Wed, September 16, 2026

مون سون بارشیں۔۔۔ رحمت یا زحمت!

مون سون بارشیں۔۔۔ رحمت یا زحمت!


مون سون بارشوں کے بارے میں این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کی طرف سے آئے روز الرٹ جاری ہوتے رہتے ہیں جن میں عوام الناس کو خبر دار کر نے کے ساتھ متعلقہ سرکاری محکموں کو بھی آگاہ کیا جاتا ہے کہ وہ ان بارشوں کے نتیجے میں اربن فلڈنگ حادثات یا دوسرے نقصانات سے بچاو¿ کے لیے ضروری حفاظتی انتظامات کو بروئے کار لائیں ۔ پنجاب میں وزیرِ اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف کی طرف سے بھی تاکیدی احکامات جاری ہوتے رہتے ہیں اور ضلع اور ڈویژن کی سطح پر انتظامیہ کے نچلے درجوں سے لے کر اعلیٰ درجوں تک کے اہلکار اور عہدیدار ہائی الرٹ ہی نہیں ہوتے بلکہ اپنی طرف سے کیے جانے والے حفاظتی اور دیگر ضروری اقدامات کے بارے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں خبریں اور رپورٹیں وغیرہ بھی شائع اور نشر کراتے ہیں تاکہ کسی جواب دہی کی صورت میں (بوقتِ ضرورت) کام آ سکیں۔
دیکھا جائے تو پچھلے کئی سال سے یہ سلسلہ ایک معمول بنا ہوا ہے ۔ مون سون بارشوں کا موسم ہو یا مغربی ہواو¿ں سے ہونے والی موسمی اور بے موسمی بارشوں کے مواقع ہوں این ڈی ایم اے یا (صوبوں کے) پی ڈی ایم اے کی طرف سے اس طرح کے الرٹ وغیرہ جاری ہوتے رہتے ہیں ان کو سامنے رکھتے ہوئے بارشوں سے بچاو¿ کے لیے حفاظتی انتظامات بھی کیے جاتے ہیں لیکن قدرت کا اپنا ایک نظام ہے جس کے تحت جو کچھ ہونا ہوتا ہے وہ اس طرح ہو کر رہتا ہے کہ حفاظتی اور پیش بندی کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ کہیں اندازوں سے زیادہ اور طوفانی بارش برستی ہے، کہیں بادل پھٹنے کی خبر آ جاتی ہے تو کہیں گلیشئیر پھٹنے اور برفانی تودوں کی اپنی جگہ چھوڑنے کی خبریں آ جاتی ہیں۔ ان کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جانی ، مالی اور انفراسڑکچر کے نقصانات کے ساتھ ندی نالوں میں اکثر اور دریاو¿ں میں کبھی کبھی طغیانی اور سیلاب ہی نہیں آتے ہیں بلکہ پہاڑوں سے بہہ کر آنے والے ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بستیوں، آبادیوں ، سڑکوں اور پُلوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ ابھی اس ہفتہ کے آغاز میں این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کی طرف سے ۱۹ جولائی سے ۲۴ جولائی (چھ دنوں) کے بارے میں الرٹ جاری کیا گیا کہ اس دوران ملک کے بالائی حصوں سمیت خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے تقریباً سبھی اضلاع میں 
مون سون کی طوفانی بارشیں ہوں گی۔ این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے (پنجاب و خیبر پختونخواہ) جیسے محکموں کی بارشوں کے سلسلے کے بارے میں یہ پیشین گوئی بڑی حد تک درست ثابت ہوئی تو اس کے ساتھ برفانی گلیشروں اور بادلوں کے پھٹنے کے واقعات بھی رُو نما ہوئے۔ شدید بارشوں کا سلسلہ اس طرح چلا کہ گوجرانوالہ میں چند گھنٹوں کے دوران ۲۲۰ ملی میٹر بارش برسنے کا ریکارڑ قائم ہوا۔ لاہور میں ایک سپیل میں ۲۶۳ ملی میٹر بارش اس طرح برسی کہ ہر طرف جل تھل ہو گیا اور سڑکیں اور گلیاں ندی نالوں کا رُوپ دھار گئیں۔ آزاد کشمیر میں وادئی نیلم میں بادل ایسے پھٹے کہ نالوں اور پہاڑی ریلوں کی زد میں کتنے ہی مکانات بہہ گئے ۔ ناران، کاغان میں بھی پہاڑی ریلے ایک پُل کو بہا کر لے گئے اور کتنے ہی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ شمالی علاقہ جات میں بھی کئی جگہوں پر ایسے ہی واقعات پیش آئے۔ 
مون سون بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے اس طرح کے نقصانات کو دیکھا جائے تو اس تاثر کا اُبھرنا کوئی انہونی بات نہیں سمجھی جا سکتی کہ مون سون کی بارشیں ا ب رحمت کی بجائے شائید زحمت کا رُوپ دھار چکی ہیں۔ میرا خیال ہے ایسا نہیں اور پھر میرے ذہن کے نہاں خانے میں مون سون بارشوں کے بارے میں جو یادیںموجود ہیں ان کو سامنے رکھ کر بات کروں تو پھر مون سون بارشوں کے بارے میں یہ سوچنا بھی زیادتی ہو گی کہ یہ رحمت کی بجائے زحمت کا رُوپ دھارے ہوئے ہیں۔ مون سون موسم کی بارشیں ہوں یا کسی اور موسم کی بارشیں ہوں یا مغربی ہواو¿ں کے زیرِ اثر برسنے والی بارشیں ہوں بلا شبہ یہ اللہ کی رحمت اور ان سے ہماری پانی کی ضروریات ہی پوری نہیں ہوتیں بلکہ ہمارے کھیت، کھلیان،ہمارے جنگل، بیاباں، ہمارے پہاڑ ، میدان اور ہماری وادیاں سر سبز اور شاداب ہوتی ہیں۔ یہ اللہ کریم کا خصوصی کرم ہے کہ ہمارے ہاں عموماً مخصوص موسموں میں ضرورت کے مطابق بارشیں برستی رہتی ہیں۔ یہ ایک قدرتی نظام ہے جو کب سے چلا آ رہا ہے۔ تاہم یہ کہنا شائید غلط نہ ہو کہ پچھلے پانچ چھ عشروں سے ہم نے اس نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ درختوں کا کٹاو¿، کھیتوں، کھلیانوں اور زرعی زمینوں کا ہاو¿سنگ سوسائٹیوں میں تبدیل ہونا، سیمنٹ، سریے اور ریت سے بنائے اونچے اونچے پلازے کھڑے کرنا،گاڑیوں ، موٹر سا ئیکلوں اور دوسری وہیکلز کے انجنوں سے خارج ہونے والے دھوئیں اور دوسرے کیمیکلز سے فضا کو آلودہ کرنا اور اسی طر ح کے دوسرے عوامل ایسے ہیں جن سے ہم نے قدرتی ماحول اور فضا کو پراگندہ کر رکھا ہے جس کی بنا پر موسمیاتی تبدیلیاں ہی رُو نما نہیں ہوئی ہیں بلکہ بارشوں کے برسنے کا قدرتی نظام بھی بری طرح متاثر ہو چکا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ن کے معمول سے ہٹ کر برسنے یا غیر متوقع طور پر زیادہ یا کم برسنے کی وجہ سے کی یا ان سے ہونے والے نقصانات کی بنا پر ہم یہ سمجھیں کہ ہمیں ان کی ضرورت نہیں یا یہ ہمارے لیے رحمت کی بجائے زحمت بن گئی ہیں بالکل ایسانہیں ہے اور نہ ہی ایسا ہونا چاہیے۔
بارشیں بلا شبہ اللہ کی رحمت ہیں۔ مون سون بارشوں کے حوالے سے میں اپنی یادوں کو کریدوں تو مجھے یاد پڑتا ہے کہ پچھتر چھہتر سال قبل میں اپنے گاوں کے پرائمری سکول میں پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا تو ملک محمد اقبال مرحوم ہماری جماعت کے استا د تھے۔ یہی موسم تھا بادل خوب گھیر کر آئے ہوئے تھے ۔ دو کمروں پر مشتمل سکول کے مشرقی کمرے کی مشرق والی دیوار کی کھڑکی کُھلی ہوئی تھی جس سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کمرے کو ٹھنڈا کیے ہوئے تھے تو پھر کچھ ہی دیر میں موسلا دھار بارش برسنے لگی۔ ملک محمد اقبال مرحوم نے ہمیں تفصیل سے بتایا کہ یہ اس موسم میں برسنے والی مون سون کی بارش ہے۔ اس طرح مون سون کے موسم اور اس دوران برسنے والی بارشوں کے بارے میں پہلی بار آگاہی ہوئی۔ بعد میں میٹرک میں اپنے پسندیدہ مضمون جغرافیے میں مون سون خطے اور اس کی بارشوں کے بارے میں پڑھا تو مزید معلومات حاصل ہوئیں۔
یہاں ان معلومات کا حوالہ بے معنی ہو گا، اس کی بجائے یہ ذکر پُر لطف سمجھا جا سکتا ہے کہ ان دنوں جب یہ بارشیں برسا کرتی تھیں تو عموماً میرے سمیت میرے ہم عمر ، ہم جماعت عزیز رشتہ دار ملک مشتاق مرحوم، ملک محمد آزاد مرحوم، ملک محمد بنارس وغیرہ اکثر لنگوٹ کَس کر گھروں سے نکل کر بارشوں میں نہاتے ہوئے آدھے ، پونے میل کے فاصلے پر اپنے کنوو¿ں اور کھیتوں، کھلیانوں کی طرف نکل جاتے تھے۔ وہاں قریب ہی کَسیاں، ٹبے ٹیلے تھے جن میں سے بارش کا پانی ایک چھوٹے سے نالے یا ندی کی صورت میں بہہ کر آ رہا ہوتا، اس پانی جس میں درختوں کی کانٹے دار، شاخیں اور سرکنڈ کے ٹکڑے وغیرہ بھی بہہ کر آ رہے ہوتے میںہم چھلانگیں مارتے، نہاتے اور پانی کے ساتھ بہتے آگے تک چلے جاتے۔ بچپن اور لڑکپن کے کتنے سال تک ہمارا یہ معمول رہا۔ اس کو یاد کروں تو کیسے یہ ہو سکتا ہے کہ میں کہوں کہ مون سون بارشیں رحمت نہیں زحمت بن گئی ہیں، بالکل نہیں۔

ٹیگز: