لاہور : پنجاب حکومت نے صوبے میں توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے "بچت پلان" تیار کر لیا ہے۔ محکمہ توانائی کی جانب سے وزیراعلیٰ مریم نواز کو پیش کی گئی سفارشات میں صوبے بھر میں سخت پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت کم کرنے کے لیے ڈیجیٹل کوپن سسٹم متعارف کرانے اور مخصوص ایام میں ایندھن کی فراہمی محدود کرنے کی تجویز ہے۔
تعلیمی اداروں میں تعطیلات: ٹرانسپورٹ اور بجلی کی بچت کے لیے 15 اپریل تک تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
:پرائیویٹ سیکٹر کے لیے "ورک فرام ہوم" (Work from Home) کی سخت ہدایات جاری کرنے کا منصوبہ ہے۔مارکیٹوں کے اوقات کار مزید کم کرنے، غیر ضروری تقریبات پر مکمل پابندی اور ایل ای ڈی بل بورڈز بند کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پلان کے مطابق رات 10 بجے کے بعد سٹریٹ لائٹس کو متبادل موڈ پر چلایا جائے گا تاکہ بجلی کے ضیاع کو کم سے کم کیا جا سکے۔ دوسری جانب شہریوں کی سہولت کے لیے میٹرو اور بس سروس کے پھیلاؤ میں اضافے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ نجی گاڑیوں کا استعمال کم ہو۔