوستان کو اُس وقت یہ سب ممکن بھی لگتا تھا کیونکہ پاکستان پر دہشت گردی کا بہت بڑا ’’بیگج‘‘ تھا۔ہمارے ملک میں حالات خراب بھی تھے اور ہندوستان ہر جگہ پاکستان پر دہشتگروں کو پناہ دینے کا الزام بھی لگاتا تھا۔ویسے بھی نریندر مودی نے نیا نیا اقتدار سنبھالاتھا تو دنیا میں اس کی پذیرائی ہورہی تھی ۔
حالات ایک جیسے نہیں رہتے ۔خارجہ پالیسی کے محاذ پر پاکستان نے بھی اپنی مقدربھر کوششیں جاری رکھیں ۔نوازشریف نے جاتے جاتے سی پیک کو چالو کردیا توچین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں گرمجوشی آنا شروع ہوگئی ۔عرب دنیا سے ہمارا رشتہ ایسا ہے کہ وہ وقتی طورپر کسی بات پر غصے ہوسکتے ہیں لیکن ہمیشہ کے لیے ناراض نہیں ہوسکتے دشمنی کا تو تصور ہی عبث ہے کہ ہمارارشتہ مادی نہیں اللہ کے دین کی وجہ سے ہے۔اس لیے عرب دنیا کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات میں بہتری آگئی ۔
یہ کالم لکھنے کے لیے میں نے ہندوستان کی سفارتکاری پر کافی ریسرچ کی ۔صرف بھارتی وزیراعظم کے بیرونی ممالک کے دوروں کی تفصیلات ہی ہوش ربا ہیں۔نریندرمودی نے اپنے گیارہ سال کے اقتدار میں 73ممالک کے 157دورے کیے ۔اس میں سے سب سے زیادہ دس دورے امریکا کے ہیں یعنی مودی ہر سال امریکا کا دورہ کرنے والا اسرائیل کے بعد دنیا کا پہلا وزیراعظم ہے۔ اسی طرح مودی نے فرانس کے 8دورے کیے۔متحدہ عرب امارات ،جاپان اورروس کے سات سات دورے کیے۔چین کے پانچ دورے بھی اس میں شامل ہیں۔ مودی کے ان 157دوروں پر8ہزار4سوکروڑ بھارتی روپے کا خرچہ آیا۔اگر ہم پاکستانی کرنسی میں کسی وزیراعظم کی سفارتکاری کا خرچہ دیکھیں تو یہ 30ہزار کروڑ روپے بن جاتا ہے۔یہ اخراجات صرف وزیراعظم نریندر مودی کے دوروں پر اٹھے ہیں اگر اس میں بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر کے دورے بھی شامل کرلیں جوکہ مودی سے دوگنا ہیں تو اخراجات بھی دگنے ہوجاتے ہیں۔
ہندوستان نے اپنے ملک کی سفارتکاری اور پاکستان کو سفارتی طوپر تنہا کرنے کے لیے اتنی محنت اور تگ ودو کی لیکن پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد جب ہندوستان نے دنیا کی طرف دیکھا تو پوری دنیا سے صرف دو ممالک اس کے ساتھ کھڑ ہوئے۔ایک اسرائیل ہے جو اعلانیہ بھارت کے ساتھ کھڑا ہوااور ایک افغانستان ہے جس نے چپکے سے اس کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ۔
یورپ سے تعلقات کا یہ عالم ہے کہ بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر کو فرسٹریشن میں یہ کہنا پڑا کہ ہمیں یورپ کی شکل میں پارنٹر چاہئے نہ کہ ہمیں لیکچر دینے والا یورپ۔ایک اور جھٹکا یوں لگاکہ امریکی صدر نے کہہ دیا کہ انہوں نے اسمارٹ فون بنانے والی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کو کہا ہے کہ وہ ہندوستان میں فون کی مینوفیکچرنگ بند کردے ۔اس کے ساتھ ساتھ جیسے ہی ہندوستان میں ترکیہ کے بائیکاٹ کی مہم شروع کی گئی تو ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر ہندوستان کے غبارے سے ہوا نکالتے ہوئے ترکی کو میزائل دینے کا اعلان کردیا۔ یہ بھی واضح پیغام تھا کہ امریکا کے ساتھ امریکی شرائط پر چلنا پڑے گا وہ دور اب نہیں رہا کہ اس خطے میں دنیا صرف بھارت کو ہی دیکھ کر چلے گی ۔
اس وقت ہندوستان کی سفارتی سرمایہ کاری ڈوب چکی ہے اور اس کی وجہ پہلگام پر ہندوستان کا جھوٹ اور پاکستان کا سچ ہے۔پاکستان کی بات دنیا سن رہی ہے اس موقع کو کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرنا چاہئے۔

ٹیگز: