Wed, September 16, 2026

وادی نیلم سیاحوں سے خالی، پاک بھارت کشیدگی سے سیاحت کو شدید نقصان

وادی نیلم سیاحوں سے خالی، پاک بھارت کشیدگی سے سیاحت کو شدید نقصان

مظفرآباد: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں واقع قدرتی حسن سے مالامال وادی نیلم اس سال موسمِ گرما کے آغاز میں ہی سیاحوں سے خالی ہو گئی ہے۔ انڈیا کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور جنگ کے خدشات نے علاقے کی سیاحتی سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا ہے۔

وادی نیلم ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ماضی میں گرمیوں کے دوران تقریباً تین لاکھ افراد اس خطے کا رخ کرتے تھے۔ تاہم، 22 اپریل کو بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے مہلک حملے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے سیاحت کے شعبے کو شدید متاثر کیا ہے۔وادی نیلم لائن آف کنٹرول سے محض تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جہاں کسی بھی قسم کی سرحدی کشیدگی مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔

ماضی میں حکومت پاکستان نے سرحدی علاقوں میں بنکرز کی تعمیر میں تعاون کیا تھا، تاہم اب ان علاقوں کی آبادی میں اضافہ ہو چکا ہے اور ہر گھر میں تحفظ کی سہولت موجود نہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

پہلگام حملے کے بعد انڈیا کی جانب سے کئی سیاحتی مقامات بند کیے جا چکے ہیں، جب کہ پاکستان کی طرف ایسی کوئی ہدایات تاحال جاری نہیں ہوئیں۔

ٹیگز: