Wed, September 16, 2026

بھارتی سکیورٹی اداروں کی ساکھ خاک میں: حاضر سروس فوجی 'نارکو ٹیرر' نیٹ ورک کا اہم مہرہ نکلا

بھارتی سکیورٹی اداروں کی ساکھ خاک میں: حاضر سروس فوجی 'نارکو ٹیرر' نیٹ ورک کا اہم مہرہ نکلا

نئی دہلی/فریدکوٹ : مودی حکومت کے بلند بانگ دعووں کے برعکس، بھارتی فوج اور پولیس کا ایک منظم گینگ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث پایا گیا ہے۔ بھارتی جریدے "دی ہندو" نے انکشاف کیا ہے کہ فریدکوٹ پولیس نے ایک بڑی کارروائی میں حاضر سروس فوجی اہلکار اور برطرف پولیس افسر سمیت 6 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق، یہ گروہ انتہائی شاطرانہ طریقے سے اپنا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ اس گروہ کی خاص بات سیکیورٹی اداروں کے کارڈز کا استعمال تھی۔    جرنیل سنگھ (حاضر سروس بھارتی فوجی) اور امر دیپ سنگھ (سابق پولیس اہلکار) ناکوں اور ٹول پلازوں پر اپنی سرکاری شناخت دکھا کر تلاشی سے بچ نکلتے تھے۔
    ملزمان نے اپنی گاڑیوں پر سرکاری اسٹیکرز لگا رکھے تھے تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں معزز شہری یا ڈیوٹی پر مامور اہلکار سمجھ کر جانے دیں۔گرفتار ملزمان میں دو خواتین بھی شامل ہیں جن کا کام سمگلنگ کے دوران گاڑی میں بیٹھ کر اسے ایک 'فیملی ٹرپ' کا رنگ دینا تھا تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 4.8 کلو گرام ہیروئن، اسلحہ اور دو مہنگی گاڑیاں برآمد کی ہیں جو منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گروہ جیلوں میں بند جرائم پیشہ افراد اور بیرونِ ملک بیٹھے اسمگلرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا۔ برآمد شدہ ہیروئن کے پیکٹوں پر لگے ہکس (Hooks) اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ منشیات ڈرونز کے ذریعے حاصل کی گئی تھی۔
اس اسکینڈل نے بھارتی فوج کے نظم و ضبط کا پول کھول دیا ہے۔ عوامی اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ مودی کی زیرِ سرپرستی چلنے والے اداروں میں کرپشن اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ حاضر سروس اہلکار اب ملک کے نوجوانوں کی رگوں میں زہر گھولنے والے گروہوں کا حصہ بن چکے ہیں۔

ٹیگز: