گذشتہ ہفتہ سپریم کورٹ نے نو مئی کے مقدمات کی سماعت کرنے والی ماتحت عدلیہ کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ نو مئی کے تمام مقدمات کا فیصلہ چار مہینے میں کر دیں ۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کچھ حلقوں میں صف ماتم بچھ گئی ہے ۔ نو مئی 2023کو عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ملک گیر احتجاج ہوا لیکن یہ طرز احتجاج ماضی سے کچھ الگ ہی تھا اور سیاسی جماعتیں عام طور پر جن مقامات پر احتجاج کرتی تھیں ان کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے پورے ملک میں صرف دفاعی تنصیبات پر احتجاج کیا گیا یا یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ صرف دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنا گیا ۔ وہاں جلائو گھیرائو توڑ پھوڑ کی گئی اور اس کے بعد لوٹ مار بھی کی گئی ۔ اس دوران شہداء کے مجسموں کو بھی توڑ کر پوری قوم اور خصوصاََ شہداء کے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی ۔ ان تمام واقعات کی وڈیوز موجود ہیں اور انھیں ٹی وی سکرینوں پر کروڑوں لوگوں نے بارہا دیکھا ہے اور ان وڈیوز کے علاوہ ان واقعات کی منصوبہ بندی کرنے کی آڈیوز بھی موجود ہیں لیکن نا قابل تردید شواہد کی موجووگی کے باوجود بھی تحریک انصاف کی جانب سے ایک بیانیہ بنایا گیا کہ سی سی ٹی وی وڈیوز کو سامنے لایا جائے ۔ جب یہ مطالبہ کیا گیا تو حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ ساری وڈیوز اس میں شامل ہیں لیکن تحریک انصاف ان تمام شواہد اور حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے سی سی ٹی وی وڈیوز کا کہتی رہی اور ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ اگر ان وڈیوز سے ہٹ کر کوئی اور سی سی ٹی وی وڈیوز موجود ہیں تو کیا ان میں حسان نیازی جو کور کمانڈر لاہور کی پتلون ہوا میں لہرا رہا ہے اسکی جگہ کوئی اور بندہ آ جائے گا یا کور کمانڈر لاہور یا پورے ملک میں جن جن دفاعی تنصیبات پر تحریک انصاف کے رہنما موجود تھے ان کو سلیمانی ٹوپی پہنا کر غائب کر دیا گیا ہو گا لیکن اصل بات سی سی ٹی وی وڈیوز کی نہیں تھی بلکہ ہم خیال ججز کی موجودگی میں معاملے کو ’’ رولے ‘‘ میں ڈالنا تھا ۔
اب ایک طرف نو مئی کے کیسز عدالتوں میں تھے جن پر کبھی حکم امتناعی لیا جاتا تھا اور کبھی تاخیری ہتھکنڈوں سے تاریخ پر تاریخ لی جاتی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تحریک انصاف ٹی وی اسکرینوں پر بیٹھ کر کہتی اور ہم خیال صحافی حکومتی وزیروں مشیروں سے سوالات کرتے کہ جناب تحریک انصاف نو مئی کے واقعات میں اگر ملوث ہیں اور اس کے خلاف شواہد موجود ہیں تو عدالتیں ان کے خلاف فیصلے کیوں نہیں کرتیں اور اس پر طرہ یہ کہ کچھ ایسے خواتین و حضرات کہ جن کی وڈیوز آج بھی یوٹیوب پر موجود ہیں کہ کس طرح وہ نو مئی کو دندناتے ہوئے دفاعی تنصیبات پر نہ صرف یہ کہ خود جا رہے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ جانے کے لئے کہہ رہے ہیں ان کو عدالتوں سے ضمانتیں بھی مل گئی ۔ اندازہ کریں کہ پندرہ دن بعد ان واقعات کو دو سال ہو جائیں گے لیکن سول عدالتوں سے ابھی تک ان مقدمات میں سے کسی کا فیصلہ نہیں ہوا اور اسی بات کو بنیاد بنا کر میڈیا پر تحریک انصاف والے ببانگ دھل حکومتی ارکان کے لتے لیتے تھے کہ اگر شواہد ہیں تو عدالتیں ان کے خلاف فیصلہ کیوں نہیں کرتیں۔ اس صورت حال میں گذشتہ ہفتے جب سپریم کورٹ نے ماتحت عدلیہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں جن میں یہ کیسز چل رہے ہیں انھیں ہدایت جاری کی ہے کہ ان کیسز کے فیصلے چار ماہ میں کئے جائیں۔ یہ چار ماہ 21اگست کو پورے ہو رہے ہیںلیکن وہی لوگ کہ جو کہتے تھے کہ اگر تحریک انصاف نو مئی کے واقعات میں ملوث ہے تو ان کے خلاف فیصلے کیوں نہیں ہو رہے اب جب فیصلے ہونے کے امکانات نظر آنا شروع ہوئے ہیں تو صف ماتم بچھ گئی ہے اور ہر طرف سے واویلا ہو رہا ہے کہ یہ کیا ہو گیا اور حسب روایت جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں بھی جھوٹ کا سہارا لیا جا رہا ہے ۔ شیخ رشید کہتے ہیں کہ 36ہزار مقدمات کا فیصلہ چار ماہ میں کیسے ممکن ہے ۔ یہ بیان ہی در حقیقت سفید جھوٹ ہے اس لئے کہ نو مئی کے جو مقدمات عدالتوں میں ہیں وہ کل 339ہیں اور پھر یہ کس نے کہہ دیا کہ چار ماہ میں فیصلہ ہونا ہے اس لئے کہ گذشتہ دو سال کا جو وقت ہے کیا وہ شامل نہیں ہو گا۔
بجائے اس کے کہ اس پر واویلا ڈالا جائے اس کے بر عکس یہ تو تحریک انصاف کے لئے ایک انتہائی سنہری موقع ہے کہ قارئین کو یاد ہو گا کہ بانی پی ٹی آئی اپنی گرفتاری سے پہلے جب ہر روز قوم سے خطاب کرتے تھے تو اس میں وہ کہا کرتے تھے کہ ان کے پاس اپنی بے گناہی کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں تو اب وہ وقت آ گیا ہے کہ وہ ان ٹھوس ثبوتوں کو عدالتوں میں پیش کریں اور صرف عدالتوں میں ہی پیش نہ کریں بلکہ انھیں میڈیا کے سامنے بھی پیش کریں تاکہ اس حوالے سے ایک تو ابہام دور ہو حالانکہ ابہام کوئی نہیں ہے اور دوسرے عوام کو بھی پتا چلے کہ حکومت جنھیں مجرم کہہ رہی ہے اگر وہ مجرم نہیں ہیں تو پھر ان اصل واقعات میں ملوث کردار کون ہیں لیکن لکھ لیں کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا اس لئے کہ یہ صرف پروپیگنڈا تھا جس میں تحریک انصاف ماہر ہے ۔ پاکستانی سیاست میں نو مئی ایک اہم ترین واقعہ ہے اور اس سے جڑے حالات و واقعات اب منطقی انجام کی طرف جا رہے ہیں اور ایک جانب جنرل فیض اور دوسری جانب سول عدالتوں کے فیصلے بہت سے دھندلے مناظر میں شفافیت لے آئیں گے ۔