Wed, September 16, 2026

رحمت کو زحمت ہم نے بنایا

رحمت کو زحمت ہم نے بنایا


بارش کا تصور ذہن میں آتے ہی انسان کے دل میں خوشی دوڑ جاتی ہے۔ بوندوں کی ٹپ ٹپ، مٹی کی خوشبو اور زمین کا تر ہونا قدرت کی انمول نعمتیں ہیں۔ بارش ہمیشہ سے انسانی زندگی کے لیے رحمت رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں یہی بارش کیوں آفت بن جاتی ہے؟ کھیتوں کے لیے آبِ حیات، شہروں میں زندگی کو مفلوج کر دیتی ہے۔ سڑکیں ندی نالے بن جاتی ہیں، بیماریاں پھیلتی ہیں اور اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قصوروار بارش نہیں، ہم خود ہیں۔ غفلت، بدانتظامی اور خودغرضی نے رحمت کو زحمت بنا دیا ہے۔

کراچی کی مثال سامنے ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا شہر بارش کے چند گھنٹوں بعد مسائل زدہ دنیا کا منظر پیش کرتا ہے۔ نالے جو کبھی سمندر تک پانی لے جاتے تھے، آج کچرے کے ڈھیروں سے بھرے ہیں۔ ان پر مکانات و پلازے کھڑے ہیں۔ پانی کے راستے بند ہیں، نتیجہ یہ کہ بارش گھروں اور بازاروں میں داخل ہو کر تباہی مچاتی ہے۔ 2020 کی بارشیں یاد ہیں جب بڑے علاقے کئی دن زیرِ آب رہے، کاروبار بند، بیماریاں عام اور افراتفری ہر طرف۔ یہ بارش کی خرابی نہیں بلکہ ہماری بدانتظامی تھی۔

لاہور بھی اسی حال میں ہے۔ برساتی نالوں پر قبضے عام ہیں۔ چند گھنٹوں کی بارش اور مال روڈ سے ایم ایم عالم تک پانی ہی پانی۔ واسا کے پمپ کام کرتے ہیں مگر آبادی کے بوجھ اور تجاوزات نے نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔ اسلام آباد، پشاور، فیصل آباد اور ملتان سب ایک ہی کہانی سناتے ہیں: نالے بند، قدرتی بہاؤ روکا گیا اور ناقص منصوبہ بندی نے زندگی اذیت ناک بنا دی ہے۔

اصل مسئلہ ہماری سوچ ہے۔ ہم نے بارش کو ہمیشہ عذاب سمجھا، اس سے فائدہ اٹھانے کی کبھی کوشش نہ کی۔ دنیا نے بارش کے پانی کو ذخیرہ کیا، توانائی پیدا کی، زیر زمین پانی بلند کیا، شہروں کو سہولت دی۔ ہم نے صرف یہ کیا کہ نالوں کو کوڑے دان بنایا اور پانی کے راستے بیچ ڈالے۔ پھر بارش آتے ہی حکومت کو کوسنے شروع کر دیے۔

یاد کیجیے، ماضی میں بڑے سیلاب دریاؤں کے کناروں پر آتے تھے۔ شہروں کی آبادی کم اور قدرتی راستے کھلے تھے اس لیے شہری علاقے نسبتاً محفوظ تھے۔ پھر شہروں کی توسیع اور دیہی ہجرت نے سب بدل دیا۔ نالے، برساتی گزرگاہیں اور دریا کنارے قبضوں کی نذر ہو گئے۔

کلائمیٹ چینج نے مسئلہ اور بڑھا دیا۔ بارشوں کا نظام غیر متوازن ہو گیا ہے۔ کبھی کئی ماہ تک بارش نہیں ہوتی اور کبھی چند دنوں میں مہینوں جتنی بارش برستی ہے۔ ایسے میں جب انفراسٹرکچر پہلے ہی ناکارہ ہو تو نتیجہ شہری سیلاب ہے۔ اس کے اثرات صرف گھروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ کاروبار، صنعت، تعلیم اور صحت سب متاثر ہوتے ہیں۔ اسکول بند، ٹرانسپورٹ مفلوج اور ہسپتال مریضوں سے بھر جاتے ہیں۔

بارش کے بعد بیماریوں کا پھیلاؤ بھی سنگین مسئلہ ہے۔ کھڑا پانی مچھر کی افزائش کا سبب بنتا ہے، ڈینگی اور ملیریا بڑھتے ہیں۔ گندہ پانی پینے کے صاف پانی میں مل کر ہیضہ اور دیگر امراض پیدا کرتا ہے۔ یوں یہ بحران صرف انفراسٹرکچر کا نہیں بلکہ انسانی صحت کا بھی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہمیشہ بارش سے بھاگتے رہیں گے یا اسے نعمت بنا سکیں گے؟ حل ممکن ہے لیکن سوچ اور عمل بدلنے ہوں گے۔ سب سے پہلے ماننا ہوگا کہ قصور صرف حکومت کا نہیں، عوام بھی شریکِ جرم ہیں۔ نالوں میں کچرا کون ڈالتا ہے؟ تجاوزات کون کرتا ہے؟ قوانین کی خلاف ورزی کون کرتا ہے؟ یہ سب ہم ہی ہیں۔ جب تک عوام رویہ نہیں بدلیں گے، کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا۔

دوسرا حل یہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنایا جائے۔ کچرا، نالوں کی صفائی اور بارش کے پانی کا انتظام مقامی ادارے بہتر کر سکتے ہیں، مگر ہمارے ہاں بلدیاتی نظام کبھی مستقل نہیں رہا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر بارش کے بعد صوبائی و وفاقی حکومتیں دوڑتی ہیں لیکن معاملہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

تیسری چیز بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا نظام ہے۔ پاکستان پہلے ہی پانی کی قلت کا شکار ہے۔ ایسے میں آسمان سے برسنے والا کروڑوں گیلن پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ کیوں نہ اسے مصنوعی جھیلوں، تالابوں اور زیر زمین ذخائر میں جمع کیا جائے؟ دنیا یہ کر رہی ہے تو ہم کیوں نہیں؟

کامیاب ماڈلز سامنے ہیں۔ جاپان نے زیر زمین سرنگیں بنا رکھی ہیں۔ چین نے “سپنج سٹی” پروگرام بنایا ہے جس میں سڑکیں اور عمارتیں پانی جذب کر لیتی ہیں۔ سنگاپور نے ذخائر بنا کر بارش کے پانی کو پینے کے قابل بنایا ہے۔ وہاں بارش سہولت ہے، عذاب نہیں۔

پاکستان اگر چاہے تو ان ماڈلز سے فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر اس کے لیے سیاسی عزم اور مستقل منصوبہ بندی چاہیے۔ افسوس کہ ہم نے ہمیشہ وقتی اقدامات کیے۔ ایک سال نالے صاف کر دیے، اگلے سال سب بھول گئے۔ یہ مسئلہ وقتی نہیں، مستقل حل مانگتا ہے۔

عوامی شعور بھی ضروری ہے۔ عوام کو سمجھانا ہوگا کہ نالوں میں کچرا ڈال کر وہ اپنے ہی گھروں کو ڈبوتے ہیں۔ تجاوزات قائم کر کے خود آفت کو دعوت دیتے ہیں۔ اگر عوام تعاون نہ کریں تو اربوں روپے کے منصوبے بھی ناکام ہوں گے۔ تعلیمی ادارے اور میڈیا اس شعور کو عام کر سکتے ہیں کہ بارش کو رحمت کیسے بنایا جا سکتا ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم ہمیشہ بارش کو بددعائیں دیتے رہیں گے؟ بارش تو قدرت کا تحفہ ہے۔ کھیتوں کو سیراب کرتی ہے، جانوروں کو پانی دیتی ہے، زیر زمین پانی بلند کرتی ہے۔ اصل مسئلہ بارش نہیں، ہم ہیں۔ ہم نے اپنی غفلت اور لاپرواہی سے رحمت کو زحمت بنا دیا ہے۔

اب بھی وقت ہے۔ اگر شہروں کے سانس لینے کے راستے نہ کھولے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وہ کہیں گی کہ ایک قوم تھی جسے بارش برداشت نہ ہوئی، جس نے اپنی ہی بنائی ہوئی زحمت میں ڈوب کر خود کو برباد کیا۔

رحمت کو زحمت ہم نے بنایا ہے۔ لیکن اگر چاہیں تو یہی بارش زندگی، خوشحالی اور سکون کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ فرق صرف رویے اور فیصلے کا ہے۔
مجھے پنجابی شاعر نوید اقبال چیمہ کے اشعار یاد رہے ہیں جن میں لوگوں روئیے اور انسانوں کے ساتھ ساتھ ہر شے کی بے ثباتی دیکھی۔
غرق ہو گئیں بستیوں کی بستیاں
رزق آب ہو گئیں کیسی کیسی ہستیاں
تا حدِ نگاہ بے گور و کفن لاشیں
نہ قبروں کے نشاں کوئی نہ وہ بستیاں
ایک طرف بھوک افلاس شام الم
ایک طرف ان حکمرانوں کی وہی مستیاں
منہ چڑا رہی ہیں ان ستم زدوں کا
اُجڑے راستوں پر لگی ان کی تختیاں
خالی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں آسماں کو
نہ وہ گھر رہے نہ وہ گرہستیاں
(چودھری نوید اقبال چیمہ)

ٹیگز: