Wed, September 16, 2026

سیاحت، حادثات، احتیاط

سیاحت، حادثات، احتیاط

پاکستان کے سیاحتی علاقوں گلگت بلتستان، کشمیر، کاغان، ناران اور کالام میں ہونے والے متعدد حادثات جو رواں سال مئی اور جون کے ماہ میں ہوئے وہ باسٹھ افراد کی جان نگل گئے، زندگی سے ہاتھ دھونے والے سیاحوں میں سات بچے اور اکیس خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ تعداد ان حادثات کی ہے جو ریکارڈ پر آئے۔ سیاحوں کے ساتھ پیش آنے والے حادثات کے ذمہ دار بھی سیاح خود ہیں جو غیر پختہ ڈرائیونگ، ناقص فٹنس، نا تجربہ کاری اور جلد بازی کے سبب اپنے قاتل خود بنے۔ تیز رو لہروں پر کشتی رانی کا شوق بھی زندگی کے خاتمے کا سبب بنا۔ برف کے گلیشئر میں دب کر بھی ایک خاندان موت کے منہ میں چلا گیا۔
وادیوں کو نیلام کر کے برباد کرنے والے فطرت فروشوں نے 13700 فٹ بلند درہ بابو سر کو جھولوں، زپ لائنوں، سائیکل کرتبوں سے بھرتے ہوئے سرکس بنا دیا ہے۔ ایک تار بھی اگر ٹوٹ جائے تو بچے کی لاش ملنا ممکن نہیں۔ آلودگی اس قدر ہے کہ ایک منٹ رکنا مشکل ہے۔ سیاح اپنے بچوں کی ضد کے سامنے ہتھیار نہ ڈالیں اور اس تماش گاہ کو نظرانداز کریں۔ اس سے ایک تو آپ محفوظ رہیں گے اور دوسرا سرکس لگانے والے فطرت فروشوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ اگر سیاحوں نے جھولے ہی جھولنے ہیں تو شہر کے ہر پارک میں ہر طرح کے جھولے بچوں کو بہلانے کے لیے موجود ہیں۔
ناران سے بٹہ کنڈی کی طرف نکل کر بابوسر تک جتنے بھی گلیشیئر ہیں، یہ ایک دھوکا ہیں کہ اندر سے پگھل کر خالی ہو چکے ہیں اور اوپر سے پختہ نظر آتے ہیں۔ ان پر چڑھ کر تصاویر مت بنائیں۔ برف کے ساتھ دور سے کھیلیں کیونکہ یہ تماشا موت کی طرف بھی کھینچ لیتا ہے۔
زپ لائن سے لٹک کر خود کو خطرے میں مت ڈالیں۔ ایک حادثہ ایک خاندان کی موت ہے۔
دریا کی تیز لہروں میں رافٹنگ مت کریں، کشتی الٹنے سے جو واقعہ رونما ہو گا اس کو ریسکیو کرنے کے لیے انتظامات نہیں ہیں اور اگر کشتی رانی کا شوق ہے تو اسے مصنوعی جھیلوں میں پورا کر لیں تاکہ سیاحت کے لیے آئے خاندان ان خوبصورت وادیوں سے لاشیں لے کر گھر نہ جائیں۔
کیری ڈبوں میں پندرہ افراد کو بھر کر کرتب نہ دکھائیں کہ پہاڑی راستے پہلی دوسری بار سمجھ نہیں آتے اور اگر یہ سب احتیاطیں آپ نہیں کر سکتے تو پھر وادیوں کو حادثات کے سبب بدنام نہ کریں اور اپنے گاؤں کا میلہ دیکھیں۔ وہاں پر جھولے، زپ لائن، موت کا کنواں اور سرکس موجود ہے کیونکہ آپ سیاح نہیں تماش بین ہیں۔
کوئی حکومتی ذمہ دار ہے جو بابوسر ٹاپ کی آلودگی کو ختم کرنے کا منصوبہ لائے اور اس بلندی کو پھر سے درہ بنا دے جہاں پر رک کر نانگاپربت اور راکا پوشی کو پھر سے دیکھا جا سکے۔ کوئی فطرت سے محبت کرنے والا ادارہ ہے جو اس ٹاپ کو بھی درہ خنجراب، درہ برزل، نوری ٹاپ، درہ بروغل اور درہ درکوٹ کی طرح صاف ستھرا کر دے۔ خیبر پختونخوا حکومت جھیلیں نیلام کرنے کی بجائے بھنگ بیچ کر بھی اپنے متبادل ذرائع آمدن پیدا کر سکتی ہے۔ صوبائی حکومت جھیل سیف الملوک کو دلالوں سے چھین کر ہوٹلوں، ڈھابوں، گند خانوں اور بٹ کڑاہیوں سے پاک کر دے اور کیوائی جیسی آبشار کو مچھلی فروشوں کے قبضے سے نجات دلا دے کہ وادیاں، جھیلیں، آبشاریں اور بلندیاں پاک ہوتی ہیں انہیں آلودہ نہیں کیا جاتا۔
سیاح دوست اپنی گاڑی کی فٹنس کا خیال رکھیں۔ گلیشیئر سے دور رہیں اور بچوں کو وادیوں اور مناظر سے بہلائیں۔ موت کے کھیل سے دور رکھیں۔

ٹیگز: