Wed, September 16, 2026

امریکہ ایران بریک تھرو: مشرقِ وسطیٰ کے ’حتمی حل‘ کے لیے مذاکرات، تہران پر حملے 5 دن کے لیے مؤخر

امریکہ ایران بریک تھرو: مشرقِ وسطیٰ کے ’حتمی حل‘ کے لیے مذاکرات، تہران پر حملے 5 دن کے لیے مؤخر

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر ممکنہ حملوں کو پانچ روز کے لیے روکنے کا حکم دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے مستقل خاتمے کے لیے "انتہائی گہری اور تعمیری" گفتگو کا آغاز ہو چکا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی حالیہ بات چیت کے نتائج انتہائی حوصلہ کن رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات محض عارضی نہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کے مکمل اور حتمی حل کے لیے ہیں۔
 صدر نے محکمہ جنگ کو باقاعدہ ہدایت جاری کر دی ہے کہ ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کو فی الحال 5 روز کے لیے التوا میں ڈال دیا جائے۔ یہ مذاکرات رواں پورے ہفتے جاری رہیں گے، جس کا مقصد ایک ایسا جامع فریم ورک تیار کرنا ہے جس سے خطے میں جاری جنگی صورتحال کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
 صدر ٹرمپ نے پرامید لہجے میں کہا کہ مذاکرات اور ملاقاتوں کا یہ سلسلہ مثبت نتائج پر ختم ہوگا، جو عالمی امن کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ اقدام ان کی "پریشر اور ڈیل" کی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جہاں ایک طرف حملوں کی دھمکی موجود ہے اور دوسری طرف مذاکرات کی میز پر بڑی رعایتیں دی جا رہی ہیں۔

ٹیگز: