2022 میں پاکستان نے ایک ایسا مون سون سیزن دیکھا جو تاریخ کا شدید ترین شمار ہوتا ہے۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات اور اقوامِ متحدہ کے ذیلی اداروں کے مطابق اْس سال جون سے لے کر اکتوبر تک معمول سے تین گنا زیادہ بارشیں ہوئیں، جنہوں نے ملک کے ایک تہائی حصے کو زیرِ آب کر دیا۔ اقوام متحدہ کے ہنگامی جائزے کے مطابق ان بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں تقریباً 1,760 افراد جاں بحق ہوئے، 33 ملین افراد بے گھر ہوئے اور معیشت کو 40 ارب امریکی ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا۔ سندھ اور بلوچستان میں اگست کے مہینے میں 784 فیصد اور 500 فیصد معمول سے زیادہ بارشیں ریکارڈ ہوئیں جبکہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کے پگھلنے کے باعث سیلابی کیفیت دہری ہو گئی۔یہ صورتحال میرے لیے صرف ایک قومی بحران نہ تھی، بلکہ ذاتی آزمائش کا وقت بھی تھی۔ انہی دنوں میری والدہ کو لیور کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور لاہور جیسے شہر میں ہسپتال تک پہنچنا کسی مہم سے کم نہ تھا۔ آشیانہ روڈ ابھی بنی نہیں تھی اور بارش کے باعث سڑک ندی نالے میں بدل چکی تھی، جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کی وجہ سے ایمبولینس بار بار رْکتی اور اتفاق ہسپتال کے باہر بھی یہی صورتحال تھی۔ ہر ایک سیکنڈ کی تاخیر زندگی کے امکان کو مزید کم کر دیتی محسوس ہوتی تھی۔ مون سون صرف موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک مکمل انسانی اور معاشرتی بحران بن چکا تھا۔
تین برس بعد، یعنی 2025 میں، ایک بار پھر موسمیاتی خطرہ دروازے پر کھڑا ہے۔ مئی اور جون میں ہونے والی قبل از وقت بارشوں نے خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، اور کشمیر میں شدید لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں کے طغیانی اور شہری اموات کا پیش خیمہ ثابت ہونا شروع کر دیا ہے۔ صرف جون کے مہینے میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں 46 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں بچے، بوڑھے اور سکول جانے والے طلبا شامل ہیں۔ لاہور، ملتان اور کراچی میں نکاسیٔ آب کا نظام بدستور تباہ حال ہے۔ جب کہ مون سون ابھی باقاعدہ شروع بھی نہیں ہوا، اس وقت تک محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق اس سال کے مون سون میں پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے
نشیبی علاقوں میں شدید بارشوں باعث سیلاب کے امکانات ہیں۔عالمی ادارے اس شدت کی ایک بڑی وجہ ماحولیاتی تبدیلی، یعنی عالمی حدت میں اضافے کو قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کے گلیشیئرز دنیا میں تیسرے بڑے برفانی ذخیرے میں شمار ہوتے ہیں، مگر ان کے پگھلنے کی رفتار میں 2010 کے بعد سے 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ جب درجہ حرارت بڑھتا ہے، ہوا زیادہ نمی جذب کرتی ہے اور پھر یہ نمی مون سون کے دوران ایک ساتھ برستی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف شہر ڈوبتے ہیں بلکہ زرعی زمینیں بھی برباد ہو جاتی ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستان اْن دس ممالک میں شامل ہے جنہیں ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ خطرہ ہے حالانکہ اس کا دنیا کے مجموعی کاربن اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
اس بحران کا سب سے برا اثر ہماری خوراک پر پڑا ہے۔ گندم، چاول، مکئی، کپاس، دالیں، سبزیاں اور پھل سبھی کسی نہ کسی مرحلے پر متاثر ہو رہے ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافہ اور بارشوں کے بدلتے ہوئے پیٹرن کی وجہ سے فصلیں وقت سے پہلے تیار ہو جاتی ہیں یا مکمل نہیں ہو پاتیں۔ ایک جامع تحقیق کے مطابق جب بارش معمول سے زیادہ یا کم ہو جائے، تو پیداوار میں 15 سے 25 فیصد تک کمی آ جاتی ہے۔ گندم جیسی فصل جو سرد موسم میں بہتر نشوونما پاتی ہے، اب گرم دنوں کے سبب قبل از وقت پکنے لگتی ہے، جس سے دانے کا سائز چھوٹا، غذائیت کم اور پیداوار گھٹ جاتی ہے۔پھل اور سبزیاں جو کسی زمانے میں ذائقے کا نشان تھیں، اب محض شکل کا دھوکہ بن چکی ہیں۔ آم جو جون کے وسط میں اپنے ذائقے کی بلندی پر ہوتے تھے، اب مئی کے آخر میں ہی بازاروں میں آ جاتے ہیں، مگر یا تو کچے ہوتے ہیں یا ذائقے سے خالی۔ تربوز پھٹنے لگے ہیں، ٹماٹر میں کھٹاس کم اور پانی زیادہ، پالک میں مٹی کی بو اور آلو میں نمی کی زیادتی محسوس ہونے لگی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ بدلتے ہوئے موسموں نے ان کی فطری نشوونما کا نظام بھی بگاڑ دیا ہے۔ کسان مجبور ہو چکے ہیں کہ وہ ان پھلوں کو وقت سے پہلے تیار کرنے کے لیے کیمیکل انجیکشنز، اسپرے اور مصنوعی پکانے والے کاربائیڈ کیپسولز استعمال کریں۔ نتیجہ یہ ہے کہ نہ صرف ذائقہ ختم ہو رہا ہے بلکہ ان مصنوعات کے ذریعے انسانی جسم میں زہریلے کیمیکلز داخل ہو رہے ہیں۔ یہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ خوراک نہ صرف ذائقے سے محروم ہے بلکہ انسانی جسم کے اہم اعضا کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ مصنوعی طریقوں سے پکائی گئی سبزیاں اور پھل جگر اور گردوں پر زہریلا اثر ڈالتے ہیں، جب کہ غذائیت کی کمی دماغی نشوونما، خون کی کمی، ہڈیوں کی کمزوری اور دل کی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ ناقص خوراک آنتوں میں سوزش، جلدی امراض اور ذہنی دباؤ کا سبب بن رہی ہے، جس سے نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت بھی زوال کا شکار ہو رہی ہے۔
فوڈ سکیورٹی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ان شدید موسمی حالات کے باعث چھوٹے کسان زمینیں چھوڑ رہے ہیں۔ جب بارش فصل کو خراب کر دے، جب منڈی میں دام نہ ملے، جب بجلی اور ایندھن مہنگا ہو، تو کسان ہار مان لیتا ہے۔ نتیجتاً ہم شہروں میں سجی ہوئی سبزیوں اور پھلوں کو دیکھ کر ان کی اصل قیمت اور کسان کی محنت نہیں سمجھ پاتے۔ وہ قیمت جو ایک کسان نے اپنی زمین، پسینہ، فصل اور صحت سے ادا کی ہوتی ہے۔صرف ذائقے اور مقدار ہی نہیں، بلکہ غذائیت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ایک تحقیقی جائزہ بتاتا ہے کہ جب فصلیں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی زیادتی میں اگتی ہیں تو ان میں پروٹین، آئرن اور زنک کی شرح کم ہو جاتی ہے۔ یعنی ایک ایسا معاشرہ جو پہلے ہی غذائی قلت کا شکار ہے، مزید کمزور ہو رہا ہے۔ بچے سست اور کمزور پیدا ہو رہے ہیں، خواتین میں خون کی کمی بڑھ رہی ہے اور ذہنی نشوونما پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔مسئلہ صرف کسان یا صارف کا نہیں، بلکہ ریاست کا ہے۔ اگر وفاقی اور صوبائی سطح پر موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی کوئی جامع پالیسی نہ بنی، اگر زراعت کو جدید ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی نظام کے مطابق نہ ڈھالا گیا، تو پاکستان کا زرعی مستقبل شدید خطرے میں ہے۔ یہ وقت صرف موسمیاتی کانفرنسوں میں شرکت کا نہیں بلکہ زمینی تبدیلیاں لانے کا ہے۔یہ سوال ہم سب کے لیے ہے کہ کیا ہم آنے والی نسل کو ایسا پاکستان دینا چاہتے ہیں جہاں بارش تباہی بن جائے، جہاں پھل صرف دکھانے کی چیز ہوں، جہاں سبزیوں میں ذائقہ نہیں، اور جہاں فصلیں بیمار ہوں؟ اگر نہیں، تو ہمیں ابھی فیصلہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ مونسون اب صرف موسم نہیں رہا، یہ ہمارے طرزِ زندگی کا امتحان بن چکا ہے۔