Wed, September 16, 2026

پانچ مزید یورپی ممالک نے فلسطین کو تسلیم کر لیا، عالمی حمایت 80 فیصد سے تجاوز کر گئی

پانچ مزید یورپی ممالک نے فلسطین کو تسلیم کر لیا، عالمی حمایت 80 فیصد سے تجاوز کر گئی

نیو یارک : فلسطین کے حق میں عالمی حمایت میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پانچ مزید یورپی ممالک نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان ممالک میں بیلجیئم، لکسمبرگ، مالٹا، موناکو اور اینڈورا شامل ہیں۔ اس اقدام کے بعد فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد بڑھ کر 147 ہو گئی ہے، جو اقوام متحدہ کے کل رکن ممالک کا تقریباً 80 فیصد بنتی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے یورپی رہنماؤں نے دو ریاستی حل پر زور دیا اور اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کی ضرورت پر بات کی۔ بیلجیئم کے وزیراعظم نے کہا کہ غزہ تک انسانی رسائی یقینی بنائی جائے، جبکہ لکسمبرگ کے وزیراعظم نے دو ریاستی حل کو امن کا واحد راستہ قرار دیا۔ مالٹا کے وزیراعظم نے واضح کیا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا کسی شدت پسند تنظیم کی حمایت نہیں، بلکہ عالمی امن کی کوشش ہے۔

ادھر کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے فلسطینی ریاست کے ساتھ مستقبل کی شراکت داری کا اعلان کیا اور اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر اور غزہ میں حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 65 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہیں اور پورا علاقہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔

اس پیش رفت پر اسرائیل اور امریکہ نے شدید ردعمل دیا ہے۔ دونوں ممالک نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ اسرائیلی مندوب نے اجلاس کو "تماشہ" قرار دیا جبکہ امریکی حکومت نے فلسطین کی حمایت کو "حماس کو انعام دینے" کے مترادف قرار دیا۔ امریکہ نے سلامتی کونسل میں ویٹو پاور استعمال کرنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ فلسطین کی مکمل رکنیت روکی جا سکے۔

یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ یہ اقدام محض علامتی نہیں بلکہ عملی دباؤ کا حصہ ہے تاکہ فلسطینیوں کے لیے انصاف اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔

ٹیگز: