باکو آذربائیجان کا دارلحکومت ہے اور سب سے بڑا شہر بھی۔ اس قدیم شہر کی تاریخ تقریباً دو ہزار سال پرانی ہے۔1991 میں آذربائیجان نے سوویت یونین سے آزادی حاصل کی تو باکو قومی خود مختاری اور اقتصادی استحکام کی علامت بن کر ابھرا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ انیسویں صدی کا باکو تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کی وجہ سے شہرت رکھتا تھا۔ آج بھی آذربائیجان کے پاس تیل اور گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ آذر بائیجانی معیشت کا زیادہ تر دارومدار تیل اور گیس پر ہے۔ تیل اور گیس ہی کی وجہ سے آذربائیجان کو بین الاقوامی سطح پر اہمیت حاصل ہے۔ بہرحال آج کا شہر باکو مشرقی روایات، مغربی جدت اور ترقی کا امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ صاف ستھری سڑکیں۔ ترتیب سے چلتی جدید گاڑیاں۔ نیلگوں آسمان۔خوبصورت عمارتیں ۔ بڑے بڑے شاپنگ مال۔۔۔ باکو بلاشبہ بے حد خوبصورت ہے ۔اور سیر و سیاحت کے لئے نہایت موزوں بھی۔ اگرچہ پاکستانیوں کیلئے مختلف ممالک کے ویزوں کا حصول دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم غنیمت ہے کہ آذربائیجان کا ویزہ چند دن میں نہایت آسانی کیساتھ آن ۔لائن مل جاتا ہے۔ ویزہ فیس بھی مناسب ہے۔ آپ کو سیر و سیاحت سے رغبت ہے تو آذربائیجان ضرور جائیں اور خاص طور پر باکو۔ یہاں کے لوگ خوش اخلاق ہیں اور مہمان نواز بھی ۔ پاکستا ن کو اور پاکستانیوں کو پسند کرتے ہیں۔ نگورنو کاراباخ کے تنازعہ پر پاکستان نے آرمینا کے مقابلے میں ہمیشہ آذربائیجان کا ساتھ دیا ہے۔ اس تناظر میں یہ لوگ پاکستان کے احسان مند ہیں۔ یہ احسان مندی ان کے رویوں سے جھلکتی ہے۔
باکو خواتین کے لئے بھی ایک محفوظ شہر ہے۔ عمومی طور پر میںشام کے بعد گھر سے باہر نکلنے ، ڈرائیو کرنے سے حتی المقدور گریز کرتی ہوں۔ ملک سے باہر جاوں تو بھی اپنی روش پر قائم رہتی ہوں۔ چند سال پہلے ناروے کے شہر اوسلو گئی تو پتہ چلا کہ اسے دنیا کا محفوظ ترین شہر کہا جاتا ہے۔ تاہم وہاں بھی میں شام ڈھلتے ہی ہوٹل کے کمرے میں دبک کر بیٹھ رہتی۔ تاہم باکو میں میرا تجربہ مختلف رہا۔ سفیر قاسم محی الدین صاحب نے بتایا تھا کہ یہ ملک اکیلی خواتین کے لئے نہایت محفوظ ہے۔ میں نے گھومتے پھرتے یہ بات واقعتا محسوس کی۔ میرا ہوٹل بھی خیر ایک بارونق علاقے میں واقع تھا۔ اردگرد معروف ریستوران ، کافی شاپس ، کلب وغیرہ تھے۔ سڑک کے دوسری طرف دو معروف گروسری سٹور تھے جو چوبیس گھنٹے کھلے رہتے ۔ یہاں میں رات گئے تک تنہا گھومتی رہی۔ زندگی میں پہلی بار رات گیارہ بارہ بجے تک تن تنہا کسی کافی شاپ یا ریستوران میں بیٹھی رہتی ۔ کتنا اچھا لگتا ہے کہ آپ عام سے ، بے ترتیب حلیے میں کہیں گھوم پھر رہے ہوں، لیکن کوئی آپ کو گھورے اور نہ ہی آپ کی طرف متوجہ ہو۔ ان ملکوں کی اچھی بات یہ ہے کہ ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔ خیال آتا ہے کہ اپنے کام سے کام رکھنے والی عادت اور رویہ پاکستانیوں میں بھی آ جائے تو زندگی کس قدر آسان ہو جائے۔
بیرون ملک جائیں تو قانون اور قواعد و ضوابط کی پاسداری اچھی لگتی ہے۔ ہم جیسے بھی وہاں جا کر مہذب ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ سڑک پر زیبرا کراسنگ بھی کوئی شے ہے۔ پیدل چلنے والوں کے حقوق سے بھی ہم ناآشنا ہوتے ہیں۔ کتنا اچھا لگتا ہے کہ پیدل چلنے والوں کے لئے مخصوص سبز بتی بجھی ہونے پر آپ سڑک عبور کرنے لگیں اور تمام گاڑیاں رک کر آپ کو گزرنے دیں۔ پاکستان میں تو خیر پیدل چلنے کے مواقع کم کم ہی ملتے ہیں۔تاہم کسی دوسرے ملک جاوں تو مجھے ٹیکسی وغیرہ کے بجائے گھنٹوں پیدل چلنا بے حد پسند ہے۔عام طور پر پاکستان میں مجھے راستے سمجھنے اور یاد رکھنے میں نہایت مشکل کا سامنا رہتا ہے۔ کسی نئی جگہ آنے جانے کیلئے مجھے ہمیشہ کسی دوسرے پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ تاہم عجیب بات ہے کہ ملک سے باہر راستے سمجھنے کی میری حس ٹھیک ٹھاک کام کرنے لگتی ہے۔ میں نت نئے گلیوں بازاروں میں گھومتی رہتی ہوں ۔ اور یہ بات بھول جاتی ہوں کہ میں راستے بھولنے کی عادی ہوں۔ باکو میں بھی میں کوئی راستہ نہیں بھولی۔ کوئی نہ کوئی اشارہ یا نشان یاد کر کے میں نے اپنے مطلب کے شاپنگ مالوں، ریستورانوں، دکانوں، جگہوں سے واقفیت حاصل کر کے وہاں آٹھ دس دن گزارے۔
یہاں کا فن تعمیر جدت اور روایت کے امتزاج کی منہ بولتی تصویر ہے۔ دیگر ملکوں ہی کی طرح یہاں بھی بڑے بڑے عالیشان گھر نظر آتے ہیں۔ جو یقینا امیر لوگوں کے ہوں گے۔ مڈل کلاس لوگوں کے معمولی اور عام سے گھر بھی جا بجا دکھائی دیتے ہیں ۔یعنی امیر غریب کی تفریق ہر جگہ موجود ہے۔یہاں کے لوگ خوبصورت ہیں۔دیگر ممالک ہی کی طرح یہاں بھی پاکستانیوں نے آذری خواتین سے کاغذی اور حقیقی شادیاں کر رکھی ہیں۔ پتہ چلا کہ آذری خواتین پاکستانی مردوں کو پسند کرتی ہیں۔آذری بچے بھی خوبصورت ہیں۔ ویسے تو جب سے میں ماں بنی ہوں، مجھے سارے بچے ، رنگ و نسل سے قطع نظر، ایک جیسے لگتے ہیں۔ پیارے پیارے، معصوم، پھولوں جیسے۔ مجھے ان بچوں میں پاکستانی بچوں کی مشابہت دکھائی دی۔ ان بچوں کو دیکھ کر مجھے اپنی حمنہ ، حفصہ کی یاد آتی رہی۔
یہاں گھومنے پھرنے کی اچھی جگہیں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر باکو کا قدیم ترین حصہ جو اولڈ سٹی کہلاتا ہے۔ یہ علاقہ یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل ہے۔ یہاں پر قدیم فن تعمیر کی شاہکار پرانی عمارتیں ہیں۔ جن پر نقش و نگار والے قیمتی دروازے نصب ہیں۔ پتھروں سے بنے راستے اور گلیاں ہیں۔ یہ سیاحوں کی پسندیدہ جگہ ہے۔یہاں روائتی شاپنگ کیلئے درجنوں دکانیں موجود ہیں۔تاہم دکانداروں سے بھاو تاو کرنا پڑتا ہے۔ یہاں آکر مجھے مراکش کے دارلحکومت رباط کا قدیم ترین علاقہ یاد آگیا۔ وہ بھی اولڈ سٹی کہلاتا ہے ۔ مقامی لوگ اسے مدینہ کہتے ہیں۔ وہاں بھی قدیم حویلیاں تھیں، یہاں بھی حویلیاں تھیں،ٹاور ، اور نجانے کیا کیا۔ باکو کی نظامی سٹریٹ بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ خریداری کیلئے یہ ایک مصروف اور معروف جگہ ہے۔ یہ علاقہ رات میں بھی جگمگاتا ہے۔ کیسپیئن سی کا کنارہ اور فلیم ٹاور سمیت دیگر جگہیں بھی باکو میں سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ یہاں کے لوگ انگریزی زبان سے کچھ زیادہ واقفیت نہیں رکھتے۔ اگر آپ سیاح ہیں تو گوگل ٹرانسلیٹر کے ذریعے کام چلایا جا سکتا ہے۔ شاپنگ کریں تو بھی مختلف اشیاء پر لکھی زبان پڑھنے میں آپ کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آذربائیجانی کرنسی منات کہلاتی ہے، جو کافی مضبوط ہے۔ ایک منات تقریبا 165 روپے کے برابر ہے۔ کسی دوسرے ملک جاوں تو وہاں کے کھانوں میں مجھے خاص دلچسپی رہتی ہے۔ آذری کھانے مجھے ترک کھانوں کے قریب تر لگے۔ یہاں کا پلو (یعنی پلاو)، کباب، ڈولما اور دیگر کھانے کھانا بہت اچھا لگا۔ یہ کھانے کھاتے ہر بار مجھے خیال آتا کہ اللہ کی کیا کیا نعمتیں ہیں جو اس نے میرے نصیب میں لکھ رکھی ہیں۔ میں نے مشاہدہ کیا کہ یہاں کھانے کیساتھ پیپسی ، کوک وغیرہ پینے کا رواج کم ہے۔ لوگ کھانے کے ساتھ آئران (نمکین لسی) یا گیس واٹر لیتے ہیں۔ یہاں کے میٹھے بھی اچھے ہیں۔ ان کی مٹھائی باقلاوا کھا کر اور چائے پی کر مجھے خیال آیا کہ ترکی کی مٹھائی اور قہوہ زیادہ ذائقہ دار ہیں۔
جتنے دن میں باکو میں رہی میں یہاں کا مقابلہ اور موازنہ ترکی سے کرتی رہی۔ مجھے یہاں مہنگائی کی صورتحال استنبول کے مقابلے میں کم لگی۔ ٹیکسی پر سفر کرتے اور کھاتے پیتے میں نے یہ بات خاص طور پر محسوس کی۔ بہرحال باکو شہر کی سیر و تفریح کرنا مجھے نہایت اچھا لگا۔ سیاحت کیلئے یقینا یہ ایک عمدہ جگہ ہے۔